أبواب السلام
ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
|
143: باب فِي إِفْشَاءِ السَّلاَمِ
باب: سلام کو عام کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے: تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم (کامل) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو: آپس میں سلام کو عام کرو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5193]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (54)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12381)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 22 (54)، سنن الترمذی/الاستئذان 1 (2689)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (68)، مسند احمد (1/165، 2/391) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، " أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5194]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (28) صحيح مسلم (39)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 6 (12)،20 (28)، والاستئذان 9 (6236)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (39)، سنن النسائی/الإیمان 12 (5003)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 1 (3253)، (تحفة الأشراف: 8927)، وقد أخرجہ: حم(2/169) (صحیح)
|
|
|
144: باب كَيْفَ السَّلاَمُ
باب: سلام کس طرح کیا جائے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ , ثُمَّ جَلَسَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ: عِشْرُونَ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ: ثَلَاثُونَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ”السلام علیکم“ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ“ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اس کو بیس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ“ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے تیس نیکیاں ملیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5195]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4644) ¤ أخرجه الترمذي (2689 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الاستئذان 3 (2689)، (تحفة الأشراف: 10874)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/439، 440)، سنن الدارمی/الاستئذان 12 (2682) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , قَالَ: أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ , زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ , فَقَالَ: أَرْبَعُونَ , قَالَ: هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ.
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ“ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5196]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الراوي شك في اتصاله ¤ وللحديث شاھد ضعيف عند البخاري في التاريخ الكبير (1/ 330) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11300) (ضعیف الإسناد) (راوی ابن ابی مریم نے نافع سے سماع میں شک کا اظہار کیا)
|
|
|
145: باب فِي فَضْلِ مَنْ بَدَأَ بِالسَّلاَمِ
باب: سلام میں پہل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي خَالِدٍ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ الْحِمْصِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلَامِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5197]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4646)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4926)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 6 (2694)، مسند احمد (5/254، 261، 264) (صحیح)
|
|
|
146: باب مَنْ أَوْلَى بِالسَّلاَمِ
باب: سلام میں پہل کسے کرنا چاہئے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5198]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6231) ¤ وانظر صحيفة ھمام بن منبه (50)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14794)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 4 (6231)، صحیح مسلم/السلام 1 (2160)، سنن الترمذی/الاستئذان 14 (2703)، مسند احمد (2/314) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ , أَخْبَرَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ , أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي , ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5199]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6233) صحيح مسلم (2160)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الاستئذان 5 (6232)، 6 (6233)، صحیح مسلم/ السلام 1 (2160)، (تحفة الأشراف: 12226)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/325، 510) (صحیح)
|
|
|
147: باب فِي الرَّجُلِ يُفَارِقُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَلْقَاهُ أَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ
باب: کیا (مل کر) جدا ہو جانے والا دوبارہ ملنے پر سلام کرے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ , فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا" , قَالَ مُعَاوِيَةُ: وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے ملے (ان کا آمنا سامنا ہو) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5200]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوفا ومرفوعا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4650) ¤ سند المرفوع صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13793، 15460) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ" أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيَدْخُلُ عُمَرُ؟".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا: اللہ کے رسول! ”السلام عليكم“ کیا عمر اندر آ سکتا ہے ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5201]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت واضح نہیں ہے ممکن ہے کہ اس کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ مؤلف اس باب کے ذریعہ تسلیم کی چار صورتیں بیان کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ملے اور سلام کرے پھر دونوں جدا ہو جائیں اور پھر دوبارہ ملیں تو کیا کریں، اس سلسلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ وہ جب بھی ملیں تو سلام کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے ملے اور اسے سلام کرے پھر وہ اس سے جدا ہو جائے، پھر وہ اس کے گھر پر اس سے ملنے آئے تو اس کے لئے مناسب ہے کہ دوبارہ اسے سلام کرے یہ سلام سلام لقاء نہیں سلام استیٔذان ہو گا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے اس کے گھر ملنے آیا اور اس نے اسے سلام استیٔذان کیا لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور وہ لوٹ گیا، پھر وہ کچھ دیر کے بعد دوبارہ گھر پر ملنے آیا تو مناسب ہے کہ وہ دوبارہ سلام استیٔذان کرے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ آدمی آدمی سے اس کے گھر پر ملنے آیا اور سلام استیٔذان کیا لیکن اسے اجازت نہیں ملی اور وہ لوٹ گیا پھر دوبارہ آیا اور سلام استیٔذان کیا اور اسے اجازت مل گئی تو اندر جا کر وہ پھر سلام کرے اور یہ سلام سلام لقاء ہو گا، دوسری، تیسری اور چوتھی صورت پر مؤلف نے عمر رضی اللہ عنہ کی اسی روایت سے استدلال کیا ہے۔ ابوداود نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے اور امام بخاری نے اسے کتاب انکاح اور کتاب المظالم میں مطوّلاً ذکر کیا ہے جس سے اس روایت کی باب سے مناسبت واضح ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10494) (صحیح)
|
|
|
148: باب فِي السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ
باب: بچوں کو سلام کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ ثَابِتٍ , قَالَ: قَالَ أَنَسٌ" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے بچوں کے پاس آئے جو کھیل رہے تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5202]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ رواه البخاري (6247) ومسلم (2168)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 411)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 15 (6247)، صحیح مسلم/السلام 5 (2168)، سنن الترمذی/الاستئذان 8 (2696)، سنن ابن ماجہ/الأدب 14 (3700)، مسند احمد (3/169)، سنن الدارمی/الاستئذان 8 (2678) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , قَالَ: قَالَ أَنَسٌ" انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ فِي الْغِلْمَانِ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ , أَوْ قَالَ: إِلَى جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5203]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون القعود في الظل
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة، وحديث مسلم (2482) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 639) (صحیح)
|
|
|
149: باب فِي السَّلاَمِ عَلَى النِّسَاءِ
باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , يَقُولُ: أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ ابْنَةُ يَزِيدَ ," مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا".
