كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
کتاب #8 • کل احادیث: 65
|
1: باب مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ مِنَ التَّشْدِيدِ
باب: زکاۃ نہ نکالنے پر وارد وعید کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَرَآنِي مُقْبِلًا، فَقَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لِي لَعَلَّهُ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَمُوتُ رَجُلٌ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلُهُ، وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " لُعِنَ مَانِعُ الصَّدَقَةِ " وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاسْمُ أَبِي ذَرٍّ جُنْدَبُ بْنُ السَّكَنِ وَيُقَالُ ابْنُ جُنَادَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: " الْأَكْثَرُونَ أَصْحَابُ عَشَرَةِ آلَافٍ "، قَالَ: وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ مَرْوَزِيٌّ رَجُلٌ صَالِحٌ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھا تو فرمایا : ” رب کعبہ کی قسم ! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے “ ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا : شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو ۔ میں نے عرض کیا : کون لوگ ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی لوگ جو بہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسا ایسا کرے ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھر کر اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، جو بھی آدمی اونٹ اور گائے چھوڑ کر مرا اور اس نے اس کی زکاۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن وہ اس سے زیادہ بھاری اور موٹے ہو کر آئیں گے جتنا وہ تھے ۳؎ اور اسے اپنی کھروں سے روندیں گے ، اور اپنی سینگوں سے ماریں گے ، جب ان کا آخری جانور بھی گزر چکے گا تو پھر پہلا لوٹا دیا جائے گا ۴؎ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے ، ¤ ۳- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ زکاۃ روک لینے والے پر لعنت کی گئی ہے ۵؎ ، ¤ ۴- ( یہ حدیث ) قبیصہ بن ہلب نے اپنے والد ہلب سے روایت کی ہے ، نیز جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ ¤ ۵- ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ «الأكثرون» سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس دس ہزار ( درہم یا دینار ) ہوں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 617]
💡 وضاحت:
۱؎: زکاۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے تیسرا رکن ہے، اس کے لغوی معنی بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں، زکاۃ کو زکاۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ زکاۃ دینے والے کے مال کو بڑھاتی اور زیادہ کرتی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے معنی پاک کرنے کے ہیں اور زکاۃ کو زکاۃ اس لیے بھی کہتے ہیں کہ یہ مال کو پاک کرتی ہے اور صاحب مال کو گناہوں سے پاک کرتی ہے، اس کی فرضیت کے وقت میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ ۲ ھ میں فرض ہوئی اور محققین علماء کا خیال ہے کہ یہ فرض تو مکہ میں ہی ہو گئی تھی مگر اس کے تفصیلی احکام مدینہ ۲ ھ میں نازل ہوئے۔
۲؎: یا تو آپ کسی فرشتے سے بات کر رہے تھے، یا کوئی خیال آیا تو آپ نے «هم الأخسرون» فرمایا۔ ۳؎: یہ عذاب عالم حشر میں ہو گا، حساب و کتاب سے پہلے۔ ۴؎: یعنی روندنے اور سینگ مارنے کا سلسلہ برابر چلتا رہے گا۔ ۵؎: اس کی تخریج سعید بن منصور، بیہقی، خطیب اور ابن نجار نے کی ہے، لیکن روایت موضوع ہے اس میں ایک راوی محمد بن سعید بورمی ہے جو کذاب ہے، حدیثیں وضع کرتا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1785)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 43 (1460)، الأیمان والنذور 3 (6638)، سنن النسائی/الزکاة 2 (2442)، و11 (2458)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 2 (1785)، (تحفة الأشراف: 11981)، وأخرجہ صحیح مسلم/الزکاة 9 (32/94)، من طریق زید بن وہب عن أبي ذر بہ (صحیح)
|
|
|
2: باب مَا جَاءَ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ
باب: زکاۃ ادا کرنے سے اپنے اوپر عائد فریضہ کے ادا ہو جانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ ذَكَرَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ فَقَالَ: " لَا إِلَّا أَنْ تَتَطَوَّعَ ". وَابْنُ حُجَيْرَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمَصْرِيُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی تو جو تمہارے ذمہ فریضہ تھا اسے تم نے ادا کر دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری اور سندوں سے بھی مروی ہے کہ آپ نے زکاۃ کا ذکر کیا ، تو ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل کچھ دو “ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 618]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مال کے حق میں سے تمہارے اوپر مزید کوئی اور ضروری حق نہیں کہ اس کے نکالنے کا تم سے مطالبہ کیا جائے، رہے صدقہ فطر اور دوسرے ضروری نفقات تو یہ مال کے حقوق میں سے نہیں ہیں، ان کے وجوب کا سبب نفس مال نہیں بلکہ دوسری وقتی چیزیں ہیں مثلاً قرابت اور زوجیت وغیرہ بعض نے کہا کہ ان واجبات کا وجوب زکاۃ کے بعد ہوا ہے اس لیے ان سے اس پر اعتراض درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1788) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (396)، ضعيف الجامع الصغير (312) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزکاة 3 (1788)، (تحفة الأشراف: 13591) (حسن) (دیکھئے ”تراجع الالبانی“ حدیث رقم: 99)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَمَنَّى أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيُّ الْعَاقِلُ، فَيَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَثَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَسُولَكَ أَتَانَا فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَبِالَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ وَبَسَطَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي السَّنَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ "، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا فِي أَمْوَالِنَا الزَّكَاةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ "، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ إِلَى الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا وَلَا أُجَاوِزُهُنَّ، ثُمَّ وَثَبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ صَدَقَ الْأَعْرَابِيُّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: فِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْقِرَاءَةَ عَلَى الْعَالِمِ وَالْعَرْضَ عَلَيْهِ جَائِزٌ مِثْلُ السَّمَاعِ. وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْأَعْرَابِيَّ عَرَضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ کوئی عقلمند اعرابی ( دیہاتی ) آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھے اور ہم آپ کے پاس ہوں ۱؎ ہم آپ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ کے پاس ایک اعرابی آیا ۲؎ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا ۔ اور پوچھا : اے محمد ! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ( کیا یہ صحیح ہے ؟ ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، یہ صحیح ہے “ ، اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان بلند کیا ، زمین اور پہاڑ نصب کئے ۔ کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، اس نے کہا : آپ کا قاصد ہم سے کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ہم پر دن اور رات میں پانچ صلاۃ فرض ہیں ( کیا ایسا ہے ؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی ، جس نے آپ کو رسول بنایا ہے ! کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، اس نے کہا : آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ہم پر سال میں ایک ماہ کے صیام فرض ہیں ( کیا یہ صحیح ہے ؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں وہ ( سچ کہہ رہا ہے ) “ اعرابی نے مزید کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( دیا ہے ) “ ، اس نے کہا : آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ہم پر ہمارے مالوں میں زکاۃ واجب ہے ( کیا یہ صحیح ہے ؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( اس نے سچ کہا ) “ ۔ اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی ، جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، “ ( دیا ہے ) اس نے کہا : آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ہم میں سے ہر اس شخص پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو ( کیا یہ سچ ہے ؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، ( حج فرض ہے ) “ اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ( دیا ہے ) “ تو اس نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا : میں ان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا اور نہ میں اس میں کسی چیز کا اضافہ کروں گا ۳؎ ، پھر یہ کہہ کر وہ واپس چل دیا تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اعرابی نے سچ کہا ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، اور اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ بعض اہل علم فرماتے ہیں : اس حدیث سے یہ بات نکلتی ہے کہ شاگرد کا استاذ کو پڑھ کر سنانا استاذ سے سننے ہی کی طرح ہے ۴؎ انہوں نے استدلال اس طرح سے کیا ہے کہ اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلومات پیش کیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 619]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ہمیں سورۃ المائدہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تھا، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا چالاک اعرابی آئے جسے اس ممانعت کا علم نہ ہو اور وہ آ کر آپ سے سوال کرے۔
۲؎: اس اعرابی کا نام ضمام بن ثعلبہ تھا۔ ۳؎: اس اعتقاد کے ساتھ کہ یہ فرض ہے، مسلم کی روایت میں «والذي بالحق لا أزيد عليهن ولا أنقص» کے الفاظ آئے ہیں۔ ۴؎: یعنی «سماع من لفظ الشیخ» کی طرح «القراءۃ علی الشیخ» (استاذ کے پاس شاگرد کا پڑھنا) بھی جائز ہے، مولف نے اس کے ذریعہ اہل عراق کے ان متشددین کی تردید کی ہے جو یہ کہتے تھے کہ «قراءۃ علی الشیخ» جائز نہیں، صحیح یہ ہے کہ دونوں جائز ہیں البتہ اخذ حدیث کے طریقوں میں سب سے اعلیٰ طریقہ «سماع من لفظ الشیخ» (استاذ کی زبان سے سننے) کا ہے، اس طریقے میں استاذ اپنی مرویات اپنے حافظہ سے یا اپنی کتاب سے خود روایت کرتا ہے اور طلبہ سنتے ہیں اور شاگرد اسے روایت کرتے وقت «سمعت، سمعنا، حدثنا، حدثني، أخبرنا، أخبرني، أنبأنا، أنبأني» کے صیغے استعمال کرتا ہے، اس کے برخلاف «قراءۃ علی الشیخ» (استاذ پر پڑھنے) کے طریقے میں شاگرد شیخ کو اپنے حافظہ سے یا کتاب سے پڑھ کر سناتا ہے اس کا دوسرا نام عرض بھی ہے اس صورت میں شاگرد «قرأت على فلان» يا «قري على فلان وأنا أسمع» ، يا «حدثنا فلان قرائة عليه» کہہ کر روایت کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج إيمان ابن أبي شيبة (4 / 5)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 6 (تعلیقا عقب حدیث رقم: 63)، صحیح مسلم/الإیمان 3 (12)، سنن النسائی/الزکاة 1 (2093)، (تحفة الأشراف: 404)، مسند احمد (3/143، 193)، سنن الدارمی/الطہارة 1 (656) (صحیح)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ
باب: سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ عَفَوْتُ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رُوِيَ عَنْهُمَا جَمِيعًا.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۱؎ تو اب تم چاندی کی زکاۃ ادا کرو ۲؎ ، ہر چالیس درہم پر ایک درہم ، ایک سو نوے درہم میں کچھ نہیں ہے ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اعمش اور ابو عوانہ ، وغیرہم نے بھی یہ حدیث بطریق : «أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي» روایت کی ہے ، اور سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق : «أبي إسحاق عن الحارث عن علي» روایت کی ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ابواسحاق سبیعی سے مروی یہ دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں ، احتمال ہے کہ یہ حارث اور عاصم دونوں سے ایک ساتھ روایت کی گئی ہو ( تو ابواسحاق نے اسے دونوں سے روایت کیا ہو ) ¤ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق اور عمرو بن حزم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 620]
💡 وضاحت:
۱؎: جب وہ تجارت کے لیے نہ ہوں۔
۲؎: «رقہ» خالص چاندی کو کہتے ہیں خواہ وہ ڈھلی ہو یا غیر ڈھلی۔ ۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے اس سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1790)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(620) إسناده ضعيف / د 1574، جه 1790
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 5 (1571، 1574)، سنن النسائی/الزکاة 18 (2479، 2480)، (تحفة الأشراف: 10136)، مسند احمد (1131، 148)، سنن الدارمی/الزکاة 7 (1669) (صحیح) وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة 4 (1790)، مسند احمد (1/121، 132)، 146 من طریق الحارث عنہ (تحفة الأشراف: 10039)
|
|
|
4: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ
