سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 672
Sunan Ibn Majah 672
کتاب #3: کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
2: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: نماز فجر کا وقت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، وَجَدُّهُ بَدْرِيٌّ يُخْبِرُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ، أَوْ لِأَجْرِكُمْ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح کو اچھی طرح روشن کر لیا کرو ، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 672]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اتنا اجالا ہو جانے دو کہ طلوع فجر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ) میں لکھتے ہیں کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مسجدوں کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی نماز خوب لمبی پڑھو، تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے، جیسا کہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہنچان لیتا اس طرح اس میں اور «غلس» والی روایتوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں رہ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 8 (424)، سنن الترمذی/الصلاة 3 (154)، سنن النسائی/المواقیت 26 (549)، (تحفة الأشراف: 3582) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/460، 465، 4/140، 142، 5/429)، سنن الدارمی/الصلاة 21 (1253) (حسن صحیح)