📖 جامع الترمذي (Jami at-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل

کتاب #33 • کل احادیث: 32
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ فِي الْخَوْضِ فِي الْقَدَرِ
باب: تقدیر کے مسئلہ میں بحث و تکرار بڑی بری بات ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْنَتَيْهِ الرُّمَّانُ، فَقَالَ: " أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ، أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ لَهُ غَرَائِبُ يَنْفَرِدُ بِهَا لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے ، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے ، آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے ، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ؟ بیشک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہو گئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا ، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ نہ کرو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱ - یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے اس سند سے صرف صالح مری کی روایت سے جانتے ہیں اور صالح مری کے بہت سارے غرائب ہیں جن کی روایت میں وہ منفرد ہیں ، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا ۔ ¤ ۳- اس باب میں عمر ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2133]
💡 وضاحت:
۱؎: تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے، یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ بندوں کے اچھے اور برے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کا ظہور اللہ کے قضاء و قدر اور اس کے ارادے و مشیئت پر ہے، اور اس کا علم اللہ کو پوری طرح ہے، لیکن ان امور کا صدور خود بندے کے اپنے اختیار سے ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اچھے اعمال کو پسند کرتا ہے، اور برے اعمال کو ناپسند کرتا ہے، اور اسی اختیار کی بنیاد پر جزا و سزا دیتا ہے، تقدیر کے مسئلہ میں عقل سے غور و خوض اور بحث و مباحثہ جائز نہیں، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا گمراہی کا خطرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (98 و 99)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2133) إسناده ضعيف ¤ صالح المري: ضعيف (تق: 2845) وللحديث شواھد ضعيفة، انظر تنقيح الرواة (26/1)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14530) (حسن)
2: باب مَا جَاءَ فِي حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ، أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَقَالَ آدَمُ: وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَجُنْدَبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا ، موسیٰ نے کہا : آدم ! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ۱؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا ؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا : آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا ، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کر دیا تھا ؟ ، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» ، ¤ ۴- کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ، ¤ ۵- اس باب میں عمر اور جندب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2134]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ روح جو اللہ کی پیدا کردہ ہے، اور جس کا ہر ذی روح حاجت مند ہے۔
۲؎: صحیح مسلم میں اس کی تصریح ہے کہ آدم اور موسیٰ کا یہ مباحثہ اللہ رب العالمین کے سامنے ہوا۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (80)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء 31 (3409)، وتفسیر طہ 1 (4736)، و 2 (4738)، والقدر 11 (6641)، والتوحید 37 (7515)، صحیح مسلم/القدر 2 (2652)، سنن ابی داود/ السنة 17 (4701)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (80) (تحفة الأشراف: 12389)، و موطا امام مالک/القدر 1 (1)، و مسند احمد (2/248، 268، 398) (صحیح)
3: باب مَا جَاءَ فِي الشَّقَاءِ وَالسَّعَادَةِ
باب: اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَقَالَ: " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے ؟ ۱؎ آپ نے فرمایا : ” ابن خطاب ! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے ، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) ، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، حذیفہ بن اسید ، انس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2135]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو عمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ظلال الجنة (161 - 167)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6764) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ عُلِمَ، وَقَالَ وَكِيعٌ: إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ " قَالُوا: أَفَلَا نَتَّكِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک آپ نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا : ” تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا حال معلوم نہ ہو ، ( وکیع کی روایت میں ہے : تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی جنت یا جہنم کی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو ) ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ ( تقدیر کے لکھے ہوئے پر ) بھروسہ نہ کر لیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، تم لوگ عمل کرو اس لیے کہ ہر آدمی کے لیے وہ چیز آسان کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2136]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (78)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 82 (1362)، وتفسیر سورة واللیل إذا یغشی 3 (4945)، والأدب 120 (6217)، والقدر 4 (6605)، والتوحید 54 (7552)، صحیح مسلم/القدر 1 (2647)، سنن ابی داود/ السنة 17 (4694)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (78)، ویأتي عند المؤلف برقم 3344) (تحفة الأشراف: 10167)، و مسند احمد (1/132) (صحیح)