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5204]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر عورتوں کی جماعت ہے تو انہیں سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عورت اگر اکیلی ہے اور سلام کرنے والا اس کے لئے محرم نہیں ہے تو (فتنہ کے خدشہ نہ ہونے کی صورت میں) سلام نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ فتنہ وغیرہ سے محفوظ رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4647، 4663) ¤ أخرجه ابن ماجه (3701 وسنده حسن) ورواه الترمذي (2697 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الاستئذان 9 (2697)، سنن ابن ماجہ/ الآداب 14 (3701)، (تحفة الأشراف: 15766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/452، 457)، سنن الدارمی/الاستئذان 9 (2679) (صحیح)
|
|
|
150: باب فِي السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: اہل ذمہ (معاہد کافروں) کو سلام کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ , فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ بِصَوَامِعَ فِيهَا نَصَارَى فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ أَبِي: لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ , وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ , فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِِ".
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں (یعنی قافلے والوں) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں (اور ان کے پجاریوں کو) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا: تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے: ”انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو“ (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5205]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2167)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 4 (2167)، (تحفة الأشراف: 12682)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 12 (2700)، مسند احمد (2/346، 459) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ , فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , قال فِيهِ , وَعَلَيْكُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ «السام عليكم» (تمہارے لیے ہلاکت ہو) کہے تو تم اس کے جواب میں «وعليكم» کہہ دیا کرو“ (یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے «وعليكم» ہی کا لفظ روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5206]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح، صحيح بخاري (6257) صحيح مسلم (2164)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7222)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 23 (2657)، واستتابة المرتدین 4 (6928)، صحیح مسلم/السلام 4 (2164)، سنن الترمذی/السیر 41 (1603)، موطا امام مالک/السلام 2 (3)، مسند احمد (2/19)، سنن الدارمی/الاستئذان 7 (2677) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا , فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: قُولُوا وَعَلَيْكُمْ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَائِشَةَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَة يَعْنِي الْغِفَارِيَّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ «وعليكم» کہہ دیا کرو“ ابوداؤد کہتے ہیں: ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5207]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6258، 6024) صحيح مسلم (2163، 2165)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 4 (2163)، (تحفة الأشراف: 1260)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 22 (6257)، استتابة المرتدین 4 (6926)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 58 (3301)، سنن ابن ماجہ/الأدب 13 (3697)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (386، 387)، مسند احمد (3 /99، 212، 218، 222، 273، 277، 309) (صحیح)
|
|
|
151: باب فِي السَّلاَمِ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسِ
باب: مجلس سے اٹھ کر جاتے وقت سلام کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ , فَلْيُسَلِّمْ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ , فَلْيُسَلِّمْ , فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے“ (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5208]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4660) ¤ أخرجه الترمذي (2706 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1008)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الاستئذان 15 (2706)، (تحفة الأشراف: 13038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 439) (حسن)
|
|
|
152: باب كَرَاهِيَةِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلاَمُ
باب: «عليك السلام» کہنے کی کراہیت کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ أَبِي غِفَارٍ , عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ , عَنْ أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ , قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ , فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى".
ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» ”آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول!“ تو آپ نے فرمایا: «عليك السلام» مت کہو کیونکہ «عليك السلام» مردوں کا سلام ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5209]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4084)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2721)،سنن النسائی/الیوم اللیلة (318)، (تحفة الأشراف: 2123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/63) (صحیح)
|
|
|
153: باب مَا جَاءَ فِي رَدِّ الْوَاحِدِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: ایک آدمی کا جواب جماعت کی طرف سے کافی ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: " يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ , وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے)، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو (لوگ چل رہے ہوں) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5210]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اگر سبھی جواب دیں تو یہ افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4648) ¤ وللحديث شاھد عند الطبراني في الكبير (3/ 82، 83 ح 2730 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10231) (صحیح) (الإرواء: 778، الصحیحة: 1148،1412)
|
|
|
154: باب فِي الْمُصَافَحَةِ
باب: مصافحہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بَلْجٍ , عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَكَمِ الْعَنَزِيِّ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَغْفَرَاهُ , غُفِرَ لَهُمَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں ۱؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5211]
💡 وضاحت:
۱؎: مصافحہ صرف ملاقات کے وقت مسنون ہے، سلام کے بعد اور نماز کے بعد، مصافحہ کرنے کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے، یہ بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زيد بن أبي الشعثاء: مجهول (التحرير: 2141) ووثقه ابن حبان وحده ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1761)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی زید لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت حسن ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ , فَيَتَصَافَحَانِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہو جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5212]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2727) ابن ماجه (3703) ¤ أبو إسحاق مدلس وعنعن ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ و روي الإمام أحمد (3/ 142): قال نبي اللّٰه ﷺ: ((ما من مسلمين التقيا فأخذ أحدھما بيد صاحبه إلا كان حقًا علي اللّٰه أن يحضر دعاءھما و لا يفرّق بين أيديھما حتي يغفر لھما)) وسنده حسن وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج دارالدعوہ:
* تخريج: سنن الترمذی/ الاستئذان 31 (2727)، سنن ابن ماجہ/الأدب 15 (3703)، (تحفة الأشراف: 1799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 289، 303) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " لَمَّا جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ , قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ جَاءَكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ , وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5213]
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا أن قوله وهم أول مدرج فيه من قول أنس
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/212، 251) (صحیح) ( وهم أول من ... کا جملہ انس کا اپنا قول مدرج ہے)
|
|
|
155: باب فِي الْمُعَانَقَةِ
باب: معانقہ (گلے ملنے) کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ , أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ: حَيْثُ سُيِّرَ مِنْ الشَّامِ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا , قُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ , هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي , وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي , فَلَمَّا جِئْتُ , أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ لِي , فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ , فَالْتَزَمَنِي , فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ".
