جامع الترمذي حدیث نمبر: 2135
Jami at-Tirmidhi 2135
کتاب #33: کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَقَالَ: " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے ؟ ۱؎ آپ نے فرمایا : ” ابن خطاب ! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے ، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) ، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، حذیفہ بن اسید ، انس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2135]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو عمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے؟۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ظلال الجنة (161 - 167)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6764) (صحیح)