4: باب مَا جَاءَ أَنَّ الأَعْمَالَ بِالْخَوَاتِيمِ
باب: خاتمہ والے اعمال معتبر ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدٍ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ۱؎ ، ” تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے ، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» ( یعنی جمے ہوئے خون ) کی شکل میں رہتا ہے ، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» ( یعنی گوشت کے لوتھڑے ) کی شکل میں رہتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے ، پھر اسے چار چیزوں ( کے لکھنے ) کا حکم کیا جاتا ہے ، چنانچہ وہ لکھتا ہے : اس کا رزق ، اس کی موت ، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» ( بدبخت ) ہے یا «سعيد» ( نیک بخت ) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جہنمیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے ، اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جنتیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے ، لہٰذا وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2137]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سچے ہیں اور سچی بات آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (76)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدٍ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، شعبہ اور ثوری نے بھی اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2137M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (76)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
5: باب مَا جَاءَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ
باب: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ: " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَغَيْرُهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " بِمَعْنَاهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎ ، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی ، نصرانی ، یا مشرک بناتے ہیں “ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! جو اس سے پہلے ہی مر جائے ؟ ۲؎ آپ نے فرمایا : ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2138]
💡 وضاحت:
۱؎: فطرت اسلام پر پیدا ہونے کی علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ چونکہ «ألست بربكم» کا عہد جس وقت اللہ رب العالمین اپنی مخلوق سے لے رہا تھا تو اس وقت سب نے اس عہد اور اس کی وحدانیت کا اقرار کیا تھا، اس لیے ہر بچہ اپنے اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ ماں باپ کی تربیت یا لوگوں کے بہکاوے میں آ کر یہودی، نصرانی اور مشرک بن جاتا ہے۔
۲؎: یعنی بچپن ہی میں جس کا انتقال ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (1220)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَقَالَ: " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَغَيْرُهُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " بِمَعْنَاهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، ( لیکن ) اس میں «يولد على الملة» کی بجائے «الفطرة» ” فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے “ کے الفاظ ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے شعبہ اور دوسرے لوگوں نے بھی «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، اس روایت میں بھی «يولد على الفطرة» کے الفاظ ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں اسود بن سریع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2138M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (1220)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
6: باب مَا جَاءَ لاَ يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلاَّ الدُّعَاءُ
باب: صرف دعا ہی تقدیر ٹال سکتی ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ سَلْمَانَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ، وَأَبُو مَوْدُودٍ اثْنَانِ: أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ فِضَّةٌ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ اسْمُهُ فِضَّةٌ بَصْرِيٌّ، وَالْآخَرُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَحَدُهُمَا بَصْرِيٌّ، وَالْآخَرُ مَدَنِيٌّ، وَكَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ.
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹالتی ہے ۱؎ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی ہے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث سلمان کی روایت سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابواسید سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- ہم اسے صرف یحییٰ بن ضریس کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۴- ابومودود دو راویوں کی کنیت ہے ، ایک کو فضہ کہا جاتا ہے ، اور یہ وہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے ، ان کا نام فضہ ہے اور دوسرے ابومودود کا نام عبدالعزیز بن ابوسلیمان ہے ، ان میں سے ایک بصرہ کے رہنے والے ہیں اور دوسرے مدینہ کے ، دونوں ایک ہی دور میں تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2139]
