سنن أبي داود حدیث نمبر: 5230
Sunan Abi Dawud 5230
کتاب #--: ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
166: باب فِي قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ
باب: ایک شخص دوسرے شخص کے احترام میں کھڑا ہو جائے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ أَبِي الْعَنِبَسِ عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ ,عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا , فَقُمْنَا إِلَيْهِ , فَقَالَ: لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ , يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہو گئے، آپ نے فرمایا: ”عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5230]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف لكن النهي عن فعل فارس في م
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3836) ¤ أبو مرزوق لين (تق: 8353) و أبو العدبس: مجهول (تق: 8248) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3836)، (تحفة الأشراف: 4934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/253، 256) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالدبس مجہول، اور ابومرزوق لین الحدیث ہیں لیکن بیٹھے ہوئے آدمی کے لئے باادب کھڑے رہنے کی ممانعت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح مسلم میں مروی ہے)