سنن أبي داود حدیث نمبر: 5208
Sunan Abi Dawud 5208
کتاب #--: ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
151: باب فِي السَّلاَمِ إِذَا قَامَ مِنَ الْمَجْلِسِ
باب: مجلس سے اٹھ کر جاتے وقت سلام کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ الْمُفَضَّلِ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , قَالَ مُسَدَّدٌ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ , فَلْيُسَلِّمْ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ , فَلْيُسَلِّمْ , فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے“ (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5208]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4660) ¤ أخرجه الترمذي (2706 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (1008)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الاستئذان 15 (2706)، (تحفة الأشراف: 13038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 439) (حسن)