سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 669
Sunan Ibn Majah 669
کتاب #3: کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
2: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: نماز فجر کا وقت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ تَعْنِي: مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں ، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں ، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا ، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 669]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہئے، اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی طریقہ تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن النسائی/المواقیت 24 (547)، (تحفة الأشراف: 16442)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 13 (372)، المواقیت 27 (578)، الأذان 163 (767)، 165 (872)، سنن ابی داود/الصلاة 8 (423)، سنن الترمذی/الصلاة 2 (153)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (4)، مسند احمد (6/33، 36، 179، 248، 259)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)