جامع الترمذي حدیث نمبر: 650
Jami at-Tirmidhi 650
کتاب #8: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ مَنْ تَحِلُّ لَهُ الزَّكَاةُ
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ، قَالَ: " خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال کرنا اس کے چہرے پر خراش ہو گی ۱؎ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کتنے مال سے وہ سوال کرنے سے بے نیاز ہو جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے سے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- شعبہ نے اسی حدیث کی وجہ سے حکیم بن جبیر پر کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 650]
💡 وضاحت:
۱؎: راوی کو شک ہے کہ آپ نے «خموش» کہا یا «خدوش» یا «کدوح» سب کے معنی تقریباً خراش کے ہیں، بعض حضرات «خدوش» ، «خموش» اور «کدوح» کو مترادف قرار دے کر شک راوی پر محمول کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زخم کے مراتب ہیں کم درجے کا زخم «کدوح» پھر «خدوش» اور پھر «خموش» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(650،651) إسناده ضعيف /د 1626، ن 2593، جه 1804
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الزکاة 23 (1626)، سنن النسائی/الزکاة 87 (2593)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) (صحیح) (سند میں حکیم بن جبیر اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن اگلی روایت میں زبید کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)