باب: اونٹ اور بکری کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ، فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ " فَلَمَّا قُبِضَ، عَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، وَعُمَرُ حَتَّى قُبِضَ، وَكَانَ فِيهِ " فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشَرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَجَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي الشَّاءِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، ثُمَّ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَ مِائَةِ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ. وقَالَ الزُّهْرِيُّ: إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قَسَّمَ الشَّاءَ أَثْلَاثًا: ثُلُثٌ خِيَارٌ وَثُلُثٌ أَوْسَاطٌ وَثُلُثٌ شِرَارٌ، وَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ وَلَمْ يَذْكُرْ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ. وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَبَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، وَقَدْ رَوَى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ، وَإِنَّمَا رَفَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی دستاویز تحریر کرائی ، ابھی اسے عمال کے پاس روانہ بھی نہیں کر سکے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی ، اور اسے آپ نے اپنی تلوار کے پاس رکھ دیا ۱؎ ، آپ وفات فرما گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ اس پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے ، ان کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی اسی پر عمل پیرا رہے ، یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے ، اس کتاب میں تحریر تھا : ” پانچ اونٹوں میں ، ایک بکری زکاۃ ہے ۔ دس میں دو بکریاں ، پندرہ میں تین بکریاں اور بیس میں چار بکریاں ہیں ۔ پچیس سے لے کر پینتیس تک میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے ، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں دو سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے ۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ساٹھ تک میں تین سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے ۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پچہتر تک میں چار سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو نوے تک میں دو سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے ۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک سو بیس تک تین سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے ۔ جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر پچاس میں تین سال کی ایک اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سال کی ایک اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو گی ۔ اور بکریوں کے سلسلہ میں اس طرح تھا : چالیس بکریوں میں ایک بکری کی زکاۃ ہے ، ایک سو بیس تک ، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو تک میں دو بکریوں کی زکاۃ ہے ، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو تک میں تین بکریوں کی زکاۃ ہے ۔ اور جب تین سو سے زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری کی زکاۃ ہے ۔ پھر اس میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ چار سو کو پہنچ جائیں ، اور ( زکاۃ والے ) متفرق ( مال ) کو جمع نہیں کیا جائے گا ۲؎ اور جو مال جمع ہو اسے صدقے کے خوف سے متفرق نہیں کیا جائے گا ۳؎ اور جن میں دو ساجھی دار ہوں ۴؎ تو وہ اپنے اپنے حصہ کی شراکت کے حساب سے دیں گے ۔ صدقے میں کوئی بوڑھا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا “ ۔ زہری کہتے ہیں : جب صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کرے ، پہلی تہائی بہتر قسم کی ہو گی ، دوسری تہائی اوسط درجے کی اور تیسری تہائی خراب قسم کی ہو گی ، پھر صدقہ وصول کرنے والا اوسط درجے والی بکریوں میں سے لے ۔ زہری نے گائے کا ذکر نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- یونس بن یزید اور دیگر کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث زہری سے ، اور زہری نے سالم سے روایت کی ہے ، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا ۔ صرف سفیان بن حسین ہی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ، ¤ ۳- اور اسی پر عام فقہاء کا عمل ہے ، ¤ ۴- اس باب میں ابوبکر صدیق بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ معاویۃ بن حیدۃ قشیری ہے ابوذر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 621]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی قرآن کی طرح ”کتابت حدیث“ کا عمل شروع ہو گیا تھا، بیسیوں صحیح روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرآن کے علاوہ) اپنے ارشادات وفرامین اور احکام خود بھی تحریر کرائے اور بیس صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کو احادیث مبارکہ لکھنے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔ (تفصیل کے لیے کتاب العلم عن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باب «ما جاء فی رخصۃ کتابۃ العلم» میں دیکھ لیں۔
۲؎: یہ حکم جانوروں کے مالکوں اور محصّلین زکاۃ دونوں کے لیے ہے، متفرق کو جمع کرنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً تین آدمیوں کی چالیس بکریاں الگ الگ رہنے کی صورت میں ہر ایک پر ایک ایک بکری کی زکاۃ واجب ہو، جب زکاۃ لینے والا آئے تو تینوں نے زکاۃ کے ڈر سے اپنی اپنی بکریوں کو یکجا کر دیا تاکہ ایک ہی بکری دینی پڑے۔ ۳؎: اس کی تفسیر یہ ہے کہ مثلاً دو ساجھی دار ہیں ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہیں کل ملا کر دو سو دو بکریاں ہوئیں، ان میں تین بکریوں کی زکاۃ ہے، جب زکاۃ لینے والا آیا تو ان دونوں نے اپنی اپنی بکریاں الگ الگ کر لیں تاکہ ایک ایک واجب ہو ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ۴؎: مثلاً دو شریک ہیں، ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں زکاۃ وصول کرنے والا آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجئیے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے، اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں، کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جس میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور ۲۵ چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر ہو گی اب اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپئے واپس کرے گا اور اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ واپس کرے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1798)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 34 تعلیقا عقب الحدیث (رقم: 1450)، سنن ابی داود/ الزکاة 4 (1568)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 9 (1798)، (تحفة الأشراف: 6813)، سنن الدارمی/الزکاة 6 (1666) (صحیح) (سند میں سفیان بن حسین ثقہ راوی ہیں، لیکن ابن شہاب زہری سے روایت میں کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الْبَقَرِ
باب: گائے کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ ". وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، وَعَبْدُ السَّلَامِ ثِقَةٌ حَافِظٌ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیس گائے میں ایک سال کا بچھوا ، یا ایک سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے اور چالیس گایوں میں دو سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے ( دانتی یعنی دو دانت والی ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عبدالسلام بن حرب نے اسی طرح یہ حدیث خصیف سے روایت کی ہے ، اور عبدالسلام ثقہ ہیں حافظ ہیں ، ¤ ۲- شریک نے بھی یہ حدیث بطریق : «خصيف عن أبي عبيدة عن أمه عن عبد الله» روایت کی ہے ، ¤ ۳- اور ابوعبیدہ بن عبداللہ کا سماع اپنے والد عبداللہ سے نہیں ہے ۔ ¤ ۴- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 622]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1804)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(622) إسناده ضعيف / جه 1804 ¤ خصيف ضعيف (تقدم:289) والسند منقطع وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزکاة 12 (1804)، (تحفة الأشراف: 9606) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ خصیف حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ابو عبیدة کا اپنے باپ ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نںیو ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ وَهَذَا أَصَحُّ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ میں ہر تیس گائے پر ایک سال کا بچھوا یا بچھیا زکاۃ میں لوں اور ہر چالیس پر دو سال کی بچھیا زکاۃ میں لوں ، اور ہر ( ذمّی ) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری ۱؎ کپڑے بطور جزیہ لوں ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «سفيان ، عن الأعمش ، عن أبي وائل ، عن مسروق» مرسلاً روایت کی ہے ۳؎ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا اور اس میں «فأمرني أن آخذ» کے بجائے «فأمره أن يأخذ» ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۴؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 623]
💡 وضاحت:
۱؎: معافر: ہمدان کے ایک قبیلے کا نام ہے اسی کی طرف منسوب ہے۔
۲؎: اس حدیث میں گائے کے تفصیلی نصاب کا ذکر ہے، ساتھ ہی غیر مسلم سے جزیہ وصول کرنے کا بھی حکم ہے۔ ۳؎: اس میں معافر کا ذکر نہیں ہے، اس کی تخریج ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ ۴؎: یعنی یہ مرسل روایت اوپر والی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ مسروق کی ملاقات معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے نہیں ہے، ترمذی نے اسے اس کے شواہد کی وجہ سے حسن کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1803)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(623) إسناده ضعيف /د 1577، ن 2452، جه 1803
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 4 (1577، 1578)، سنن النسائی/الزکاة 8 (2455)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 12 (1803)، (تحفة الأشراف: 11363)، مسند احمد (5/230)، سنن الدارمی/الزکاة5 (1664) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ: هَلْ يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا.
عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبیدہ بن عبداللہ سے پوچھا : کیا وہ ( اپنے والد ) عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کوئی چیز یاد رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 624]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد عن أبي عبيدة، وهو ابن عبد الله بن مسعود
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19589) (صحیح الإسناد)
|
|
|
6: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَخْذِ خِيَارِ الْمَالِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: صدقے میں عمدہ مال لینے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا 5 أَهْلَ كِتَابٍ 5 فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ". وَفِي الْبَاب عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ اسْمُهُ: نَافِذٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی الله عنہ کو یمن ( کی طرف اپنا عامل بنا کر ) بھیجا اور ان سے فرمایا : ” تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو ، تم انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر رات اور دن میں پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے ، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مال میں زکاۃ فرض کی ہے ، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقراء و مساکین کو لوٹا دی جائے گی ۱؎ ، اگر وہ اسے مان لیں تو تم ان کے عمدہ مال لینے سے اپنے آپ کو بچانا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا ، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں صنابحی رضی الله عنہ ۲؎ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 625]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ زکاۃ جس جگہ سے وصول کی جائے وہیں کے محتاجوں اور ضرورت مندوں میں زکاۃ تقسیم کی جائے، مقامی فقراء سے اگر زکاۃ بچ جائے تب وہ دوسرے علاقوں میں منتقل کی جائے، بظاہر اس حدیث سے یہی بات ثابت ہوتی ہے، لیکن امام بخاری نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے «أخذ الصدقة من الأغنياء وترد في الفقراء حيث كانوا» اور اس کے تحت یہی حدیث ذکر کی ہے اور «فقراؤهم» میں «هم» کی ضمیر کو مسلمین کی طرف لوٹایا ہے یعنی مسلمانوں میں سے جو بھی محتاج ہو اسے زکاۃ دی جائے، خواہ وہ کہیں کا ہو۔
۲؎: صنابحی سے مراد صنابح بن اعسرا حمصی ہیں جو صحابی رسول ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1783)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 1 (1395)، و41 (1458)، والمظالم 10 (2448)، والمغازی 60 (4347)، والتوحید 1 (7372)، صحیح مسلم/الإیمان 7 (19)، سنن ابی داود/ الزکاة 4 (1584)، سنن النسائی/الزکاة 1 (2437)، و46 (2523)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 1 (1783)، (تحفة الأشراف: (6511)، مسند احمد (1/233)، سنن الدارمی/الزکاة 1 (1655)، ویأتي آخرہ عند المؤلف في البر والصلة 68 (2014) (صحیح)
|
|
|
7: باب مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الزَّرْعِ وَالتَّمْرِ وَالْحُبُوبِ
باب: کھیتی، پھل اور غلے کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ اونٹوں ۱؎ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ، اور پانچ اوقیہ ۲؎ چاندنی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ وسق ۳؎ غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عمر ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 626]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اونٹوں کا نصاب ہے اس سے کم میں زکاۃ نہیں۔
۲؎: اوقیہ چالیس درہم ہوتا ہے، اس حساب سے ۵ اوقیہ دو سو درہم کے ہوئے، موجودہ وزن کے حساب سے دو سو درہم ۵۹۵ گرام کے برابر ہے۔ ۳؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے پانچ وسق کے تین سو صاع ہوئے موجودہ وزن کے حساب سے تین سو صاع کا وزن تقریباً (۷۵۰) کلوگرام یعنی ساڑھے سات کوئنٹل بنتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1793)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 4 (1405)، و32 (1447)، و42 (1459)، و56 (1484)، صحیح مسلم/الزکاة 1 (979)، سنن ابی داود/ الزکاة 1 (1558)، سنن النسائی/الزکاة 5 (2447)، و18 (2475)، و21 (2485)، و24 (2489)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 6 (1793)، (تحفة الأشراف: 4402)، موطا امام مالک/الزکاة 1 (1)، مسند احمد (3/6، 45، 60، 73، 74، 79)، سنن الدارمی/الزکاة 11 (1673) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا، وَخَمْسَةُ أَوْسُقٍ ثَلَاثُ مِائَةِ صَاعٍ، وَصَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ، وَصَاعُ أَهْلِ الْكُوفَةِ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا وَخَمْسُ أَوَاقٍ مِائَتَا دِرْهَمٍ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ يَعْنِي لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، وَفِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ.