قبیلہ عنزہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے جب وہ شام سے واپس لائے گئے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا: وہ راز کی بات نہیں ہے (پوچھنا یہ ہے) کہ جب آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے تو کیا وہ آپ سے مصافحہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میری تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ ہی فرمایا، اور ایک دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، پھر جب میں آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا تھا تو میں آپ کے پاس آیا اس وقت آپ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ نے مجھے چمٹا لیا، یہ بہت اچھا اور بہت عمدہ (طریقہ) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5214]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أيوب بن بشير بن كعب مستور (تق: 604) ورجل من عنزة مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 522/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/163، 167) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
|
|
|
156: باب مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ
باب: استقبال کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ," أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ , أَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ أَقْمَرَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ , فَجَاءَ حَتَّى قَعَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قریظہ کے لوگ سعد کے حکم (فیصلہ) پر اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سردار یا اپنے بہتر شخص کی طرف بڑھو“ پھر وہ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6262) صحيح مسلم (1768)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 168 (3043)، المناقب 12 (3804)، المغازي 31 (4121)، الاستئذان 25 (6262)، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1768)، (تحفة الأشراف: 3960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ: فَلَمَّا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ , قال لِلْأَنْصَارِ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ.
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب وہ مسجد سے قریب ہوئے تو آپ نے انصار سے فرمایا: ”اپنے سردار کی طرف بڑھو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5216]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے قیام تعظیم کی بابت استدلال درست نہیں کیونکہ ترمذی میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت موجود ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے پھر بھی لوگ آپ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ آپ کو یہ چیز پسند نہیں۔ دوسری جانب مسند احمد میں «قوموا إلى سيدكم» کے بعد «فأنزلوه» کا اضافہ ہے جو صحیح ہے اور اس امر میں صریح ہے کہ لوگوں کو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لئے کھڑے ہونے کا جو حکم ملا یہ کھڑا ہونا دراصل سعد رضی اللہ عنہ کو اس زخم کی وجہ سے بڑھ کر اتارنے کے لئے تھا جو تیر کے لگنے سے ہو گیا تھا، نہ کہ یہ قیام تعظیم تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4121) صحيح مسلم (1768)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3960) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , وَابْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ , عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ , عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا , وَقَالَ الْحَسَنُ: حَدِيثًا وَكَلَامًا , وَلَمْ يَذْكُرْ الْحَسَنُ السَّمْتَ وَالْهَدْيَ وَالدَّلَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِنْ فَاطِمَةَ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهَا كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ , قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا , وَقَبَّلَهَا , وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ , وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا , قَامَتْ إِلَيْهِ , فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ , فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے طور طریق اور چال ڈھال میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا (حسن کی روایت میں ”بات چیت میں“ کے الفاظ ہیں، اور حسن نے «سمتا وهديا ودلا» (طور طریق اور چال ڈھال) کا ذکر نہیں کیا ہے) وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی طرف لپکتے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے پاس لپک کر پہنچتیں، آپ کا ہاتھ تھام لیتیں، آپ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5217]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4689)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 61 (3872)، (تحفة الأشراف: 17883، 18040) (صحیح)
|
|
|
157: باب فِي قُبْلَةِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ
باب: آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ , أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَبِّلُ حُسَيْنًا , فَقَالَ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ , مَا فَعَلْتُ هَذَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا“ (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5218]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5997) صحيح مسلم (2118)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 15 (2318)، سنن الترمذی/البر والصلة 12 (1911)، (تحفة الأشراف: 15146)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 17 (5993)، مسند احمد (2/228، 241، 269، 513) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ , وَقَرَأَ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ , فَقَالَ أَبَوَايَ: قُومِي , فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: أَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا إِيَّاكُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے“ اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں (کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں) نہ کہ آپ دونوں کا (کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5219]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ وھذا طرف من حديث الإفك رواه البخاري (2661، 4750) ومسلم (2770)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 16879)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور 6 (4750)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، مسند احمد (6/59) (صحیح)
|
|
|
158: باب فِي قُبْلَةِ مَا بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ
باب: آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ".
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5220]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ السند مرسل كما قال البيهقي (101/7) ¤ وللحديث طرق ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18853) (ضعیف) (شعبی تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
|
|
|
159: باب فِي قُبْلَةِ الْخَدِّ
باب: گال چومنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ إِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ , قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَبَّلَ خَدَّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام".
ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5221]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19493) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ: " دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ , فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ , قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ لَهَا كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5222]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3918) ¤ مشكوة المصابيح (4690)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6588) (صحیح)
|
|
|
160: باب فِي قُبْلَةِ الْيَدِ
باب: ہاتھ چومنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ , وَذَكَرَ قِصَّةً , قَالَ: " فَدَنَوْنَا , يَعْنِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَبَّلْنَا يَدَهُ".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5223]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3704) و تقدم (2647) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم (2647)، (تحفة الأشراف: 7298) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں)
|
|
|
161: باب فِي قُبْلَةِ الْجَسَدِ
باب: جسم کے کسی حصے کو چومنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قال: " يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ , فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ , فَقَالَ: أَصْبِرْنِي , فَقَالَ: اصْطَبِرْ , قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ , فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ , فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ , قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ".
اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”بدلہ لے لو“ تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5224]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4685) ¤ وله لون الآخر عند الحاكم (3/288 ح5262 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 151) (صحیح الإسناد)
|
|
|
162: باب قُبْلَةِ الرِّجْلِ
باب: پیر چومنے (قدم بوسی) کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنُ الطَّبَّاعِ , حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ , حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ , عَنْ جِدِّهَا زَارِعٍ , وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ , قَالَ: " لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ , فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا , فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ , قَالَ: وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ , فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ , ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ: إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمْ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا , قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ".
زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ (کسبی ہیں) (یا وہبی) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5225]
قال الشيخ الألباني:
حسن دون ذكر الرجلين
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أم أبان لم أجد من وثقھا فھي: مجهولة كما في التحرير(8700) وللهيثمي كلام مشوش في المجمع (390/9) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/206) (صحیح) (البانی صاحب نے پہلے فقرے کی تحسین کی ہے، اور ہاتھ اور پاؤں چومنے کو ضعیف کہا ہے، بقیہ بعد کی حدیث کی تصحیح کی ہے، یعنی شواہد کے بناء پر، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 3؍ 282)
|
|
|
163: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ
باب: آدمی کسی سے کہے ”اللہ مجھے آپ پر فدا کرے“ تو کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا و مُسْلِمٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِيَانِ ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا فِدَاؤُكَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو پکارا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا ہوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5226]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حماد بن أبي سليمان عنعن ¤ وحديث البخاري (6268) و مسلم (94 بعد 921) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11917) (حسن صحیح)
|
|
|
164: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا
باب: آدمی یہ کہے کہ ”اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے“۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ أَوْ غَيْرِهِ , أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا وَأَنْعِمْ صَبَاحًا , فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ , نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ" , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ مَعْمَرٌ: يُكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ: أَنْعَمَ اللَّهُ بِكَ عَيْنًا , وَلَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَيْنَكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: «أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا» ”اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے“ لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں: «أنعم الله بك عينا» کہنا مکروہ ہے اور «أنعم الله عينك» کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5227]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة لم يسمع من عمران بن حصين رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة الأشراف 186/8) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10836) (ضعیف الإسناد) (قتادہ مدلس ہیں اور أنَّ سے روایت کئے ہیں نیز معمر نے شک سے روایت کیا ہے، قتادہ یا کسی اور سے)
|
|
|
165: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ حَفِظَكَ اللَّهُ
باب: آدمی کسی کو «حفظك الله» ”اللہ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے“ کہے اس کا بیان
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ , فَعَطِشُوا , فَانْطَلَقَ سَرْعَانُ النَّاسِ , فَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ , فَقَالَ: حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ".
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5228]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (681)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (437)، (تحفة الأشراف: 12091) (صحیح)
|
|
|
166: باب فِي قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ
باب: ایک شخص دوسرے شخص کے احترام میں کھڑا ہو جائے تو کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ , قَالَ: " خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ , فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَامِرٍ: اجْلِسْ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ابن زبیر اور ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، معاویہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو یہ چاہے کہ لوگ اس کے سامنے (با ادب) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5229]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4699) ¤ وللحديث شاھد قوي عند الطبراني (19/362)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأدب 13 (2755)، (تحفة الأشراف: 11448)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/91، 93، 100) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ أَبِي الْعَنِبَسِ عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ ,عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا , فَقُمْنَا إِلَيْهِ , فَقَالَ: لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ , يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5230]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف لكن النهي عن فعل فارس في م
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3836) ¤ أبو مرزوق لين (تق: 8353) و أبو العدبس: مجهول (تق: 8248) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3836)، (تحفة الأشراف: 4934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/253، 256) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالدبس مجہول، اور ابومرزوق لین الحدیث ہیں لیکن بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے باادب کھڑے رہنے کی ممانعت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح مسلم میں مروی ہے)
|
|
|
167: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ
باب: آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ غَالِبٍ , قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ بِباب الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ جَدِّي , قَالَ: " بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ائْتِهِ , فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلَامُ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ".
