سنن أبي داود حدیث نمبر: 5259
Sunan Abi Dawud 5259
کتاب #--: ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
175: باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ , قَالَ: فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ , فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: ”اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5259]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2236) ¤
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (5257)، (تحفة الأشراف: 4413) (صحیح)