سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 701
Sunan Ibn Majah 701
کتاب #3: کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
12: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا
باب: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء دیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے ، اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 701]
💡 وضاحت:
۱؎: عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے، بعضوں نے اس کی اجازت دی ہے، امام نووی نے کہا ہے کہ اگر نیند کا غلبہ ہو، اور نماز کی قضا کا اندیشہ نہ ہو تو سونے میں کوئی حرج نہیں، نیز بات چیت سے مراد لایعنی بات چیت ہے جس سے دنیا اور آخرت کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، سنن الترمذی/الصلاة 11 (168)، 20 (529)، (تحفة الأشراف: 11606)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 40 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، الأدب 27 (4849)، سنن النسائی/المواقیت 1 (496)، 16 (526)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 139 (1469) (صحیح)