سنن أبي داود حدیث نمبر: 5247
Sunan Abi Dawud 5247
کتاب #--: ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
174: باب فِي إِطْفَاءِ النَّارِ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں آگ (چراغ) بجھا کر سونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ , حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " جَاءَتْ فَأْرَةٌ فَأَخَذَتْ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ , فَجَاءَتْ بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا , فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ , فَقَالَ: إِذَا نِمْتُمْ , فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هَذَا فَتُحْرِقَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا: ”جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5247]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة ¤ وحديث البخاري (6294،6296) ومسلم (2016) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6114) (صحیح)