سنن أبي داود حدیث نمبر: 5215
Sunan Abi Dawud 5215
کتاب #--: ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
156: باب مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ
باب: استقبال کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ," أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ , أَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ أَقْمَرَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ إِلَى خَيْرِكُمْ , فَجَاءَ حَتَّى قَعَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قریظہ کے لوگ سعد کے حکم (فیصلہ) پر اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سردار یا اپنے بہتر شخص کی طرف بڑھو“ پھر وہ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5215]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6262) صحيح مسلم (1768)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 168 (3043)، المناقب 12 (3804)، المغازي 31 (4121)، الاستئذان 25 (6262)، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1768)، (تحفة الأشراف: 3960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142) (صحیح)