💡 وضاحت:
۱؎: «قضاء» سے مراد امر مقدر ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے: مفہوم یہ ہے کہ بلا و مصیبت کے ٹالنے میں دعا بےحد موثر ہے، یہاں تک کہ اگر قضاء کا کسی چیز سے لوٹ جانا ممکن ہوتا تو وہ دعا ہوتی، جب کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے: مراد یہ ہے کہ دعا سے قضاء کا سہل و آسان ہو جانا ہے گویا دعا کرنے والے کو یہ احساس ہو گا کہ قضاء نازل ہی نہیں ہوئی، اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں دعا جو کچھ قضاء نازل ہو چکی ہے اس کے لیے اور جو نازل نہیں ہوئی ہے اس کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہوتی ہے۔
۲؎: عمر میں اضافہ اگر حقیقت کے اعتبار سے ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اضافہ اس فرشتہ کے علم کے مطابق ہے جو انسان کے عمر پر مقرر ہے، نہ کہ اللہ کے علم کی طرف نسبت کے اعتبار سے ہے، مثلاً لوح محفوظ میں اگر یہ درج ہے کہ فلاں کی عمر اس کے حج اور عمرہ کرنے کی صورت میں ساٹھ سال کی ہو گی اور حج و عمرہ نہ کرنے کی صورت میں چالیس سال کی ہو گی تو یہ اللہ کے علم میں ہے کہ وہ حج و عمرہ کرے گا یا نہیں، اور علم الٰہی میں رد و بدل اور تغیر نہیں ہو سکتا جب کہ فرشتے کے علم میں جو ہے اس میں تبدیلی کا امکان ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الصحيحة (154)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2139) إسناده ضعيف ¤ سيلمان التيمي عنعن (تقدم: 2035) وفي السند علة أخري وللحديث شاھد ضعيف عند ابن ماجه (90،4022)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ مؤالف (تحفة الأشراف: 4502) (حسن)
7: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أَصْبُعَىِ الرَّحْمَنِ
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ أَصَحُّ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس» کی سند سے روایت کی ہے ۔ بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، لیکن ابوسفیان کی حدیث جو انس سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اس باب میں نواس بن سمعان ، ام سلمہ ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2140]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3834)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2140) إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن (تقدم: 169) وانظر ضعيف سنن ابن ماجه (3834) والحديث صحيح بالشواھد دون قوله: ”فھل تخاف علينا“
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3834) (تحفة الأشراف: 924) (صحیح)
8: باب مَا جَاءَ أَنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا لأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو قَبِيلٍ اسْمُهُ حُيَيُّ بْنُ هَانِئٍ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک بار ) ہماری طرف نکلے اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ۔ آپ نے پوچھا : ” تم لوگ جانتے ہو یہ دونوں کتابیں کیا ہیں ؟ “ ہم لوگوں نے کہا : نہیں ، سوائے اس کے کہ آپ ہمیں بتا دیں ۔ داہنے ہاتھ والی کتاب کے بارے میں آپ نے فرمایا : ” یہ رب العالمین کی کتاب ہے ، اس کے اندر جنتیوں ، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، پھر آخر میں ان کا میزان ذکر کر دیا گیا ہے ۔ لہٰذا ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہو گا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہو گا “ ، پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا : ” یہ رب العالمین کی کتاب ہے ، اس کے اندر جہنمیوں ، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اور آخر میں ان کا میزان ذکر کر دیا گیا ہے ، اب ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہو گا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہو گا ۔ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پھر عمل کس لیے کریں جب کہ اس معاملہ سے فراغت ہو چکی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” سیدھی راہ پر چلو اور میانہ روی اختیار کرو ، اس لیے کہ جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پہ ہو گا ، اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پہ ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ، پھر ان دونوں کتابوں کو پھینک دیا اور فرمایا : ” تمہارا رب بندوں سے فارغ ہو چکا ہے ، ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک فریق جہنم میں جائے گا “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2141]
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (96)، الصحيحة (848)، الظلال (348)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو قَبِيلٍ اسْمُهُ حُيَيُّ بْنُ هَانِئٍ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2141M]
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (96)، الصحيحة (848)، الظلال (348)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ "، فَقِيلَ: كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے عمل کراتا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیسے عمل کراتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2142]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الروض النضير (2 / 87)، المشكاة (5288)، الظلال (397 - 399)