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے جیسے عبدالعزیز بن محمد کی حدیث ہے جسے انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے ( جو اوپر گزر چکی ہے ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ان سے یہ روایت اور بھی کئی طرق سے مروی ہے ، ¤ ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے ۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔ اور پانچ وسق میں تین سو صاع ہوتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ساڑھے پانچ رطل کا تھا اور اہل کوفہ کا صاع آٹھ رطل کا ، پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ۔ اور پانچ اوقیہ کے دو سو درہم ہوتے ہیں ۔ اسی طرح سے پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔ جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ان میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے اور پچیس اونٹ سے کم میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری زکاۃ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 627]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
8: باب مَا جَاءَ لَيْسَ فِي الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ صَدَقَةٌ
باب: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ کے نہ ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ ". وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الرَّقِيقِ، إِذَا كَانُوا لِلْخِدْمَةِ صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا لِلتِّجَارَةِ، فَإِذَا كَانُوا لِلتِّجَارَةِ فَفِي أَثْمَانِهِمُ الزَّكَاةُ إِذَا حَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان پر نہ اس کے گھوڑوں میں زکاۃ ہے اور نہ ہی اس کے غلاموں میں زکاۃ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ پالتو گھوڑوں میں جنہیں دانہ چارہ باندھ کر کھلاتے ہیں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلاموں میں ہے ، جب کہ وہ خدمت کے لیے ہوں الاّ یہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں ۔ اور جب وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت میں زکاۃ ہو گی جب ان پر سال گزر جائے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 628]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کے عموم سے ظاہر یہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ گھوڑے اور غلام میں مطلقاً زکاۃ واجب نہیں گو وہ تجارت ہی کے لیے کیوں نہ ہوں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، گھوڑے اور غلام اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان میں زکاۃ بالاجماع واجب ہے جیسا کہ ابن منذر وغیرہ نے اسے نقل کیا ہے، لہٰذا اجماع اس کے عموم کے لیے مخص ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1812)، الضعيفة (4014)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 45 (1463)، و46 (1464)، صحیح مسلم/الزکاة 2 (982)، سنن ابی داود/ الزکاة 10 (1594)، سنن النسائی/الزکاة 16 (2470)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 15 (1812)، (تحفة الأشراف: 14153)، مسند احمد (2/242، 254، 279، 410، 432، 469، 470، 477)، سنن الدارمی/الزکاة 10 (1672) (صحیح)
|
|
|
9: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ
باب: شہد کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْعَسَلِ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب كَبِيرُ شَيْءٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ فِي الْعَسَلِ شَيْءٌ. وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِحَافِظٍ، وَقَدْ خُولِفَ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ نَافِعٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہد میں ہر دس مشک پر ایک مشک زکاۃ ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوسیارہ متعی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ ¤ ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کچھ زیادہ صحیح چیزیں مروی نہیں اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شہد میں کوئی زکاۃ نہیں ۲؎ ، ¤ ۴- صدقہ بن عبداللہ حافظ نہیں ہیں ۔ نافع سے اس حدیث کو روایت کرنے میں صدقہ بن عبداللہ کی مخالفت کی گئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 629]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس کی روایت میں صدقہ بن عبداللہ منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔
۲؎: امام بخاری اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں کہ شہد کی زکاۃ کے بارے میں کوئی چیز ثابت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1824)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8509) (صحیح) (سند میں صدقہ بن عبداللہ ضعیف راوی ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَدَقَةِ الْعَسَلِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا عِنْدَنَا عَسَلٌ نَتَصَدَّقُ مِنْهُ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعَسَلِ صَدَقَةٌ ". فَقَالَ عُمَرُ: عَدْلٌ مَرْضِيٌّ فَكَتَبَ إِلَى النَّاسِ أَنْ تُوضَعَ يَعْنِي عَنْهُمْ.
نافع کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبدالعزیز نے شہد کی زکاۃ کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ ہمارے پاس شہد نہیں کہ ہم اس کی زکاۃ دیں ، لیکن ہمیں مغیرہ بن حکیم نے خبر دی ہے کہ شہد میں زکاۃ نہیں ہے ۔ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا : یہ مبنی برعدل اور پسندیدہ بات ہے ۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں کو لکھا کہ ان سے شہد کی زکاۃ معاف کر دی جائے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 630]
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19448) (صحیح الإسناد) (سند صحیح ہے لیکن سابقہ حدیث کے مخالف ہے، دیکھئے: الإرواء رقم: 810)
|
|
|
10: باب مَا جَاءَ لاَ زَكَاةَ عَلَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الطَّلْحِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ ". وَفِي الْبَاب عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں ایک سال نہ گزر جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں سراء بنت نبھان غنویہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 631]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1792)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(631) إسناده ضعيف جدًا ¤ عبدالرحمن بن زيد بن أسلم: ضعيف (تق:3865) وقال الھيثمي:والأكثر على تضعيفه (مجمع الزوائد 21/1 وقال ابن الملقن: ضعفه الجمھور (خلاصه البدر المنير:11) وقال الحاكم: ”روي عن أبيه أحاديث موضوعة، لا يخفى على من تأملھا من أھل الصنعة أن الحمل فيھا عليه“ (المدخل إلى الصحيح ص 154) فھو ضعيف جدًا فيما يرويه عن أبيه وللحديث شواھد ضعيفة۔ وكان ابن عمر يقول: لا تجب في مال زكوة حتي يحول عليه الحول (الموطا 246/1 ح 584) وسنده صحيح وانظر سنن الترمذي (632)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6731) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث اور مولف کا کلام، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 787، وتراجع الألبانی 503)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى أَيُّوبُ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا زَكَاةَ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَفِيهِ الزَّكَاةُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ سِوَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ، فَإِنِ اسْتَفَادَ مَالًا قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنَّهُ يُزَكِّي الْمَالَ الْمُسْتَفَادَ مَعَ مَالِهِ الَّذِي وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں : جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر زکاۃ نہیں جب تک کہ اس کے ہاں اس مال پر ایک سال نہ گزر جائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ ( موقوف ) حدیث عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی ( مرفوع ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ ¤ ۲- ایوب ، عبیداللہ بن عمر اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے موقوفاً ( ہی ) روایت کی ہے ۔ ¤ ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں ، احمد بن حنبل ، علی بن مدینی اور ان کے علاوہ دیگر محدثین نے ان کی تضعیف کی ہے وہ کثرت سے غلطیاں کرتے ہیں ، ¤ ۴- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں ہے ، جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے ، مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ، ¤ ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس پہلے سے اتنا مال ہو جس میں زکاۃ واجب ہو تو حاصل شدہ مال میں بھی زکاۃ واجب ہو گی اور اگر اس کے پاس حاصل شدہ مال کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو جس میں زکاۃ واجب ہوئی ہو تو کمائے ہوئے مال میں بھی کوئی زکاۃ واجب نہیں ہو گی جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے ، اور اگر اسے ( پہلے سے نصاب کو پہنچے ہوئے ) مال پر سال گزرنے سے پہلے کوئی کمایا ہوا مال ملا تو وہ اس مال کے ساتھ جس میں زکاۃ واجب ہو گئی ہے ، مال مستفاد کی بھی زکاۃ نکالے گا سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 632]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف، وهو فى حكم المرفوع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7595) (صحیح الإسناد) (یہ اثر عبد اللہ بن عمر کا قول ہے، یعنی موقوف ہے، جو مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔)
|
|
|
11: باب مَا جَاءَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ
باب: مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 633]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک سر زمیں پر دو قبلے کا ہونا درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سر زمین پر دو دین والے بطور برابری کے نہیں رہ سکتے کوئی حاکم ہو گا کوئی محکوم۔
۲؎: نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے کا مطلب یہ ہے کہ ذمیوں میں سے کوئی ذمی اگر جزیہ کی ادائیگی سے پہلے مسلمان ہو گیا ہو تو اس سے جزیہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (1244) // 1257 //، الضعيفة (4379) // ضعيف الجامع الصغير (6239)، ضعيف أبي داود (655 / 3032) نحوه //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(633،634) إسناده ضعيف /د 3032
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الخراج 28 (3032)، (تحفة الأشراف: 5399)، مسند احمد (1/285) (ضعیف) (سند میں قابوس ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. وَفِي الْبَاب عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَجَدِّ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ النَّصْرَانِيَّ إِذَا أَسْلَمَ وُضِعَتْ عَنْهُ جِزْيَةُ رَقَبَتِهِ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ " إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ جِزْيَةَ الرَّقَبَةِ، وَفِي الْحَدِيثِ مَا يُفَسِّرُ هَذَا حَيْثُ، قَالَ: إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ.
اس سند سے بھی قابوس سے اسی طرح مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس کی حدیث قابوس بن ابی ظبیان سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعید بن زید اور حرب بن عبیداللہ ثقفی کے دادا سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ نصرانی جب اسلام قبول کر لے تو اس کی اپنی گردن کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ليس على المسلمين عشور» ” مسلمانوں پر عشر نہیں ہے “ کا مطلب بھی گردن کا جزیہ ہے ، اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا : ” عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے ، مسلمانوں پر کوئی عشر نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 634]
💡 وضاحت:
ا؎: یہ حدیث سنن ابی داود میں ہے اس حدیث کا تشریح ”المرقاۃ شرح المشکاۃ“ اور ”عون المعبود“ میں دیکھ لیں، کچھ وضاحت اس مقام پر ”تحفۃ الأحوذی“ میں بھی آ گئی ہے، اور عشر سے مراد ٹیکس ہے۔
قال الشيخ الألباني:
// ضعيف الجامع الصغير (2050)، المشكاة (4039)، ضعيف أبي داود برقم (660 / 2046)، يرويه الجميع عن حرب بن عبيد الله، عن جده أبي أمه، عن أبيه //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(633،634) إسناده ضعيف /د 3032
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف)
|
|
|
12: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الْحُلِيِّ
باب: زیور کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، عَنْ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ".
عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا : ” اے گروہ عورتوں کی جماعت ! زکاۃ دو ۱؎ گو اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ دو ۔ کیونکہ قیامت کے دن جہنم والوں میں تم ہی سب سے زیادہ ہو گی “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 635]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف نے اس سے فرض صدقہ یعنی زکاۃ مراد لی ہے کیونکہ «تصدقن» امر کا صیغہ ہے اور امر میں اصل وجوب ہے یہی معنی باب کے مناسب ہے، لیکن دوسرے علماء نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے اور اس سے مراد نفل صدقات لیے ہیں اس لیے کہ خطاب ان عورتوں کو ہے جو وہاں موجود تھیں اور ان میں ساری ایسی نہیں تھیں کہ جن پر زکاۃ فرض ہوتی، یہ معنی لینے کی صورت میں حدیث باب کے مناسب نہیں ہو گی اور اس سے زیور کی زکاۃ کے وجوب پر استدلال صحیح نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما بعده (636)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (بہذا السیاق وبہذا المناسبة (تحفة الأشراف: 15887) وانظر: مسند احمد (6/363) (صحیح) (اگلی حدیث (636) سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهِمَ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " أَنَّهُ رَأَى فِي الْحُلِيِّ زَكَاةً " " وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ مَقَالٌ. وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةَ مَا كَانَ مِنْهُ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ، وَعَائِشَةُ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَيْسَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ انہیں اپنی حدیث میں وہم ہوا ہے ۱؎ انہوں نے کہا ہے ” عمرو بن الحارث سے روایت ہے وہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے سے روایت کر رہے ہیں “ اور صحیح یوں ہے ” زینب کے بھتیجے عمرو بن حارث سے روایت ہے “ ، ¤ ۲- نیز عمرو بن شعیب سے بطریق : «عن أبيه ، عن جده ، عبدالله بن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت ہے کہ آپ نے زیورات میں زکاۃ واجب قرار دی ہے ۲؎ اس حدیث کی سند میں کلام ہے ، ¤ ۳- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے ۔ صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم سونے چاندی کے زیورات میں زکاۃ کے قائل ہیں ۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک بھی یہی کہتے ہیں ۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں ابن عمر ، عائشہ ، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم شامل ہیں ، کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاۃ نہیں ہے ۔ بعض تابعین فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے ، اور یہی مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 636]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ انہوں نے عمرو بن حارث اور عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے کو دو الگ الگ آدمی جانا ہے اور پہلا دوسرے سے روایت کر رہا ہے جب کہ معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ دونوں ایک ہی آدمی ہیں ”ابن اخی زینب“ عمرو بن حارث کی صفت ہے عمرو بن حارث اور ابن اخی زینب کے درمیان «عن» کی زیادتی ابومعاویہ کا وہم ہے صحیح بغیر «عن» کے ہے جیسا کہ شعبہ کی روایت میں ہے۔
۲؎: اس سلسلہ میں بہتر اور مناسب بات یہ ہے کہ استعمال کے لیے بنائے گئے زیورات اگر فخر ومباہات، اور اسراف وتبذیر کے لیے اور زکاۃ سے بچنے کے لیے ہوں تو ان میں زکاۃ ہے بصورت دیگر ان میں زکاۃ واجب نہیں ہے۔ سونے کے زیورات کی زکاۃ کا نصاب ساڑھے سات تولے یعنی ۸۰ گرام اصلی سونا ہے کہ کم از کم اتنے وزن اصلی سونے پر ایک سال گزر جائے تو مالک ۵۰۔ ۲% کے حساب سے زکاۃ ادا کرے، یاد رکھیے اصلی خالص سونا ہال قیراط ہوتا ہے، تفصیل کے لیے ”فقہ الزکاۃ“ میں دیکھی جا سکتی ہے (ابو یحییٰ)۔
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 48 (1466)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1000)، سنن النسائی/الزکاة 82 (2584)، (تحفة الأشراف: أیضا: 15887)، مسند احمد (3/502)، سنن الدارمی/الزکاة 23 (1694) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا: " أَتُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟ " قَالَتَا: لَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟ " قَالَتَا: لَا، قَالَ: " فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ، وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” کیا تم دونوں اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو ؟ “ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تم پسند کرو گی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو تم دونوں ان کی زکاۃ ادا کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث کو مثنیٰ بن صباح نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے اور مثنیٰ بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 637]
قال الشيخ الألباني:
حسن بغير هذا اللفظ، الإرواء (3 / 296) // 817 //، المشكاة (1809)، صحيح أبي داود (1396)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8730) (حسن) (یہ حدیث اس سیاق سے ضعیف ہے، سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، مگر دوسری سند اور دوسرے سیاق سے یہ حدیث حسن ہے، الإرواء 3/296، صحیح ابی داود 1396)
|
|
|
13: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الْخُضْرَوَاتِ
باب: سبزیوں کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ الْخَضْرَاوَاتِ وَهِيَ الْبُقُولُ، فَقَالَ: " لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَلَيْسَ يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْحَسَنُ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ وَتَرَكَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا ، وہ آپ سے سبزیوں کی زکاۃ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا : ” ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے ، ¤ ۲- اور اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے ، اور اسے صرف موسیٰ بن طلحہ سے روایت کیا جاتا ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، ¤ ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سبزیوں میں زکاۃ نہیں ہے ، ¤ ۴- حسن ، عمارہ کے بیٹے ہیں ، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ۔ شعبہ وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے ، اور ابن مبارک نے انہیں متروک قرار دیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 638]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے لیکن چونکہ متعدد طرق سے مروی ہے جس سے تقویت پا کر یہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اس سے استدلال کیا جا سکے، اسی لیے اہل علم نے زکاۃ کے سلسلہ میں وارد نصوص کے عموم کی اس حدیث سے تخصیص کی ہے اور کہا ہے کہ سبزیوں میں زکاۃ نہیں ہے۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہوا اور دیگر بیسیوں روایات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے درمیان، صحابہ کرام کا آپس میں ایک دوسرے کے درمیان اور غیر مسلم بادشاہوں، سرداروں اور امراء اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین تحریری خط وکتابت کا سلسلہ عہد نبوی و عہد صحابہ میں جاری تھا، قارئین کرام منکرین حدیث کی دروغ گوئی اور کذب بیانی سے خبردار رہیں، اصل دین کے دشمن یہی لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (3 / 279)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(638) إسناده ضعيف ¤ الحسن بن عمارة ضعيف كما قال الترمزي وغيره، بل هو متروك (تق:1264) وقال الحافظ ابن حجر: وضعفه الجمھور (طبقات المدلسين:5/134) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11354) (صحیح) (سند میں حسن بن عمارہ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے: إرواء الغلیل رقم: 801)
|
|
|
14: باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ فِيمَا يُسْقَى بِالأَنْهَارِ وَغَيْرِهِ
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ وَقَدْ صَحَّ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس فصل کی سینچائی بارش یا نہر کے پانی سے کی گئی ہو ، اس میں زکاۃ دسواں حصہ ہے ، اور جس کی سینچائی ڈول سے کھینچ کر کی گئی ہو تو اس میں زکاۃ دسویں حصے کا آدھا یعنی بیسواں حصہ ۱؎ ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں انس بن مالک ، ابن عمر اور جابر سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۲- یہ حدیث بکیر بن عبداللہ بن اشج ، سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے بھی روایت کی گئی ہے ، اور ان سب نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، گویا یہ زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اور اس باب میں ابن عمر کی حدیث بھی صحیح ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۲؎ ، ¤ ۴- اور اسی پر بیشتر فقہاء کا عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 639]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں بالاتفاق «حولان حول» ”سال کا پورا ہونا“ شرط نہیں، البتہ نصاب شرط ہے یا نہیں جمہور ائمہ عشر یا نصف عشر کے لیے نصاب کو شرط مانتے ہیں، جب تک پانچ وسق نہ ہو عشر یا نصف عشر واجب نہیں ہو گا، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نصاب شرط نہیں، وہ کہتے ہیں: «يا أيها الذين آمنوا أنفقوا من طيبات ما كسبتم ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه واعلموا أن الله غني حميد» (البقرة: 267) ”اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو، اور جان لو اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور خوبیوں والا ہے“۔ «مما أخرجنا» میں «ما» کلمہ عموم ہے اس طرح «فيما سقت السماء وفيما سقى بالنضح» میں بھی «ما» کلمہ عموم ہے۔
۲؎: اور جو آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما بعده (640)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزکاة 17 (1816)، (تحفة الأشراف: 12208 و13483) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ سَنَّ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ جاری فرمایا کہ جسے بارش یا چشمے کے پانی نے سیراب کیا ہو ، یا عثری یعنی رطوبت والی زمین ہو جسے پانی دینے کی ضرورت نہ پڑتی ہو تو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے ، اور جسے ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس میں دسویں کا آدھا یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 640]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1817)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 55 (1483)، سنن ابی داود/ الزکاة 11 (1596)، سنن النسائی/الزکاة 25 (2490)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 17 (1812)، (تحفة الأشراف: 6977) (صحیح)
|
|
|
15: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ مَالِ الْيَتِيمِ
باب: یتیم کے مال کی زکاۃ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " أَلَا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ فِيهِ وَلَا يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، لِأَنَّ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَاب، فَرَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةً، مِنْهُمْ عُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعَائِشَةُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةٌ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَشُعَيْبٌ قَدْ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَقَالَ: هُوَ عِنْدَنَا وَاهٍ وَمَنْ ضَعَّفَهُ فَإِنَّمَا ضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ أَنَّهُ يُحَدِّثُ مِنْ صَحِيفَةِ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَمَّا أَكْثَرُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فَيَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَيُثْبِتُونَهُ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا تو فرمایا : ” جو کسی ایسے یتیم کا ولی ( سر پرست ) ہو جس کے پاس کچھ مال ہو تو وہ اسے تجارت میں لگا دے ، اسے یونہی نہ چھوڑ دے کہ اسے زکاۃ کھا لے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اس لیے کہ مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن شعیب سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا : … اور آگے یہی حدیث ذکر کی ، ¤ ۳- عمرو : شعیب کے بیٹے ہیں ، اور شعیب محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں ۔ اور شعیب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماعت کی ہے ، یحییٰ بن سعید نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : یہ ہمارے نزدیک ضعیف ہیں ، اور جس نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے صرف اس وجہ سے ضعیف کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو کے صحیفے سے حدیث بیان کی ہے ۔ لیکن اکثر اہل حدیث علماء عمرو بن شعیب کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں اور اسے ثابت مانتے ہیں جن میں احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہما بھی شامل ہیں ، ¤ ۴- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے ، صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں کی رائے ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ ہے ، انہیں میں عمر ، علی ، عائشہ ، اور ابن عمر ہیں ۔ اور یہی مالک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ¤ ۵- اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ نہیں ہے ۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 641]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زکاۃ دیتے دیتے کل مال ختم ہو جائے
۲؎: یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ «رفع القلم عن ثلاث: صبي، ومجنون، ونائم» کے خلاف ہے اور حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ «تأكله الصدقة» میں صدقہ سے مراد نفقہ ہے۔ مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (788) // ضعيف الجامع الصغير (2179) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(641) إسناده ضعيف ¤ المثني: ضعيف (د 1899) وتابعه محمد بن عبدالله العرزمي وھو متروك (تق:6108)وللحديث طرق ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8777) (ضعیف) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، اخیر عمر میں مختلط بھی ہو گئے تھے)
