📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل (كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2140 Jami at-Tirmidhi 2140
کتاب #33: کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
7: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أَصْبُعَىِ الرَّحْمَنِ
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ أَصَحُّ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس» کی سند سے روایت کی ہے ۔ بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، لیکن ابوسفیان کی حدیث جو انس سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اس باب میں نواس بن سمعان ، ام سلمہ ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2140]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3834)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2140) إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن (تقدم: 169) وانظر ضعيف سنن ابن ماجه (3834) والحديث صحيح بالشواھد دون قوله: ”فھل تخاف علينا“
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3834) (تحفة الأشراف: 924) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #2140
2138 2139 2140 2141 2141
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