تخریج دارالدعوہ: تفردی بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 589) (صحیح)
9: باب مَا جَاءَ لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ
باب: چھوت چھات، الو اور صفر کے مہینہ کی نحوست کی نفی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا "، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَعِيرُ الْجَرِبُ الْحَشَفَةُ نُدْبِنُهُ فَيُجْرِبُ الْإِبِلُ كُلُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ، لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ وَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَرِزْقَهَا وَمَصَائِبَهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيَّ الْبَصْرِيَّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: لَوْ حَلَفْتُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، لَحَلَفْتُ أَنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی “ ، ایک اعرابی ( بدوی ) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے ( جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں ) تو تمام اونٹ ( کھجلی والے ) ہو جاتے ہیں “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی ؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی ، رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2143]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب میں زمانہ جاہلیت کی تین باتوں کی نفی کی گئی ہے، اور اس حدیث میں متعدی مرض اور صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاعدوى» یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے، «ھامہ» یعنی الو کا ذکر باب میں ہے، اس حدیث میں نہیں ہے، بلکہ دوسری احادیث میں ہے آیا ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: «و ولاهامة» ، آج بھی الو کی نحوست کا اعتقاد باطل بہت سے لوگوں کے یہاں پایا جاتا ہے، جو جاہلیت کی بداعتقادی ہے، اسی طرح صفر کے مہینے کو جاہلیت کے زمانے میں لوگ منحوس قرار دیتے تھے، اور جاہل عوام اب تک اسے منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں، یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔ یہ بھی آتا ہے کہ عرب ماہ محرم کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ بنا لیتے تھے، اسلام میں یہ بھی باطل، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عربوں کے اعتقاد میں پیٹ میں ایک سانپ ہوتا تھا جس کو صفر کہا جاتا ہے، بھوک کے وقت وہ پیدا ہوتا ہے اور آدمی کو ایذا پہنچاتا ہے، اور ان کے اعتقاد میں یہ متعدی مرض تھا، تو اسلام نے اس کو باطل قرار دیا (ملاحظہ ہو: النہایۃ فی غریب الحدیث: مادہ: صفر، نیز ان مسائل پر ہم نے سنن ابن ماجہ (کتاب الطب: باب نمبر۴۳، حدیث نمبر ۳۵۳
۶-۳۵۴۱) میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس کا مطالعہ مفید ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1152)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9640)، وانظر مسند احمد (1/440) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سند میں ایک راوی ”صاحب لنا“ مبہم ہے، اور ہو سکتا ہے کہ یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہوں، ابو زرعہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، نیز مسند احمد (2/327) میں یہ حدیث بواسطہ ابو زرعہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موجود ہے)
10: باب مَا جَاءَ فِي الإِيمَانِ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ
باب: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے ، اور یہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں عبادہ ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2144]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2439)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2614) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رِبْعِيٌّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ النَّضْرِ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْجَارُودُ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّ رِبْعِيًّا لَمْ يَكْذِبْ فِي الْإِسْلَامِ كِذْبَةً.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بندہ چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا : ( ۱ ) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، ( ۲ ) موت پر ایمان لائے ، ( ۳ ) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے ، ( ۴ ) تقدیر پر ایمان لائے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2145]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نضر بن شمیل نے ربعی اور علی کے درمیان «عن رجل» کا اضافہ کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (81)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2145) إسناده ضعيف / جه 81 ¤ السند ظاهره الصحة لكن رواه الترمذي والطيالسي (106) وأحمد (133/1) وغيرھم عن ربعي عن رجل عن على رضى الله عنه نحوه والرجل مجھول فالسند معلول وھو من المزيد فى متصل الأسايند و لبعض الحديث شواھد كثيرة صحيحة و أثر وكيع صحيح عنه ولم يذكر من بلّغه به وحديث ابن أبى عاصم (السنة: 134، وسنده حسن) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رِبْعِيٌّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ النَّضْرِ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْجَارُودُ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّ رِبْعِيًّا لَمْ يَكْذِبْ فِي الْإِسْلَامِ كِذْبَةً.
