📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل (كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 620 Jami at-Tirmidhi 620
کتاب #8: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ
باب: سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ عَفَوْتُ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ رُوِيَ عَنْهُمَا جَمِيعًا.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۱؎ تو اب تم چاندی کی زکاۃ ادا کرو ۲؎ ، ہر چالیس درہم پر ایک درہم ، ایک سو نوے درہم میں کچھ نہیں ہے ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۳؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اعمش اور ابو عوانہ ، وغیرہم نے بھی یہ حدیث بطریق : «أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي» روایت کی ہے ، اور سفیان ثوری ، سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق : «أبي إسحاق عن الحارث عن علي» روایت کی ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : ابواسحاق سبیعی سے مروی یہ دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں ، احتمال ہے کہ یہ حارث اور عاصم دونوں سے ایک ساتھ روایت کی گئی ہو ( تو ابواسحاق نے اسے دونوں سے روایت کیا ہو ) ¤ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق اور عمرو بن حزم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 620]
💡 وضاحت:
۱؎: جب وہ تجارت کے لیے نہ ہوں۔
۲؎: «رقہ» خالص چاندی کو کہتے ہیں خواہ وہ ڈھلی ہو یا غیر ڈھلی۔
۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے اس سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1790)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (620) إسناده ضعيف / د 1574، جه 1790
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الزکاة 5 (1571، 1574)، سنن النسائی/الزکاة 18 (2479، 2480)، (تحفة الأشراف: 10136)، مسند احمد (1131، 148)، سنن الدارمی/الزکاة 7 (1669) (صحیح) وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة 4 (1790)، مسند احمد (1/121، 132)، 146 من طریق الحارث عنہ (تحفة الأشراف: 10039)
جامع الترمذي • حدیث #620
618 619 620 621 622
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