سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 682
Sunan Ibn Majah 682
کتاب #3: کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
5: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کا وقت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا ، چنانچہ ( نماز پڑھ کر ) کوئی شخص عوالی ۱؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 682]
💡 وضاحت:
۱؎: مدینہ کے جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن ابی داود/ الصلاة 5 (404)، سنن النسائی/المواقیت 7 (508)، (تحفة الأشراف: 1522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 13 (550)، الاعتصام 16 (7329)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (11)، مسند احمد (3/223)، سنن الدارمی/الصلاة 15 (1244) (صحیح)