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: ”آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو“ میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5231]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال المنذري:”ھذا الإسنادفيه مجاهيل“ (عون المعبود 528/4) ¤ وانظرالحديث السابق (2934) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2934)، (تحفة الأشراف: 15711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/366) (ضعیف) (اس کی سند میں کئی مجاہیل ہیں، البانی نے اسے حسن کہا ہے، صحیح ابی داود، 3؍ 482، جبکہ (2934) نمبر کی سابقہ حدیث (جو اس سند سے مفصل ہے) پر ضعف کا حکم لگایا ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ زَكَرِيَّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ,حَدَّثَتْهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ , فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ”ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5232]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6253) صحيح مسلم (2447)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3217)، وفضائل الصحابة 30 (3768)، والأدب 111 (6201)، الاستئذان 16 (6249)، 19 (6253)، صحیح مسلم/الآداب 7 (2447)، سنن الترمذی/الاستئذان 5 (2693)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3405)، سنن ابن ماجہ/ الآداب 12 (3696)، (تحفة الأشراف: 17727)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/146، 150، 208، 224)، سنن الدارمی/الاستئذان 10 (2680) (صحیح)
|
|
|
168: باب فِي الرَّجُلِ يُنَادِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ
باب: آدمی کسی کو پکارے تو اس کے جواب میں «لبيك» کہنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيَّ , قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا , فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ الشَّجَرَةِ , فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ , لَبِسْتُ لَأْمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطِهِ , فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , قَدْ حَانَ الرَّوَاحُ , قَالَ: أَجَلْ , ثُمَّ قَالَ: يَا بِلَالُ , قُمْ فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ , فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَأَنَا فِدَاؤُكَ , فَقَالَ: أَسْرِجْ لِي الْفَرَسَ , فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ , فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ لَيْسَ لَهُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثُ , وَهُوَ حَدِيثٌ نَبِيلٌ جَاءَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا: «السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته» کوچ کا وقت ہو چکا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ۱؎ انہوں نے کہا: «لبيك وسعديك وأنا فداؤك» ”میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں“ آپ نے فرمایا: ”میرے گھوڑے پر زین کس دو“ تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ۲؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے (اور چل پڑے) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5233]
💡 وضاحت:
۱؎: اشارہ ہے ان کے ضعف اور ان کی لاغری کی طرف۔
۲؎: جیسے دنیا داروں کی زین میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو ھمام عبداﷲ بن يسار: مجهول (تق: 3718) وثقه ابن حبان وحده ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12067)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/286)، سنن الدارمی/السیر 16 (2496) (حسن)
|
|
|
169: باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ
باب: آدمی کسی کو کہے «أضحك الله سنك» ”اللہ تجھے ہنستا رکھے“
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ , وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ , وَأَنَا لِحَدِيثِ عِيسَى أَضْبَطُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ يَعْنِي السُّلَمِيَّ , حَدَّثَنَا ابْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: " ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مرداس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے «أضحك الله سنك» ”اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے“ کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5234]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3013) ¤ عبداﷲ بن كنانة وأبوه:مجهولان (تق: 3556،5667) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المناسک 56 (3013)، (تحفة الأشراف: 5140)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/15) (ضعیف) (اس کے راوی ابن کنانہ اور خود کنانہ بن عباس مجہول ہیں)
|
|
|
170: باب مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ
باب: مکان بنانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: " مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُطَيِّنُ حَائِطًا لِي أَنَا وَأُمِّي , فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , شَيْءٌ أُصْلِحُهُ , فَقَالَ: الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت (سرمت) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے (یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5235]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (5449) ¤ الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (456)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزھد 25 (2335)، سنن ابن ماجہ/الزھد 13 (4160)، (تحفة الأشراف: 8650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَهَنَّادٌ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا وَهَى , فَقَالَ: مَا هَذَا؟ , فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ.
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہو گیا تھا، آپ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ ہم نے کہا: ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر میں تو معاملہ (موت) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں“ (زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5236]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (5235)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8650) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ , عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ , فَرَأَى قُبَّةً مُشْرِفَةً , فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: هَذِهِ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قَالَ: فَسَكَتَ وَحَمَلَهَا فِي نَفْسِهِ حَتَّى إِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي النَّاسِ , أَعْرَضَ عَنْهُ , صَنَعَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِيهِ , وَالْإِعْرَاضَ عَنْهُ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى أَصْحَابِهِ , فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُنْكِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالُوا: خَرَجَ , فَرَأَى قُبَّتَكَ , قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى قُبَّتِهِ فَهَدَمَهَا , حَتَّى سَوَّاهَا بِالْأَرْضِ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرَهَا , قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْقُبَّةُ؟ , قَالُوا: شَكَا إِلَيْنَا صَاحِبُهَا إِعْرَاضَكَ عَنْهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَهَدَمَهَا , فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ , إِلَّا مَا لَا إِلَّا مَا لَا يَعْنِي مَا لَا بُدَّ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ (مکان) دیکھا تھا (شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے (توڑ تاڑ کر) زمین کے برابر کر دیا، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بے التفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتا دیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: ”سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5237]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أبو طلحة الأسدي صدوق كما في الكاشف للذهبي
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1720)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزھد 13 (4161)، مسند احمد (3/220) (حسن) (الصحیحة 2830)
|
|
|
171: باب فِي اتِّخَاذِ الْغُرَفِ
باب: بالاخانے بنانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّؤَاسِيُّ , حَدَّثَنَا عِيسَى , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ قَيْسٍ , عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ , قَالَ: " أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْنَاهُ الطَّعَامَ , فَقَالَ: يَا عُمَرُ , اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ , فَارْتَقَى بِنَا إِلَى عِلِّيَّةٍ , فَأَخَذَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْرَتِهِ فَفَتَحَ".
دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5238]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (5184) ¤ إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (895 وسنده صحيح) قيس ھو ابن أبي حازم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3540)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/174) (صحیح الإسناد)
|
|
|
172: باب فِي قَطْعِ السِّدْرِ
باب: بیر کے درخت کاٹنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ" , سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ , فَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ , يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ عَبَثًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهُ فِيهَا , صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ.
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (بلا ضرورت) بیری کا درخت کاٹے گا ۱؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا“۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے (تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5239]
💡 وضاحت:
۱؎: طبرانی کی ایک روایت میں «من سدر الحرم» (حرم کے بیر کے درخت) کے الفاظ وارد ہیں جس سے مراد کی وضاحت ہوجاتی ہے اور اشکال رفع ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (2970) ¤ وللحديث شواھد كثيرة عند البيھقي (6/141 وسنده حسن) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5242) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ وَسَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5240]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (5239) ¤
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5242، 19044) (ضعیف) (عروہ تابعی ہیں اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ , وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: سَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ , عَنْ قَطْعِ السِّدْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى قَصْرِ عُرْوَةَ , فَقَالَ: " أَتَرَى هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالْمَصَارِيعَ؟ إِنَّمَا هِيَ مِنْ سِدْرِ عُرْوَةَ , كَانَ عُرْوَةُ يَقْطَعُهُ مِنْ أَرْضِهِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ , زَادَ حُمَيْدٌ , فَقَالَ: هِيَ يَا عِرَاقِيُّ جِئْتَنِي بِبِدْعَةٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا الْبِدْعَةُ مِنْ قِبَلِكُمْ , سَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ بِمَكَّةَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَطَعَ السِّدْرَ" , ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی (بھائی) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ ”بدعت“ تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5241]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (حسن) (الصحیحة 615)
|
|
|
173: باب فِي إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
باب: راستے سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹا دینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا , فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ بِصَدَقَةٍ , قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا , وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ , فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کس کو ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور (موذی) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5242]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1315) ¤ صححه ابن خزيمة (1226 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1965)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/354، 359) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ وَهَذَا لَفْظُهُ وَهُوَ أَتَمُّ , عَنْ وَاصِلٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ,عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ , وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ , وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ , وَإِمَاطَتُهُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ , وَبُضْعَتُهُ أَهْلَهُ صَدَقَةٌ , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَأْتِي شَهْوَةً وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ , قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حَقِّهَا أَكَانَ يَأْثَمُ؟ , قَالَ: وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ الْأَمْرَ وَالنَّهْيَ.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی صدقہ عائد ہو جاتا ہے، تو اس کا اپنے ملاقاتی سے سلام کر لینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف (اچھی بات) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر (بری بات) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہو گا؟ (یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہو گا) تو آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش (بیوی کے بجائے) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں؟“ (جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہو گا) اس کے بعد آپ نے فرمایا: اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہو جائیں گی (یعنی صدقہ بن جائیں گی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی (کے صدقہ ہونے) کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5243]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1285)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 13 (720)، (تحفة الأشراف: 11928)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/167، 178) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ , أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ وَاصِلٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , بِهَذَا الْحَدِيثِ , وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسْطِهِ.
ابوالاسود الدیلی نے ابوذر سے یہی حدیث روایت کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اس کے وسط میں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5244]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1286)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11928) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ , أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " نَزَعَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْكٍ عَنِ الطَّرِيقِ , إِمَّا كَانَ فِي شَجَرَةٍ فَقَطَعَهُ وَأَلْقَاهُ , وَإِمَّا كَانَ مَوْضُوعًا فَأَمَاطَهُ , فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا , فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر (جھکی ہوئی) تھی (آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5245]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2472) صحيح مسلم (1914 بعد ح2617)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12323)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان32 (652)، المظالم 28 (2472)، صحیح مسلم/البر والصلة 36 (1914)، الإمارة 51 (1914)، سنن الترمذی/البر والصلة 38 (1958)، سنن ابن ماجہ/الأدب 7 (3682)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 2 (6)، مسند احمد (2/341) (حسن صحیح)
|
|
|
174: باب فِي إِطْفَاءِ النَّارِ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں آگ (چراغ) بجھا کر سونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ رِوَايَةً , وَقَالَ مَرَّةً: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کبھی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں اور کبھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ جب سونے لگو تو آگ گھر میں موجود نہ رہنے دو (بجھا کر سوؤ)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5246]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6293) صحيح مسلم (2015)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستئذان 49 (6293)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2015)، سنن الترمذی/الأطعمة 15(1813)، سنن ابن ماجہ/الأدب 46 (3769)، (تحفة الأشراف: 6814)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 44) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ , حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " جَاءَتْ فَأْرَةٌ فَأَخَذَتْ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ , فَجَاءَتْ بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا , فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ , فَقَالَ: إِذَا نِمْتُمْ , فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هَذَا فَتُحْرِقَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا: ”جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5247]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة ¤ وحديث البخاري (6294،6296) ومسلم (2016) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6114) (صحیح)
|
|
|
175: باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ , وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً , فَلَيْسَ مِنَّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی (سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5248]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4139) ¤ محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/432)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247، 432، 520) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ ,عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5249]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (3195) ¤ شريك مدلس وعنعن ¤ والحديث الآتي (الأصل: 5252) والسابق (الأصل: 5248) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الجھاد 48 (3195)، (تحفة الأشراف: 9357) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أَرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا , مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے“ (وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5250]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ موسي بن مسلم الطحان شك في وصل الحديث ¤ فالحديث معلول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , عَنْ مُوسَى الطَّحَّانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ , عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ , يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارَ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو (جھاڑو دے کر) صاف ستھرا کر دینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5251]
قال الشيخ الألباني:
صحيح إن كان ابن سابط سمع من العباس
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مروان بن معاوية عنعن وفي سماع عبد الرحمٰن بن سابط من عباس نظر ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5133) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ" , قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا , فَأَبْصَرَهُ أَبُو لبابةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں (زہر کی شدت سے)، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5252]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ وہ جن و شیاطین بھی ہو سکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہو جانے یا اپنی شکل تبدیل کر لینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہئے اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو دوسری روایات کی روشنی میں مار سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3297) صحيح مسلم (2233)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 14 (3297)، صحیح مسلم/السلام 37 (2233)، (تحفة الأشراف: 12147)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 42 (3535)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (32)، مسند احمد (3/430، 452، 453) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي لُبابةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ".