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر اس میں سند یوں بیان کیا ہے «ربعي عن رجل» ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوداؤد کی شعبہ سے مروی حدیث میرے نزدیک نضر کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، اسی طرح کئی لوگوں نے «عن منصور عن ربعي عن علي» کی سند سے روایت کی ہے ، ¤ ۲- وکیع کہتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ربعی بن خراش نے اسلام میں ایک بار بھی جھوٹ نہیں بولا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2145M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نضر بن شمیل نے ربعی اور علی کے درمیان «عن رجل» کا اضافہ کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (81)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
11: باب مَا جَاءَ أَنَّ النَّفْسَ تَمُوتُ حَيْثُ مَا كُتِبَ لَهَا
باب: موت اسی جگہ آتی ہے جہاں مقدر ہوتی ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَهُ.
مطر بن عکامس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت و ضرورت پیدا کر دیتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- مطر بن عکامس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں معلوم ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابوعزہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2146]
💡 وضاحت:
۱؎: چنانچہ بندہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے زمین کے اس حصہ کی جانب سفر کرتا ہے جہاں اللہ نے اس کی موت اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے، پھر وہاں پہنچ کر اس کی موت ہوتی ہے، «وما تدري نفس بأي أرض تموت» اور کسی جان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس کی موت کسی سر زمین میں آئے گی (لقمان: ۳۴)، اسی طرف اشارہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں موت آئے گی کسی کو کچھ خبر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (110)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی مطر بن عکامس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2146M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (110)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عَزَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ، جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً، أَوْ قَالَ: بِهَا حَاجَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَزَّةَ لَهُ صُحْبَةٌ، وَاسْمُهُ يَسَارُ بْنُ عَبْدٍ، وَأَبُو الْمَلِيحِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ، وَيُقَالُ: زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ.
ابوعزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوعزہ کو شرف صحبت حاصل ہے اور ان کا نام یسار بن عبد ہے ، ¤ ۳- راوی ابوملیح کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ہذلی ہے ۔ انہیں زید بن اسامہ بھی کہا جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2147]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (2146)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11834) (صحیح)
12: باب مَا جَاءَ لاَ تَرُدُّ الرُّقَى وَلاَ الدَّوَاءُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا
باب: جھاڑ پھونک اور دوا، اللہ کی تقدیر میں سے کچھ بھی رد نہیں کر سکتی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا، وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ، وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: " هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهَذَا أَصَحُّ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
ابوخزامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دم جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، دوائیں جن سے علاج کرتے ہیں اور بچاؤ کی چیزیں جن سے بچاؤ کرتے ہیں ، آپ بتائیے کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ لوٹا سکتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ سب بھی تو اللہ کی تقدیر سے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ہم اس حدیث کو صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں ، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے ، یہ زیادہ صحیح ہے ۔ اسی طرح کئی لوگوں نے «عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2148]
قال الشيخ الألباني: ضعيف مضى (2066) // 359 / 2159 //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2148) إسناده ضعيف / تقدم: 2065
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2065) (ضعیف)
13: باب مَا جَاءَ فِي الْقَدَرِيَّةِ
باب: فرقئہ قدریہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نِزَارٍ، عَنْ نِزَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے لوگوں کے لیے اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے : ( ۱ ) مرجئہ ( ۲ ) قدریہ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، ابن عمر اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2149]
💡 وضاحت:
۱؎: مرجئہ: باطل اور گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ بندہ کو اپنے افعال کے سلسلہ میں کچھ بھی اختیار حاصل نہیں، جمادات کی طرح وہ مجبور محض ہے ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح کفر کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کچھ بھی مفید نہیں اسی طرح ایمان کے ساتھ معصیت ذرہ برابر نقصان دہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (105)، الظلال (334 و 335) // يعني كتاب " السنة " لابن أبي عاصم طبع المكتب الإسلامي، وضعيف الجامع الصغير (3498) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2149) ضعيف / جه 62 ¤ نزار: ضعيف (تق: 7104) وللحديث شاھد ضعيف، انظر الحديث الآتي (2149 ب)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 2149 (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نِزَارٍ، عَنْ نِزَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2149M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (105)، الظلال (334 و 335) // يعني كتاب " السنة " لابن أبي عاصم طبع المكتب الإسلامي، وضعيف الجامع الصغير (3498) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2149 ب) إسناده ضعيف ¤ سلام بن أبي عمر الخراساني: ضعيف (تق: 2709) وفي الباب حديث يعني عنه، انظر ص 535
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 2149 (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نِزَارٍ، عَنْ نِزَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2149M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (105)، الظلال (334 و 335) // يعني كتاب " السنة " لابن أبي عاصم طبع المكتب الإسلامي، وضعيف الجامع الصغير (3498) //
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 2149 (ضعیف)
14: باب
باب:۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلَى جَنْبِهِ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ حَتَّى يَمُوتَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو الْعَوَّامِ هُوَ عِمْرَانُ، وَهُوَ ابْنُ دَاوَرَ الْقَطَّانُ.
