جامع الترمذي حدیث نمبر: 663
Jami at-Tirmidhi 663
کتاب #8: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
28: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: " شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ "، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں “ ، پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا : ” رمضان میں صدقہ کرنا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 663]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (889)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(663) إسناده ضعيف ¤ صدقة بن موسي: ضعيف (د 4200)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 449) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ حافظہ کے ضعیف راوی ہے)