|
|
|
16: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْعَجْمَاءَ جُرْحُهَا جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جانور کا زخم رائیگاں ہے ۱؎ یعنی معاف ہے ، کان رائیگاں ہے اور کنواں رائیگاں ہے ۲؎ اور رکاز ( دفینے ) میں سے پانچواں حصہ دیا جائے گا “ ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس بن مالک ، عبداللہ بن عمرو ، عبادہ بن صامت ، عمرو بن عوف مزنی اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 642]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جانور کسی کو زخمی کر دے تو جانور کے مالک پر اس زخم کی دیت نہ ہو گی۔
۲؎: یعنی کان یا کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہو گی۔ ۳؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رکاز (دفینہ) میں زکاۃ نہیں بلکہ خمس ہے، اس کی حیثیت مال غنیمت کی سی ہے، اس میں خمس واجب ہے جو بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور باقی کا مالک وہ ہو گا جسے یہ دفینہ ملا ہے، رہا «معدن» ”کان“ تو وہ رکاز نہیں ہے اس لیے اس میں خمس نہیں ہو گا بلکہ اگر وہ نصاب کو پہنچ رہا ہے تو اس میں زکاۃ واجب ہو گی، جمہور کی یہی رائے ہے، حنفیہ کہتے ہیں رکاز معدن اور کنز دونوں کو عام ہے اس لیے وہ معدن میں بھی خمس کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2673)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدیات 28 (6912)، صحیح مسلم/الحدود 11 (1710)، (تحفة الأشراف: 13227)، و15238) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 66 (1499)، والمساقاة 3 (2355)، والدیات 29 (6913)، سنن ابی داود/ الخراج 40 (3085)، والدیات 30 (4593)، سنن النسائی/الزکاة 28 (2497)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 4 (2673)، موطا امام مالک/الزکاة 4 (9)، العقول 18 (12)، مسند احمد (2/228، 254، 274، 285، 319، 382، 386، 406، 411، 454، 456، 467، 475، 482، 495، 501، 507)، سنن الدارمی/الزکاة 30 (1710)، والمؤلف في الأحکام 37 (1377) من غیر ذلک الطریق
|
|
|
17: باب مَا جَاءَ فِي الْخَرْصِ
باب: درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، يَقُولُ: جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا، فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْخَرْصِ، وَبِحَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: وَالْخَرْصُ: إِذَا أَدْرَكَتِ الثِّمَارُ مِنَ الرُّطَبِ وَالْعِنَبِ مِمَّا فِيهِ الزَّكَاةُ بَعَثَ السُّلْطَانُ خَارِصًا يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، وَالْخَرْصُ أَنْ يَنْظُرَ مَنْ يُبْصِرُ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الزَّبِيبِ كَذَا وَكَذَا وَمِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا فَيُحْصِي عَلَيْهِمْ وَيَنْظُرُ مَبْلَغَ الْعُشْرِ مِنْ ذَلِكَ فَيُثْبِتُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُخَلِّي بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الثِّمَارِ فَيَصْنَعُونَ مَا أَحَبُّوا، فَإِذَا أَدْرَكَتِ الثِّمَارُ أُخِذَ مِنْهُمُ الْعُشْرُ. هَكَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ ہماری مجلس میں آئے تو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جب تم تخمینہ لگاؤ تو تخمینہ کے مطابق لو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو ، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں عائشہ ، عتاب بن اسید اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ ¤ ۲- تخمینہ لگانے کے سلسلے میں اکثر اہل علم کا عمل سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کی حدیث ہی کے مطابق احمد اور شافعی بھی کہتے ہیں ، تخمینہ لگانا یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور کے پھل جن کی زکاۃ دی جاتی ہے پک جائیں تو سلطان ( انتظامیہ ) ایک تخمینہ لگانے والے کو بھیجے جو اندازہ لگا کر بتائے کہ اس میں کتنا غلہ یا پھل ہو گا اور تخمینہ لگانا یہ ہے کہ کوئی تجربہ کار آدمی دیکھ کر یہ بتائے کہ اس درخت سے اتنا اتنا انگور نکلے گا ، اور اس سے اتنی اتنی کھجور نکلے گی ۔ پھر وہ اسے جوڑ کر دیکھے کہ کتنا عشر کی مقدار کو پہنچا ، تو ان پر وہی عشر مقرر کر دے ۔ اور پھل کے پکنے تک ان کو مہلت دے ، پھل توڑنے کے وقت اپنا عشر دیتے رہیں ۔ پھر مالکوں کو اختیار ہو گا کہ بقیہ سے جو چاہیں کریں ۔ بعض اہل علم نے تخمینہ لگانے کی تشریح اسی طرح کی ہے ، اور یہی مالک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 643]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ خطاب زکاۃ وصول کرنے والے عمال اور ان لوگوں کو ہے جو زکاۃ کی وصولی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تہائی یا چوتھائی حصہ چھوڑ دینے کا حکم اس لیے ہے تاکہ مالک پھل توڑتے وقت اپنے اعزہ و اقرباء اور اپنے ہمسایوں مسافروں وغیرہ پر خرچ کر سکے اور اس کی وجہ سے وہ کسی حرج اور تنگی میں مبتلا نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ضعيف أبي داود (281)، الضعيفة (2556)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 14 (1605)، سنن النسائی/الزکاة 14 (1605)، سنن النسائی/الزکاة 26 (2493)، (تحفة الأشراف: 4647)، مسند احمد (4/3) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن مسعود لین الحدیث ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَارِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ " وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ: " إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَثْبَتُ وَأَصَحُّ.
عتاب بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے جو ان کے انگوروں اور دوسرے پھلوں کا تخمینہ لگاتا تھا ۔ اسی سند سے ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکاۃ کے بارے میں فرمایا : ” اس کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا ، جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے ، پھر کشمش ہو جانے کے بعد اس کی زکاۃ نکالی جائے گی جیسے کھجور کی زکاۃ تمر ہو جانے کے بعد نکالی جاتی ہے ۔ ( یعنی جب خشک ہو جائیں ) “ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ابن جریج نے یہ حدیث بطریق : «ابن شهاب ، عن عروة ، عن عائشة» روایت کی ہے ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : ابن جریج کی حدیث محفوظ نہیں ہے اور ابن مسیب کی حدیث جسے انہوں نے عتاب بن اسید سے روایت کی ہے زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے ( بس صرف سنداً ، ورنہ ضعیف یہ بھی ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 644]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (807)، ضعيف أبي داود (280) // عندنا برقم (347 / 1603) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(644) إسناده ضعيف /د 1603،1604، ن 2619، جه 1819
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 13 (1603)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2619)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 9748) (ضعیف) (سعید بن المسیب اور عتاب رضی الله عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
|
|
|
18: باب مَا جَاءَ فِي الْعَامِلِ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق أَصَحُّ.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والا ، اللہ کی راہ میں لڑنے والے غازی کی طرح ہے ، جب تک کہ وہ اپنے گھر لوٹ نہ آئے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور یزید بن عیاض محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ، ¤ ۳- محمد بن اسحاق کی یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 645]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (1809)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الخراج 7 (2936) سنن ابن ماجہ/الزکاة14 (1809) (تحفة الأشراف: 3583) (صحیح)
|
|
|
19: باب مَا جَاءَ فِي الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ
باب: زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. وَقَدْ تَكَلَّمَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، وَهَكَذَا يَقُولُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَيَقُولُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: وَالصَّحِيحُ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ. وَقَوْلُهُ: " الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا "، يَقُولُ: عَلَى الْمُعْتَدِي مِنَ الْإِثْمِ كَمَا عَلَى الْمَانِعِ إِذَا مَنَعَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابن عمر ، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے ۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں ۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب ، عن سعد بن سنان ، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب ، عن سنان بن سعد ، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎ ، ¤ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ” سنان بن سعد “ ہے ، ¤ ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے پر وہی گناہ ہے جو نہ دینے والے پر ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 646]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یزید بن ابی حبیب اور انس کے درمیان جو راوی ہیں ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، لیث بن سعد نے ”سعد بن سنان“ کہا ہے اور عمرو بن حارث اور لہیعہ نے ”سنان بن سعد“ کہا ہے، امام بخاری نے عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ کے قول کو صحیح کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1808)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(646) إسناده ضعيف /د 1585، جه 1808
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 4 (1585)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 14 (1808)، (تحفة الأشراف: 847) (حسن)
|
|
|
20: باب مَا جَاءَ فِي رِضَا الْمُصَدِّقِ
باب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلَا يُفَارِقَنَّكُمْ إِلَّا عَنْ رِضًا ".
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب زکاۃ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ تم سے راضی اور خوش ہو کر ہی جدا ہو “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 647]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1802)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 55 (989)، سنن النسائی/الزکاة 14 (2463)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 11 (1802)، (تحفة الأشراف: 3215)، مسند احمد (4/360، 361، 364، 365) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ.
اس سند سے بھی جریر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ داود کی شعبی سے روایت کی ہوئی حدیث مجالد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، مجالد کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے وہ کثیر الغلط ہیں یعنی ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 648]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
21: باب مَا جَاءَ أَنَّ الصَّدَقَةَ تُؤْخَذُ مِنَ الأَغْنِيَاءِ فَتُرَدُّ فِي الْفُقَرَاءِ
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَجَعَلَهَا فِي فُقَرَائِنَا وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا فَأَعْطَانِي مِنْهَا قَلُوصًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا اور اس نے زکاۃ ہمارے مالداروں سے لی اور اسے ہمارے فقراء کو دے دیا ۔ میں اس وقت ایک یتیم لڑکا تھا ، تو اس نے مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوجحیفہ کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 649]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(649) إسناده ضعيف ¤ أشعث بن سوار: ضعيف (تق:524) وقال النووي: وقد ضعفه الأكثرون ووثقه بعضھم (المجموع شرح المھذب 22/8)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11804) (ضعیف الإسناد) (سند میں اشعث بن سوار ضعیف ہیں، لیکن مسئلہ یہی ہے جو دیگر دلائل سے ثابت ہے)
|
|
|
22: باب مَا جَاءَ مَنْ تَحِلُّ لَهُ الزَّكَاةُ
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ، قَالَ: " خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال کرنا اس کے چہرے پر خراش ہو گی ۱؎ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کتنے مال سے وہ سوال کرنے سے بے نیاز ہو جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے سے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- شعبہ نے اسی حدیث کی وجہ سے حکیم بن جبیر پر کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 650]
💡 وضاحت:
۱؎: راوی کو شک ہے کہ آپ نے «خموش» کہا یا «خدوش» یا «کدوح» سب کے معنی تقریباً خراش کے ہیں، بعض حضرات «خدوش» ، «خموش» اور «کدوح» کو مترادف قرار دے کر شک راوی پر محمول کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زخم کے مراتب ہیں کم درجے کا زخم «کدوح» پھر «خدوش» اور پھر «خموش» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(650،651) إسناده ضعيف /د 1626، ن 2593، جه 1804
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 23 (1626)، سنن النسائی/الزکاة 87 (2593)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) (صحیح) (سند میں حکیم بن جبیر اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن اگلی روایت میں زبید کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ صَاحِبُ شُعْبَةَ: لَوْ غَيْرُ حَكِيمٍ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ: وَمَا لِحَكِيمٍ لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ شُعْبَةُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ سُفْيَانُ: زُبَيْدًا يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ خَمْسُونَ دِرْهَمًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ الصَّدَقَةُ، قَالَ: وَلَمْ يَذْهَبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَوَسَّعُوا فِي هَذَا، وَقَالُوا: إِذَا كَانَ عِنْدَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ أَكْثَرُ وَهُوَ مُحْتَاجٌ فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الزَّكَاةِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ.
