جامع الترمذي حدیث نمبر: 2145
Jami at-Tirmidhi 2145
کتاب #33: کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رِبْعِيٌّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ النَّضْرِ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْجَارُودُ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّ رِبْعِيًّا لَمْ يَكْذِبْ فِي الْإِسْلَامِ كِذْبَةً.
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر اس میں سند یوں بیان کیا ہے ربعي عن رجل ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوداؤد کی شعبہ سے مروی حدیث میرے نزدیک نضر کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، اسی طرح کئی لوگوں نے عن منصور عن ربعي عن علي کی سند سے روایت کی ہے ، ¤ ۲- وکیع کہتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ربعی بن خراش نے اسلام میں ایک بار بھی جھوٹ نہیں بولا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2145M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نضر بن شمیل نے ربعی اور علی کے درمیان عن رجل کا اضافہ کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (81)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)