📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: اوقات نماز کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 667 Sunan Ibn Majah 667
کتاب #3: کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ
باب: اوقات نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَر َبِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” آنے والے دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو ، چنانچہ ( پہلے دن ) جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اذان دی ، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی ۱؎ ، پھر ان کو حکم دیا ، انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی ، اس وقت سورج بلند ، صاف اور چمکدار تھا ۲؎ ، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی ، پھر جب شفق ۳؎ غائب ہو گئی تو انہیں حکم دیا ، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی ، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا ، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی ، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا ، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی ، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا ( یعنی تاخیر کی ) ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا ، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی ، پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی ، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اجالے میں پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ “ ، اس آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری نماز کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 667]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلے روز سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دلوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا اول وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی ۳؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے، اور عشاء سے ذرا پہلے تک برقرار رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسا جد 31 (613)، سنن الترمذی/الصلا ة 1 (152)، سنن النسائی/المو اقیت 12 (520)، (تحفة الأشراف: 1931)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/349) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #667
665 666 667 668 669

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#668 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَا...
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت عمر بن عبدالعزیز مد...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