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہو جائے گا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2150]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ انسان پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک مختلف قسم کے آفات و مصائب سے گھرا ہوا ہے، اگر وہ ان آفات سے کسی طرح بچ نکلا تو بڑھاپے جیسی آفت سے وہ نہیں بچ سکے گا، اور بالآخر موت اسے آ دبوچے گی گویا یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے سبز و سنہرا باغ ہے، اسی لیے مومن کو اللہ کے ہر فیصلہ پر صبر کرنا چاہیئے، اور اللہ نے اس کے لیے جو کچھ مقدر کر رکھا ہے اس پر راضی رہنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (1569)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2150) إسناده ضعيف /يأتي: 2456 ¤ قتادة عنعن (تقدم:30)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5352) (حسن)
15: باب مَا جَاءَ فِي الرِّضَا بِالْقَضَاءِ
باب: اللہ کے فیصلہ پر راضی ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ، تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ، سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت ( نیک بختی ) ہے ، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں ، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے ، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے ، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں ، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2151]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1800)، التعليق الرغيب (1 / 244) // ضعيف الجامع الصغير (5300) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2151) إسناده ضعيف ¤ محمد بن أبى حميد: ضعيف (تق:5836) وقال الحافظ ابن حجر: وھو ضعيف عند الجمھور (الأمالي المطلقة ص 38، المكتبة الشاملة)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3934) (ضعیف) (سند میں ”محمد بن أبی حمید“ ضعیف ہیں)
16: باب
باب: قدریہ سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ فِي أُمَّتِي الشَّكُّ مِنْهُ خَسْفٌ أَوْ مَسْخٌ أَوْ قَذْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو صَخْرٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ.
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے ، اس سے ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے ، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس امت میں یا میری امت میں ، ( یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے ) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف» ، «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہو گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2152]
💡 وضاحت:
۱؎: «خسف» : زمین میں دھنسانے، «مسخ» : صورتیں تبدیل کرنے اور «قذف» : پتھروں کے عذاب کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (4061)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 29 (4061) (تحفة الأشراف: 7651) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ، وَذَلِكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں «خسف» اور «مسخ» کا عذاب ہو گا اور یہ عذاب تقدیر کے جھٹلانے والوں پر آئے گا “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2153]
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
17: باب
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِي الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ كَانَ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ، وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُعِزَّ بِذَلِكَ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ، وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللَّهِ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھ قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے ، اللہ تعالیٰ نے اور تمام انبیاء نے لعنت بھیجی ہے : اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا ، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا ، طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے ، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے ، اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا ، میرے کنبہ میں سے اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا اور میری سنت ترک کرنے والا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ عبدالرحمٰن بن ابوموالی نے یہ حدیث اسی طرح «عن عبيد الله ابن عبدالرحمٰن بن موهب عن عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ۔ سفیان ثوری ، حفص بن غیاث اور کئی لوگوں نے اسے «عن عبيد الله بن عبدالرحمٰن بن موهب عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ یہ زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2154]