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5253]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3298، 3312، 3313) صحيح مسلم (2233)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ يَعْنِي بَعْد مَا حَدَّثَهُ أَبُو لُبابةَ , حَيَّةً فِي دَارِهِ , فَأَمَرَ بِهَا , فَأُخْرِجَتْ يَعْنِي إِلَى الْبَقِيعِ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے (باہر کرنے کا) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5254]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (5253)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَسُامَةُ , عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ رَأَيْتُهَا بَعْدُ فِي بَيْتِهِ.
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5255]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2233)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِهِ , فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَنَا صَاحِبٌ لَنَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ , فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ , فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ , فَجَاءَ , فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْهَوَامَّ مِنَ الْجِنِّ , فَمَنْ رَأَى فِي بَيْتِهِ شَيْئًا , فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْهُ , فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ".
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے (وہ ان کے پاس چلے گئے) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس (مسجد) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے (سانپ وغیرہ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے (کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہو گا، اس تنبیہ کے بعد بھی) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے“ (جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5256]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ المخبر مجھول ¤ والحديث الآتي (الأصل: 5257) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4444) (صحیح) (اس کے رواة میں ایک راوی مجہول ہے، ہاں اگلی سند سے یہ واقعہ صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ , عَنْ أَبِي السَّائِبِ , قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , فَبَيْنمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُهُ , سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ , فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ , فَقُمْتُ , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا , قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أَقْتُلُهَا , فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ , فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ , وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ , فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ , فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى باب الْبَيْتِ , فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ , فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي , فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ , فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ , ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ , قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ , فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا , فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ".
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ (کیوں کھڑے ہو گئے) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ (گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا: ”اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو“ (اب زندگی ملنے سے رہی) پھر آپ نے فرمایا: ”مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5257]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2236)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 37 (2236)، سنن الترمذی/الصید 15 (1484)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (33)، (تحفة الأشراف: 4413)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/41) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , بِهَذَا الْحَدِيثِ مُخْتَصَرًا , قَالَ: فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا , فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ , فَلْيَقْتُلْهُ , فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ.
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے (سانپ کو) تین بار آگاہ کر دو، (اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5258]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2236)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (5257)، (تحفة الأشراف: 4413) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ , قَالَ: فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ , فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: ”اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5259]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2236) ¤
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (5257)، (تحفة الأشراف: 4413) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ , فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا فِي مَسَاكِنِكُمْ , فَقُولُوا: أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ نُوحٌ , أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ سُلَيْمَانُ , أَنْ لَا تُؤْذُونَا فَإِنْ عُدْنَ فَاقْتُلُوهُنَّ".
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح علیہ السلام نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5260]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1485) ¤ محمد بن أبي ليلي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصید 15 (1485)، (تحفة الأشراف: 12152) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّهُ قَالَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ" , قَالَ أبو داود: فَقَالَ لِي: إِنْسَانٌ الْجَانُّ لَا يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ , فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلَامَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح (یعنی سفید سانپ کو نہ مارو)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5261]
قال الشيخ الألباني:
صحيح موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مغيرة بن مقسم عنعن ¤ وإبراهيم النخعي لم يسمع من عبد اللّٰه بن مسعودرضي اللّٰه عنه فالسند منقطع ولا ينفع إبراهيم أن يروي عن جماعة من أصحابه،التابعين أو أتباع التابعين: المجاهيل عن ابن مسعود رضي اللّٰه عنه،وقال الشافعي: ”وأصل قولنا أن إبراهيم لو روي عن علي و عبد اللّٰه لم يقبل منه لأنه لم يلق واحدًا منھما“ (الأم 105/1) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9159) (صحیح)
|
|
|
176: باب فِي قَتْلِ الأَوْزَاغِ
باب: چھپکلی مارنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ , وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے، اور اسے «فويسق» (چھوٹا فاسق) کہا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5262]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2238)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 38 (2237)، (تحفة الأشراف: 3893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/177، 179) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً , وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الْأُولَى , وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الثَّانِيَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کر دیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5263]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2240)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 38 (2240)، (تحفة الأشراف: 12731، 12588، 15487)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأحکام 1 (1482)، سنن ابن ماجہ/الصید 12 (3228)، مسند احمد (2/355) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا , عَنْ سُهَيْلٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي أَوْ أُخْتِي , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے وار میں ستر نیکیاں ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5264]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2240)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12588) (صحیح)