سفیان نے بھی حکیم بن جبیر سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے ۔ جب سفیان نے یہ حدیث روایت کی تو ان سے شعبہ کے شاگرد عبداللہ بن عثمان نے کہا : کاش حکیم کے علاوہ کسی اور نے اس حدیث کو بیان کیا ہوتا ، تو سفیان نے ان سے پوچھا ـ : کیا بات ہے کہ شعبہ حکیم سے حدیث روایت نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ نہیں کرتے ۔ تو سفیان نے کہا : میں نے اسے زبید کو محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے سنا ہے ، اور اسی پر ہمارے بعض اصحاب کا عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ، عبداللہ بن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی کے پاس پچاس درہم ہوں تو اس کے لیے زکاۃ جائز نہیں ۔ اور بعض اہل علم حکیم بن جبیر کی حدیث کی طرف نہیں گئے ہیں بلکہ انہوں نے اس میں مزید گنجائش رکھی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی کے پاس پچاس درہم یا اس سے زیادہ ہوں اور وہ ضرورت مند ہو تو اس کو زکاۃ لینے کا حق ہے ، اہل فقہ و اہل حدیث میں سے شافعی وغیرہ کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 651]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(650،651) إسناده ضعيف /د 1626، ن 2593، جه 1804
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
23: باب مَا جَاءَ مَنْ لاَ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ح. وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ قَوِيًّا مُحْتَاجًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ أَجْزَأَ عَنِ الْمُتَصَدِّقِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ " وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى الْمَسْأَلَةِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائز ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اور شعبہ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابوہریرہ ، حبشی بن جنادہ اور قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۴- اور اس حدیث کے علاوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ” کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی ہٹے کٹے کے لیے مانگنا جائز ہے “ اور جب آدمی طاقتور و توانا ہو لیکن محتاج ہو اور اس کے پاس کچھ نہ ہو اور اسے صدقہ دیا جائے تو اہل علم کے نزدیک اس دینے والے کی زکاۃ ادا ہو جائے گی ۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی توجیہ یہ کی ہے کہ «لا تحل له الصدقة» کا مطلب ہے کہ اس کے لیے مانگنا درست نہیں ہے ۲؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 652]
💡 وضاحت:
۱؎: «ذی مرّۃ» کے معنی «ذی قوّۃ» کے ہیں اور «سویّ» کے معنی جسمانی طور پر صحیح و سالم کے ہیں۔
۲؎: یعنی «لا تحل له الصدقة» میں صدقہ مسئلہ (مانگنے) کے معنی میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (1444)، الإرواء (877)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 23 (1634)، (تحفة الأشراف: 8626)، مسند احمد (2/164)، سنن الدارمی/الزکاة 15 (1679) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، أَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ فَسَأَلَهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَاهُ وَذَهَبَ فَعِنْدَ ذَلِكَ حَرُمَتِ الْمَسْأَلَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ ".
حبشی بن جنادہ سلولی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا آپ عرفہ میں کھڑے تھے ، آپ کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ کی چادر کا کنارا پکڑ کر آپ سے مانگا ، آپ نے اسے دیا اور وہ چلا گیا ، اس وقت مانگنا حرام ہوا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں نہ کسی ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لیے سوائے جان لیوا فقر والے کے اور کسی بھاری تاوان میں دبے شخص کے ۔ اور جو لوگوں سے اس لیے مانگے کہ اس کے ذریعہ سے اپنا مال بڑھائے تو یہ مال قیامت کے دن اس کے چہرے پر خراش ہو گا ۔ اور وہ جہنم کا ایک گرم پتھر ہو گا جسے وہ کھا رہا ہو گا ، تو جو چاہے اسے کم کر لے اور جو چاہے زیادہ کر لے “ ا؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 653]
💡 وضاحت:
ا؎: مانگنے کی عادت اختیار کرنے والوں کو اس وعید پر غور وفکر کرنا چاہیئے، بالخصوص دین حق کی اشاعت و دعوت کا کام کرنے والے داعیان و مبلغین کو۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (3 / 384) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (877)، ضعيف الجامع الصغير (1781) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(653،654) إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف (د 2851)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3291) (صحیح) (سند میں مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح لغیرہ ہے، صحیح الترغیب 802، وتراجع الألبانی 557)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
اس سند سے بھی عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس سند سے یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 654]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(653،654) إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف (د 2851)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
24: باب مَا جَاءَ مَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ مِنَ الْغَارِمِينَ وَغَيْرِهِمْ
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجُوَيْرِيَةَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص ۱؎ کے پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے ، کسی آفت کی وجہ سے جو اسے لاحق ہوئی نقصان ہو گیا اور اس پر قرض زیادہ ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے صدقہ دو “ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا ، مگر وہ اس کے قرض کی مقدار کو نہ پہنچا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا : ” جتنا مل رہا ہے لے لو ، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱-ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، جویریہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 655]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد معاذ بن جبل رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2356)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة (1556)، سنن ابی داود/ البیوع 60 (3469)، سنن النسائی/البیوع 30 (4534)، و94 (4682)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 25 (2356)، (تحفة الأشراف: 4270)، مسند احمد (3/36) (صحیح)
|
|
|
25: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّدَقَةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَمَوَالِيهِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الضُّبَعِيُّ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ أَصَدَقَةٌ هِيَ أَمْ هَدِيَّةٌ؟ فَإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ أَكَلَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَبِي عَمِيرَةَ جَدِّ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ وَاسْمُهُ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي رَافِعٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ. وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدُّ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے : ” صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ “ اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سلمان ، ابوہریرہ ، انس ، حسن بن علی ، ابوعمیرہ ( معرف بن واصل کے دادا ہیں ان کا نام رشید بن مالک ہے ) ، میمون ( یا مہران ) ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، ابورافع اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- نیز یہ حدیث عبدالرحمٰن بن علقمة ، سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن أبي عقيل سے اور عبدالرحمٰن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 656]
💡 وضاحت:
۱؎: صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ سے آخرت کا ثواب مقصود ہوتا ہے اور اس کا دینے والا باعزت اور لینے والا ذلیل و حاجت مند سمجھا جاتا ہے جب کہ ہدیہ سے ہدیہ کئے جانے والے کا تقرب مقصود ہوتا ہے اور ہدیہ کرنے والی کی نظر میں اس کے باعزت اور مکرم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 98 (2614)، (تحفة الأشراف: 11386)، مسند احمد (5/5) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ: لَا حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمُهُ: أَسْلَمُ، وَابْنُ أَبِي رَافِعٍ هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی پر بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا : تم میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حصہ پاس کو ، مگر انہوں نے کہا : نہیں ، یہاں تک کہ میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں ، چنانچہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ، اور قوم کے موالی بھی قوم ہی میں سے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ہیں ، ان کا نام اسلم ہے اور ابن ابی رافع کا نام عبیداللہ بن ابی رافع ہے ، وہ علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے منشی تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 657]
💡 وضاحت:
۱؎: اس اصول کے تحت ابورافع کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہوا کیونکہ ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے، لہٰذا وہ بھی بنی ہاشم میں سے ہوئے اور بنی ہاشم کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ بنی ہاشم، بنی فاطمہ اور آل نبی کی طرف منسوب کرنے والے آج کتنے ہزار لوگ ہیں جو لوگوں سے زکاۃ وصدقات کا مال مانگ مانگ کر کھاتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ”شاہ جی“ ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (1829)، الإرواء (3 / 365 و 880)، الصحيحة (1612)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 29 (1650)، سنن النسائی/الزکاة 97 (2613)، (تحفة الأشراف: 12018)، مسند احمد (6/10) (صحیح)
|
|
|
26: باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الْقَرَابَةِ
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَإِنَّهُ طَهُورٌ " وقَالَ: " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالرَّبَاب هِيَ أُمُّ الرَّائِحِ بِنْتُ صُلَيْعٍ، وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الرَّبَاب، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ، وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ عَوْن , وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَاب، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ.
سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے ، کیونکہ اس میں برکت ہے ، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے “ ، نیز فرمایا : ” مسکین پر صدقہ ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں ، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق : «حفصة بنت سيرين ، عن الرباب ، عن سلمان بن عامر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- نیز شعبہ نے بطریق : «عاصم ، عن حفصة ، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے ، ¤ ۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق : «حفصة ، عن الرباب ، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے ، ¤ ۶- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اہلیہ زینب ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 658]
💡 وضاحت:
۱؎: جس میں رباب کے واسطے کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
(جملة " إذا أفطر ... ") ضعيف، والصحيح من فعله صلى الله عليه وسلم، (جملة " الصدقة على.... ") صحيح (جملة " إذا أفطر ... ")، ابن ماجة (1699)، (جملة " الصدقة على ... ")، ابن ماجة (1844) // عندنا برقم (1494) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصوم 21 (2355)، (بالشطر الأول فحسب)، سنن النسائی/الزکاة 82 (2583)، (بالشطر الثانی فحسب)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، (بالشطر الأول)، والزکاة 28 (1844)، (بالشطر الثانی)، (تحفة الأشراف: 4486)، مسند احمد (4/18، 214)، سنن الدارمی/الزکاة 38 (1723)، (بالشطر الثانی) نیز دیکھئے رقم: 695پہلا فقرہ صیام سے متعلق (ضعیف) ہے، سند میں رباب، أم الرائح لین الحدیث ہیں، اور صدقہ سے متعلق دوسرا فقرہ صحیح ہے، تراجع الالبانی 132، والسراج المنیر 1873، 1874)
|
|
|
27: باب مَا جَاءَ أَنَّ فِي الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ
باب: مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّكَاةِ، فَقَالَ: " إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ "، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ سورة البقرة آية 177 الْآيَةَ.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا ، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ۱؎ “ پھر آپ نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی : «ليس البر أن تولوا وجوهكم» ” نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو “ ۲؎ الآیۃ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 659]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر یہ حدیث «ليس في المال حق سوى الزكاة» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ زکاۃ اللہ کا حق ہے اور مال میں زکاۃ کے علاوہ جو دوسرے حقوق واجبہ ہیں ان کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے۔
۲؎: پوری آیت اس طرح ہے: «ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملآئكة والكتاب والنبيين وآتى المال على حبه ذوي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل والسآئلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتى الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون» (البقرة: 177) ”ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقۃً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے غلاموں کو آزاد کرنے نماز کی پابندی اور زکاۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں“ آیت سے استدلال اس طرح سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں مذکورہ وجوہ میں مال دینے کا ذکر فرمایا ہے پھر اس کے بعد نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1789)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(659،660) إسناده ضعيف / جه 1789 ¤ أبوحمزة ميمون الأعور: ضعيف (تق:7057)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزکاة 3 (1789)، (لکن لفظہ ”لیس فی المال حق سوی الزکاة“)، سنن الدارمی/الزکاة 13 (1677) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف راوی ہے، ابو حمزہ میمون بھی ضعیف ہیں، اور ابن ماجہ کے یہاں اسود بن عامر کی جگہ یحییٰ بن آدم ہیں لیکن ان کی روایت شریک کے دیگر تلامذہ کے برخلاف ہے، دونوں سیاق سے یہ ضعیف ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ، وَأَبُو حَمْزَةَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ يُضَعَّفُ، وَرَوَى بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ قَوْلَهُ وَهَذَا أَصَحُّ.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے ۱؎ ، ¤ ۲- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے ، ¤ ۳- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 660]
💡 وضاحت:
۱؎: «إسناده ليس بذلك» الفاظ جرح میں سے ہے، اس کا تعلق مراتب جرح کے پہلے مرتبہ سے ہے، جو سب سے ہلکا مرتبہ ہے، ایسے راوی کی حدیث قابل اعتبار ہوتی ہے یعنی تقویت کے قابل اور اس کے لیے مزید روایات تلاش کی جا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف أيضا //، المشكاة (1 / 597)، ضعيف سنن ابن ماجة (397) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(659،660) إسناده ضعيف / جه 1789 ¤ أبوحمزة ميمون الأعور: ضعيف (تق:7057)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (ضعیف)
|
|
|
28: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو ، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے ، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ ، عدی بن حاتم ، انس ، عبداللہ بن ابی اوفی ، حارثہ بن وہب ، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 661]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حرام صدقہ اللہ قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ صدقہ دینے والا حرام کا مالک ہی نہیں ہوتا اس لیے اسے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
۲؎: «یمین» کا ذکر تعظیم کے لیے ہے ورنہ رحمن کے دونوں ہاتھ «یمین» ہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ظلال الجنة (623)، التعليق الرغيب، الإرواء (886)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 8 (تعلیقا عقب حدیث رقم: 1410)، والتوحید 23 (تعلیقا عقب حدیث رقم: 7430)، صحیح مسلم/الزکاة 19 (1014)، سنن النسائی/الزکاة 48 (2526)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 28 (1842)، (تحفة الأشراف: 13379)، مسند احمد (2/331، 418، 538)، سنن الدارمی/الزکاة 35 (1717) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 8 (1410)، والتوحید 23 (7430)، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر المذکور)، و مسند احمد (2/381، 419، 431، 471، 541) من غیر ہذا الطریق
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ ". وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة التوبة آية 104، وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ سورة التوبة آية 104، و يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ، وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالُوا: قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ. هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ: أَمِرُّوهَا بِلَا كَيْفٍ، وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ، وَقَالُوا: هَذَا تَشْبِيهٌ وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ، فَتَأَوَّلَتْ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الْآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ، وَقَالُوا: إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ، وقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ: يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ، فَإِذَا قَالَ: سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ، وَأَمَّا إِذَا قَالَ: كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: " يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ " وَلَا يَقُولُ كَيْفَ، وَلَا يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلَا كَسَمْعٍ، فَهَذَا لَا يَكُونُ تَشْبِيهًا، وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابهِ: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الشورى آية 11.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے ۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ” کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے “ اور « ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات» ” اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ” اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں ، ان پر ایمان لایا جائے ، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا ، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے ۔ اور اسی طرح مالک ، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے ، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے ، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ” ہاتھ ، کان ، آنکھ “ کا ذکر کیا ہے ۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں ۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے : «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ” یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے ، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے ، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے “ تو یہ تشیبہ ہوئی ۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے ، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی ، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا : «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ” اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 662]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان پر ایمان لاؤ اور ان کی کیفیت کے بارے میں گفتگو نہ کرو۔ یہاں آج کل کے صوفیاء و مبتدعین کے عقائد کا بھی رد ہوا، یہ لوگ سلف صالحین کے برعکس اللہ کی صفات کی تاویل اور کیفیت بیان کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
منكر بزيادة:
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(662) إسناده ضعيف ¤ عباد منصور ضعيف (د 133) والحديث السابق (الأصل:661) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14287)، وانظر: مسند احمد (2/268، 404) (منکر) (”وتصدیق ذلک“ کے لفظ سے منکر ہے، عباد بن منصور اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے اور دوسرے کی روایتوں میں اس اضافہ کا تذکرہ نہیں ہے، یعنی اس اضافہ کے بغیر حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: " شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ "، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں “ ، پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا : ” رمضان میں صدقہ کرنا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 663]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (889)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(663) إسناده ضعيف ¤ صدقة بن موسي: ضعيف (د 4200)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 449) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ حافظہ کے ضعیف راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّارُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ عَنْ مِيتَةِ السُّوءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 664]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 22)، الإرواء (885) // ضعيف الجامع الصغير (1489) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(664) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن عيسي الخزاز: ضعيف (تق:3524) والحسن عنعن (تقدم: 21) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 529) (صحیح) (حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عبداللہ بن عیسیٰ الخزار ضعیف ہیں لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں دیکھئے الصحیحة رقم: 1908)
|
|
|
29: باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ السَّائِلِ
باب: مانگنے والے کے حق کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجید حواء رضی الله عنہا ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ ( تو میں کیا کروں ؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ام بجید رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، حسین بن علی ، ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 665]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں مبالغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ سائل کو یوں ہی مت لوٹاؤ جو بھی میسر ہو اسے دے دو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 29)، صحيح أبي داود (1467)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 33 (1667)، سنن النسائی/الزکاة 70 (2566)، (تحفة الأشراف: 1835)، مسند احمد (6/382- 383)، وأخرجہ موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 5 (8)، و مسند احمد (704)، و (6/435)، من غیر ہذا الطریق والسیاق (صحیح)
|
|
|
30: باب مَا جَاءَ فِي إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ
باب: تالیف قلب اور قریب لانے کے مقصد سے زکاۃ میں سے خرچ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: " أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ فَمَا زَالَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بِهَذَا أَوْ شِبْهِهِ فِي الْمُذَاكَرَةِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ صَفْوَانَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: " أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ أَصَحُّ وَأَشْبَهُ، إِنَّمَا هُوَ: سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ صَفْوَانَ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعْطَوْا، وَقَالُوا: إِنَّمَا كَانُوا قَوْمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَأَلَّفُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى أَسْلَمُوا، وَلَمْ يَرَوْا أَنْ يُعْطَوْا الْيَوْمَ مِنَ الزَّكَاةِ عَلَى مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ كَانَ الْيَوْمَ عَلَى مِثْلِ حَالِ هَؤُلَاءِ وَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يَتَأَلَّفَهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَعْطَاهُمْ جَازَ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے روز مجھے دیا ، آپ مجھے ( فتح مکہ سے قبل ) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے ، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا ، ¤ ۲- اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے ، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ۱؎ ، ¤ ۴- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے ، سفیان ثوری ، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے ، یہ شافعی کا قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 666]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ سعید بن مسیب نے صفوان بن امیہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے اور راوی فلان عن فلان اسی وقت کہتا ہے جب اس نے اس سے کچھ سنا ہو گو ایک ہی حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم میں «أن صفوان قال» ہی ہے) امام شافعی کا قول قابل قبول اور قابل عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 14 (2313)، (بلفظ ”عن ابن المسیب أن صفوان قال: …“)، (تحفة الأشراف: 4944)، مسند احمد (3/401) و (6/465) (صحیح)
|
|
|
31: باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَصَدِّقِ يَرِثُ صَدَقَتَهُ
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: " صُومِي عَنْهَا " قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا يُعْرَفُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا حَلَّتْ لَهُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا الصَّدَقَةُ شَيْءٌ جَعَلَهَا لِلَّهِ، فَإِذَا وَرِثَهَا فَيَجِبُ أَنْ يَصْرِفَهَا فِي مِثْلِهِ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی ، اب وہ مر گئیں ( تو اس لونڈی کا کیا ہو گا ؟ ) آپ نے فرمایا : ” تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اُسے تمہیں لوٹا بھی دیا “ ۔ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے ، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے “ ، اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، ان کی طرف سے حج کر لے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بریدہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے ۔ ¤ ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے ، ¤ ۴- اور بعض کہتے ہیں : صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہو جائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے ( یہ زیادہ افضل ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 667]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1759 و 2394)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 27 (1149)، سنن ابی داود/ الزکاة 31 (1656)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 3 (2394)، (تحفة الأشراف: 1980)، مسند احمد (5/351، 361) (صحیح)
|
|
|
32: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْعَوْدِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ.
