جامع الترمذي حدیث نمبر: 2152
Jami at-Tirmidhi 2152
کتاب #33: کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
16: باب
باب: قدریہ سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ فِي أُمَّتِي الشَّكُّ مِنْهُ خَسْفٌ أَوْ مَسْخٌ أَوْ قَذْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو صَخْرٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ.
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے ، اس سے ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے ، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس امت میں یا میری امت میں ، ( یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے ) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف» ، «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہو گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2152]
💡 وضاحت:
۱؎: «خسف» : زمین میں دھنسانے، «مسخ» : صورتیں تبدیل کرنے اور «قذف» : پتھروں کے عذاب کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (4061)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفتن 29 (4061) (تحفة الأشراف: 7651) (حسن)