|
|
|
177: باب فِي قَتْلِ الذَّرِّ
باب: چیونٹی مارنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ الْمُغِيرَةِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ , فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا , ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے (غصے میں آ کر) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی (جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی: تم نے ایک ہی چیونٹی کو (جس نے تمہیں کاٹا تھا) کیوں نہ سزا دی (سب کو کیوں مار ڈالا؟)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5265]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2241)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 39 (2241)، (تحفة الأشراف: 13319، 15307، 13875)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 153(3019)، بدء الخلق 16 (3319)، سنن النسائی/الصید 38 (4363)، سنن ابن ماجہ/الصید 10 (3225)، مسند احمد (2/403) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ , فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ , فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5266]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3019) صحيح مسلم (2241)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الجہاد 153 (3019)، بدء الخلق 16 (3319)، صحیح مسلم/ السلام 39 (2241)، سنن النسائی/ الصید 38 (4363)، سنن ابن ماجہ/ الصید 10 (3225)، (تحفة الأشراف: 13319، 15307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/403) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةُ , وَالنَّحْلَةُ , وَالْهُدْهُدُ , وَالصُّرَدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5267]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3224) ¤ الزھري عنعن ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصید 10 (3224)، (تحفة الأشراف: 5850)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/332)، سنن الدارمی/الأضاحي 26 (2142) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ ابْنِ سَعْدٍ , قَالَ أبو داود: وَهُوَ الْحَسَنُ بن سعد , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ , فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ , فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا , فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ , فَجَعَلَتْ تُفَرِّشُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا , وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا , فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟ , قُلْنَا: نَحْنُ , قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ".
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: ”کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو“، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: ”آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5268]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (2675)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (2675)، (تحفة الأشراف: 9362) (صحیح)
|
|
|
178: باب فِي قَتْلِ الضِّفْدَعِ
باب: مینڈک مارنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ ," أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ , فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا".
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5269]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (3871)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (3871)، (تحفة الأشراف: 9706) (صحیح)
|
|
|
179: باب فِي الْخَذْفِ
باب: کنکریاں پھینکنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ , قَالَ: إِنَّهُ لَا يَصِيدُ صَيْدًا وَلَا يَنْكَأُ عَدُوًّا , وَإِنَّمَا يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھیل کود اور ہنسی مذاق میں) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: ”نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5270]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6220) صحيح مسلم (1954)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح 5 (4841)، الذبائح 5 (5479)، الأدب 122 (6220)، صحیح مسلم/الذبائح 10 (1954)، سنن ابن ماجہ/الصید 11 (3227)، (تحفة الأشراف: 9663)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 33 (4819)، مسند احمد (4/86، 5/46، 54، 55، 56، 57) (صحیح)
|
|
|
180: باب مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ
باب: ختنہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْأَشْجَعِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ , قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ , أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ , فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُنْهِكِي , فَإِنَّ ذَلِكَ أَحْظَى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى الْبَعْلِ" , قَالَ أبو داود: رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ , قَالَ أبو داود: لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ , وَقَدْ رُوِيَ مُرْسَلًا , قَالَ أبو داود: وَمُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ مَجْهُولٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ.
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو“ کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5271]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ محمد بن حسان شيخ لمروان بن معاوية: مجهول،وقيل ھو ابن سعيد المصلوب (تقريب التهذيب: 5810) المصلوب: كذاب وضاع ¤ وللحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي(324/8) وغيره ¤ وأخرج البخاري في الأدب المفرد (1247) بسند حسن: إن بنات أخي عائشة ختن إلخ ¤ وھذا لا يشهد له ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 183
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18093) (صحیح) (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن حسان مجہول راوی ہیں)
|
|
|
181: باب فِي مَشْىِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ فِي الطَّرِيقِ
باب: عورتیں مردوں کے ساتھ راستہ میں کس طرح چلیں؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْيَمَانِ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ," أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِي الطَّرِيقِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ: اسْتَأْخِرْنَ , فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ , عَلَيْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِيقِ , فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا بِهِ".
ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے“ پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5272]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ شداد بن أبي عمرو: مجهول (تق: 2757) ¤ وأبوه مقبول (تق: 8270) أي مجهول الحال وللحديث شاهد ضعيف عند ابن حبان (الموارد: 1969) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 183
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11192) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ , حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَدَنِيِّ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَمْشِيَ يَعْنِي , الرَّجُلَ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو دو عورتوں کے بیچ میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5273]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ داود بن أبي صالح: منكر الحديث (تق: 1791) وقال أبو حاتم:”مجهول حدّث بحديث منكر‘‘ (الجرح والتعديل 416/3) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 183
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7662) (موضوع) (داود بن ابی صالح حدیثیں گھڑتا تھا)
|
|
|
182: باب فِي الرَّجُلِ يَسُبُّ الدَّهْرَ
باب: زمانے کو برا بھلا کہنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان , وابن السرح , قالا: أخبرنا سفيان , عن الزهري , عن سعيد عن أبى هريرة , عن النبي صلي الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل: " يؤذيني ابن آدم , يسب الدهر , وأنا الدهر بيدي الأمر , أقلب الليل والنهار" , قال ابن السرح , عن ابن المسيب مكان سعيد. | |