جامع الترمذي حدیث نمبر: 655
Jami at-Tirmidhi 655
کتاب #8: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَجُوَيْرِيَةَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص ۱؎ کے پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے ، کسی آفت کی وجہ سے جو اسے لاحق ہوئی نقصان ہو گیا اور اس پر قرض زیادہ ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے صدقہ دو “ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا ، مگر وہ اس کے قرض کی مقدار کو نہ پہنچا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا : ” جتنا مل رہا ہے لے لو ، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱-ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، جویریہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 655]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد معاذ بن جبل رضی الله عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2356)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساقاة (1556)، سنن ابی داود/ البیوع 60 (3469)، سنن النسائی/البیوع 30 (4534)، و94 (4682)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 25 (2356)، (تحفة الأشراف: 4270)، مسند احمد (3/36) (صحیح)