جامع الترمذي حدیث نمبر: 631
Jami at-Tirmidhi 631
کتاب #8: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
10: باب مَا جَاءَ لاَ زَكَاةَ عَلَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الطَّلْحِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَفَادَ مَالًا فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ ". وَفِي الْبَاب عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں ایک سال نہ گزر جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں سراء بنت نبھان غنویہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 631]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1792)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(631) إسناده ضعيف جدًا ¤ عبدالرحمن بن زيد بن أسلم: ضعيف (تق:3865) وقال الھيثمي:والأكثر على تضعيفه (مجمع الزوائد 21/1 وقال ابن الملقن: ضعفه الجمھور (خلاصه البدر المنير:11) وقال الحاكم: ”روي عن أبيه أحاديث موضوعة، لا يخفى على من تأملھا من أھل الصنعة أن الحمل فيھا عليه“ (المدخل إلى الصحيح ص 154) فھو ضعيف جدًا فيما يرويه عن أبيه وللحديث شواھد ضعيفة۔ وكان ابن عمر يقول: لا تجب في مال زكوة حتي يحول عليه الحول (الموطا 246/1 ح 584) وسنده صحيح وانظر سنن الترمذي (632)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6731) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف راوی ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث اور مولف کا کلام، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 787، وتراجع الألبانی 503)