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي ولایوجد في أکثر نسخ الترمذي و شروح الجامع) (ضعیف) (سند میں ”عبید اللہ بن عبد الرحمن“ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ يَقُولُونَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: يَا بُنَيَّ، أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاقْرَإِ الزُّخْرُفَ، قَالَ: فَقَرَأْتُ حم {1} وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ {2} إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْءَانًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ {3} وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ {4} سورة الزخرف آية 1-4، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا أُمُّ الْكِتَابِ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ كِتَابٌ كَتَبَهُ اللَّهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ، وَقَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْأَرْضَ فِيهِ إِنَّ فِرْعَوْنَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَفِيهِ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ، قَالَ عَطَاءٌ: فَلَقِيتُ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ مَا كَانَ وَصِيَّةُ أَبِيكَ عِنْدَ الْمَوْتِ، قَالَ: دَعَانِي أَبِي، فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ، اتَّقِ اللَّهَ وَاعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَتَّقِيَ اللَّهَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فَإِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ، فَقَالَ: اكْتُبْ، فَقَالَ: مَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ مَا كَانَ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا : ابو محمد ! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں ( برسبیل انکار ) کچھ گفتگو کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : بیٹے ! کیا تم قرآن پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : سورۃ الزخرف پڑھو ، میں نے پڑھا : «حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنه في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم» ” حم ، قسم ہے اس واضح کتاب کی ، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو ، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے ، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے “ ( الزخرف : ۱-۴ ) پڑھی ، انہوں نے کہا : جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، انہوں نے کہا : وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے لکھا ہے ، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ فرعون جہنمی ہے اور اس میں «تبت يدا أبي لهب وتب» ” ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ، اور وہ ( خود ) ہلاک ہو گیا “ ( تبت : ۱ ) بھی لکھا ہوا ہے ۔ عطاء کہتے ہیں : پھر میں ولید بن عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ملا ( ولید کے والد عبادہ بن صامت صحابی رسول تھے ) اور ان سے سوال کیا : مرتے وقت آپ کے والد کی کیا وصیت تھی ؟ کہا : میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا : بیٹے ! اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ تم اللہ سے ہرگز نہیں ڈر سکتے جب تک تم اللہ پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لاؤ ۔ اگر اس کے سوا دوسرے عقیدہ پر تمہاری موت آئے گی تو جہنم میں جاؤ گے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا “ اور فرمایا : ” لکھو “ ، قلم نے عرض کیا : کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تقدیر لکھو جو کچھ ہو چکا ہے اور جو ہمیشہ تک ہونے والا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2155]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (133)، تخريج الطحاوية (271)، المشكاة (94)، الظلال (102 - 105)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2155) إسناده ضعيف / سيأتي 3319 ¤ عبدالواحد بن سليم ضعيف (تق: 4241) وتابعه عبدالله بن السائب (ثقه) عن عطاء على حديث الوليد بن عبادة نحو المعني (الشريعة للآجري:439) و رواه أيوب بن زياد الحمصي عن عبادة بن الوليد عن أبيه نحو المعني (أحمد 317/5) ¤ قلت:حديث عطاء بن أبى رباح: ”فلقيت الوليد بن عبادة۔۔۔ إلي الأبد“ صحيح بالشواھد و حديث عبدالواحد ابن سليم: ”قد مت مكة . . . إلي أبى لھب وتب“ ضعيف
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5119) (صحیح)
18: باب
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْبَاهِلِيُّ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَدَّرَ اللَّهُ الْمَقَادِيرَ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھا تھا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2156]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر 2 (2653) (تحفة الأشراف: 885) (صحیح)
19: باب
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِبعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدُ بْنِ عًبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزَومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ، قَالَ: " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَ فِي الْقَدَرِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ {48} إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ {49} سورة القمر آية 48-49 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی ” جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے ( تو ان سے کہا جائے گا ) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو ، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے “ ( القمر : ۴۸-۴۹ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- مذکورہ حدیث مجھ سے قبیصہ نے بیان کی ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2157]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (83)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر 4 (2656)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 10 (83)، ویأتي برقم (3290) (تحفة الأشراف: 14589)، و مسند احمد (2/444، 476) (صحیح)
← پچھلی کتاب #32 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #34 →