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا ، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا صدقہ واپس نہ لو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 668]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے، ظاہر حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء نے اپنے دیئے ہوئے صدقے کے خریدنے کو حرام کہا ہے، لیکن جمہور نے اسے کراہت تنزیہی پر محمول کیا ہے کیونکہ فی نفسہ اس میں کوئی قباحت نہیں، قباحت دوسرے کی وجہ سے ہے کیونکہ بسا اوقات صدقہ دینے والا لینے والے سے جب اپنا صدقہ خریدتا ہے تو اس کے اس احسان کی وجہ سے جو صدقہ دے کر اس نے اس پر کیا تھا وہ قیمت میں رعایت سے کام لیتا ہے، نیز بظاہر یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث «لا تحل الصدقة إلا لخمسة لعامل عليها اورجل اشتراها بما … الحديث» کے معارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ عمر رضی الله عنہ والی حدیث کراہت تنزیہی پر محمول کی جائے گی اور ابوسعید رضی الله عنہ والی روایت بیان جواز پر، یا عمر رضی الله عنہ کی روایت نفل صدقے کے سلسلہ میں ہے اور ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت فرض صدقے کے بارے میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2390)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 100 (2617)، (تحفة الأشراف: 10526)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 59 (1490)، والہبة 30 (2623)، و37 (2636)، والوصایا 31 (2775)، والجہاد 119 (2970)، و137 (3003)، صحیح مسلم/الہبات 1 (1620)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2616)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 1 (2390)، موطا امام مالک/الزکاة 26 (49)، مسند احمد (1/40، 54)، من غیر ہذا الطریق کما أخرجہ صحیح البخاری/الزکاة 59 (1489)، وسنن النسائی/الزکاة 100 (2618)، من مسند عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما (صحیح)
|
|
|
33: باب مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ " أُمِّي تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ أَهْلُ الْعِلْمِ، يَقُولُونَ: لَيْسَ شَيْءٌ يَصِلُ إِلَى الْمَيِّتِ إِلَّا الصَّدَقَةُ وَالدُّعَاءُ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ: وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّ لِي مَخْرَفًا يَعْنِي: بُسْتَانًا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، اس نے عرض کیا : میرا ایک باغ ہے ، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے ، ¤ ۳- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ۱؎ ، ¤ ۴- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 669]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دونوں کے سلسلہ میں اہل سنت والجماعت میں کوئی اختلاف نہیں، اختلاف صرف بدنی عبادتوں کے سلسلہ میں ہے جیسے صوم و صلاۃ اور قرأت قرآن وغیرہ عبادتیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (6566)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوصایا 20 (2762)، سنن ابی داود/ الوصایا 15 (2882)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3685)، (تحفة الأشراف: 6164) (صحیح)
|
|
|
34: باب مَا جَاءَ فِي نَفَقَةِ الْمَرْأَةِ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: " لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامُ؟ قَالَ: " ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ". وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا : ” عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اور کھانا بھی نہیں ؟ ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص ، اسماء بنت ابی بکر ، ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 670]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2295)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2295)، (تحفة الأشراف: 4883)، مسند احمد (5/267) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَصَدَّقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ، وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لَهُ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور اتنا ہی اجر اس کے شوہر کو بھی ، اور خزانچی کو بھی ، اور ان میں کسی کا اجر دوسرے کے اجر کی وجہ سے کم نہیں کیا جاتا ۔ شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کے خرچ کرنے کا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 671]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2294)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 16154) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَعْطَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا بِطِيبِ نَفْسٍ غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِهِ لَهَا مَا نَوَتْ حَسَنًا وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، لَا يَذْكُرُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَسْرُوقٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوش دلی کے ساتھ بغیر فساد کی نیت کے کوئی چیز دے تو اسے مرد کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا ۔ اسے اپنی نیک نیتی کا ثواب ملے گا اور خازن کو بھی اسی طرح ثواب ملے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابووائل سے روایت کی ہے ، زیادہ صحیح ہے ، عمرو بن مرہ اپنی روایت میں مسروق کے واسطے کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 672]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (671)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 17 (1425)، و25 (1437)، و26 (1439)، والبیوع 12 (2065)، صحیح مسلم/الزکاة 25 (1024)، سنن ابی داود/ الزکاة 44 (1685)، سنن النسائی/الزکاة 57 (2540)، سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2294)، (تحفة الأشراف: 17608)، مسند احمد (6/44، 99، 378) (صحیح)
|
|
|
35: باب مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ، إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَتَكَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ: إِنِّي لَأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعٌ إِلَّا مِنَ الْبُرِّ، فَإِنَّهُ يُجْزِئُ نِصْفُ صَاعٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَرَوْنَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے - صدقہ فطر ۱؎ میں ایک صاع گیہوں ۲؎ یا ایک صاع جو ، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے ۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی الله عنہ مدینہ آئے ، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا ، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں ۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے ، یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے ، اس میں آدھا صاع کافی ہے ، ¤ ۴- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے ۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 673]
💡 وضاحت:
۱؎: صدقہ فطر کی فرضیت رمضان کے آغاز کے بعد عید سے صرف دو روز پہلے ۲ ھ میں ہوئی، اس کی ادائیگی کا حکم بھی نماز عید سے پہلے پہلے ہے تاکہ معاشرے کے ضرورت مند حضرات اس روز مانگنے سے بے نیاز ہو کر عام مسلمانوں کے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں، اس کی مقدار ایک صاع ہے خواہ کوئی بھی جنس ہو، صدقہ فطر کے لیے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ اور صاع ڈھائی کلوگرام کے برابر ہوتا ہے۔
۲؎: «صاعاً من طعام» میں «طعام» سے مراد «حنطۃ» ”گیہوں“ ہے کیونکہ «طعام» کا لفظ مطلقاً گیہوں کے معنی میں بولا جاتا تھا جب کہا جاتا ہے: «إذهب إلى سوق الطعام» تو اس سے «سوق الحنطۃ» ”گیہوں کا بازار“ ہی سمجھا جاتا تھا، اور بعض لوگوں نے کہا «من طعام مجمل» ہے اور آگے اس کی تفسیر ہے، یہ «عطف الخاص علی العام» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1829)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 72 (1505)، و73 (1506)، و75 (1508)، و76 (1510)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (985)، سنن ابی داود/ الزکاة 19 (1616)، سنن النسائی/الزکاة 38 (2515)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1829)، (تحفة الأشراف: 4269)، مسند احمد (3/23، 73، 98)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1704) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ مُنَادِيًا فِي فِجَاجِ مَكَّةَ، أَلَا إِنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ سِوَاهُ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ: عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ مِينَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ. حَدَّثَنَا جَارُودُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ ” سنو ! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام ، چھوٹا ہو یا بڑا ، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی ، اور کہا : «العباس بن ميناء عن النبي صلى الله عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 674]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(674) ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن جريج مدلس (د 19) وعنعن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8748) (ضعیف الإسناد) (سند میں سالم بن نوح حافظے کے ضعیف ہیں، مگر اس حدیث کی اصل ثابت ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ". قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَدِّ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَاب، وَثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مرد ، عورت ، آزاد اور غلام پر ، ایک صاع کھجور ، یا ایک صاع جو فرض کیا ، راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کر لیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوسعید ، ابن عباس ، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا ( یعنی ابوذباب ) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 675]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1825)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 77 (1511)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن النسائی/الزکاة 30 (2502)، و31 (2503)، (تحفة الأشراف: 7510)، مسند احمد (2/5) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 70 (1503)، و71 (1504)، و74 (1507)، و74 (1507)، و78 (1512)، وصحیح مسلم/الزکاة (المصدر السابق)، و سنن ابی داود/ الزکاة 19 (1611)، وسنن النسائی/الزکاة 32 (2504)، و33 (2505)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1825، و1826)، (52)، و مسند احمد (2/55، 63، 66، 102، 114، 137)، و سنن الدارمی/الزکاة 27 (1668)، من غیر ہذا الطریق عنہ، وانظر الحدیث الآتی۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرَوَى مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَزَادَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَبِيدٌ غَيْرُ مُسْلِمِينَ لَمْ يُؤَدِّ عَنْهُمْ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُؤَدِّي عَنْهُمْ وَإِنْ كَانُوا غَيْرَ مُسْلِمِينَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام ، مرد اور عورت پر فرض کیا ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- مالک نے بھی بطریق : «نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» ایوب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں «من المسلمين» کا اضافہ ہے ۔ ¤ ۳- اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے روایت کی ہے ، اس میں «من المسلمين» کا ذکر نہیں ہے ، ¤ ۴- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو وہ ان کا صدقہ فطر ادا نہیں کرے گا ۔ یہی مالک ، شافعی اور احمد کا قول ہے ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاموں کا صدقہ فطر ادا کرے گا خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ، یہ ثوری ، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 676]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت میں لفظ «فَرضَ» استعمال ہوا ہے جس کے معنی فرض اور لازم ہونے کے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ فطر فرض ہے بعض لوگوں نے «فَرضَ» کو «قَدَّرَ» کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ ظاہر کے سراسر خلاف ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں «من المسلمين» کی قید اتفاقی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1826)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 8321) (صحیح)
|
|
|
36: باب مَا جَاءَ فِي تَقْدِيمِهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ أَبُو عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ " يَأْمُرُ بِإِخْرَاجِ الزَّكَاةِ قَبْلَ الْغُدُوِّ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُخْرِجَ الرَّجُلُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْغُدُوِّ إِلَى الصَّلَاةِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقہ فطر نکالنے کا حکم دیتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اور اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صدقہ فطر نماز کے لیے جانے سے پہلے نکال دے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 677]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، صحيح أبي داود (1428)، الإرواء (832)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 76 (1509)، صحیح مسلم/الزکاة 5 (986)، سنن ابی داود/ الزکاة 18 (1610)، سنن النسائی/الزکاة 45 (2522)، (تحفة الأشراف: 8452)، مسند احمد (2/151، 155) (صحیح) وأخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 33 (2506) من غیر ہذا الطریق
|
|
|
37: باب مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ
باب: وقت سے پہلے زکاۃ دینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي " تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ وقت سے پہلے دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 678]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1795)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(678) إسناده ضعيف / د 1624، جه 1795
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 21 (1624)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 7 (1795)، (تحفة الأشراف: 10063)، سنن الدارمی/الزکاة 12 (1676) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ: " إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا زَكَاةَ الْعَبَّاسِ عَامَ الْأَوَّلِ لِلْعَامِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيل بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ الْحَجَّاجِ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا، فَرَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا، وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ عَجَّلَهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا : ” ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۲- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۴- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، ¤ ۵- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے ، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے ، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں ، وہ کہتے ہیں : کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے ، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے ۔ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 679]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہی قول راجح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن أيضا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(679) إسناده ضعيف ¤ حجر العدوي لم يتبين لي من ھو(؟) وللحديث شواھد ضعيفه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (حسن)
|
|
|
38: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ فَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَمَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَوْبَانَ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، وَأَنَسٍ، وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، وَسَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے ( یعنی اس کی قیمت میں سے ) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے ( یعنی ان سے نہ مانگے ) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے ، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎ ، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں حکیم بن حزام ، ابو سعید خدری ، زبیر بن عوام ، عطیہ سعدی ، عبداللہ بن مسعود ، مسعود بن عمرو ، ابن عباس ، ثوبان ، زیاد بن حارث صدائی ، انس ، حبشی بن جنادہ ، قبیصہ بن مخارق ، سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 680]
💡 وضاحت:
۱؎: عزیمت کی راہ یہی ہے کہ آدمی ضرورت وحاجت ہونے پر بھی کسی سے سوال نہ کرے اگرچہ ضرورت و حاجت کے وقت سوال کرنا جائز ہے۔
۲؎: اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے والے ہاتھ سے مراد لینے والا ہاتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (834)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 35 (1042)، (تحفة الأشراف: 14293) (صحیح) أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 50 (470)، و53 (1480)، والبیوع 15 (2074)، والمساقاة 13 (2374)، وسنن النسائی/الزکاة 83 (2585)، و85 (2590)، وسنن ابن ماجہ/الزکاة 25 (1836)، وط/الصدقة 2 (10)، و مسند احمد (2/243، 257، 300، 418، 475، 496) من غیر ہذا الطریق عنہ
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کر لیتا ہے ، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے ۱؎ یا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 681]
💡 وضاحت:
۱؎: حاکم سے مانگنے کا مطلب بیت المال کی طرف رجوع کرنا ہے جو اس مقصد کے لیے ہوتا ہے کہ اس سے ضرورت مند کی آبرو مندانہ کفالت کی جائے اگر وہاں تک نہ پہنچ سکے تو ناگزیر حالات و معاملات میں دوسروں سے سوال کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 2)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 26 (1639)، سنن النسائی/الزکاة 92 (2600)، (تحفة الأشراف: 4614) (صحیح)
|
|