سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 684
Sunan Ibn Majah 684
کتاب #3: کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
6: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کی محافظت۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: " مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا : ” اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ ( عصر کی نماز ) کی ادائیگی سے باز رکھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 684]
💡 وضاحت:
۱؎: تو معلوم ہوا کہ عصر کی نماز بھی نماز ہے، اور قرآن شریف میں ہر فریضہ نماز پر محافظت کرنے کا حکم دیا خصوصاً نماز وسطی پر، تو عصر کی محافظت کی زیادہ تاکید نکلی، اور نماز وسطی میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے کہ وہ عصر کی نماز ہے، اور یہی مختار ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 110093)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الجہاد 98 (2931)، المغازي 29 (4111)، تفسیرالبقرہ (4533)، الدعوات 5 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (627)، 36 (627)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (409)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2984)، سنن النسائی/الصلاة 15 (474)، حم1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 151، 152، 153، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1268) (حسن صحیح)