📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كِتَابُ الْأَضَاحِي

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل

کتاب #30 • کل احادیث: 43
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : أَضَاحِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے ، ( ذبح کے وقت ) «بسم الله» اور «الله أكبر» کہتے تھے ، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3120]
💡 وضاحت:
۱؎: «أضاحی» : «اضحیہ» کی جمع ہے اور «ضحایا» جمع ہے «ضحیۃ» کی اور «اضحی» جمع ہے «اضحاۃ» کی، اسی لئے دوسری عید (عید قربان) کو عیدالاضحی کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأضاحي 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، سنن النسائی/الضحایا 27 (4420)، (تحفة الأشراف: 1250)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، مسند احمد (3/99، 115، 170، 178، 183، 189، 211، 214، 222، 255، 258، 267، 272، 279، 281)، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1988) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا: " إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی ، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا : «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» ” میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ، بیشک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے ، جو سارے جہان کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں ، اے اللہ ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے ، اور تیرے ہی واسطے ہے ، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3121]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کو ذبح کیا ورنہ ایک مینڈھا یا ایک بکری سارے گھروالوں کی طرف سے کافی ہے جیسا کہ آگے آئے گا، اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک مینڈھا اپنے گھر والوں کی طرف سے ذبح کیا، اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے، اب اور لوگ جو قربانی کریں ان کو صرف ایک مینڈھا ذبح کرنا کافی ہے، اور جس قدر عمدہ، اور موٹا تازہ ہو اتنا ہی افضل اور بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 4 (2795)، سنن الترمذی/الأضاحي 22 (1521)، (تحفة الأشراف: 3166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/356، 362)، سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1989) (حسن) (ملاحظہ ہو: ابو داود: 2795، تعلیق، صحیح أبی داود: 2491/8 /142)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ، فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے ، موٹے سینگ دار ، چتکبرے ، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے ، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے ، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں ، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3122]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن عقيل ضعيف ¤ و سفيان الثوري عنعن ¤ و للحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14968، 17731، ومصباح الزجاجة: 1083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/220) (صحیح)
2: بَابُ : الأَضَاحِيُّ وَاجِبَةٌ هِيَ أَمْ لاَ
باب: قربانی واجب ہے یا نہیں؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو ( قربانی کی ) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے ، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3123]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13938، ومصباح الزجاجة: 1084)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/321، 6/220) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن عیاش ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الضَّحَايَا أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَجَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ"، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا قربانی واجب ہے ؟ تو جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی ہے ، اور آپ کے بعد مسلمانوں نے کی ہے ، اور یہ سنت جاری ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3124]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1506) ¤ حجاج بن أرطاة ضعيف ¤ وإسماعيل بن عياش ضعيف عن غيرالشامين ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأضاحي 11 (1506)، (تحفة الأشراف: 6671)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الضَّحَايَا أَوَاجِبَةٌ هِيَ؟، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَجَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ"، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی کے ہم مثل منقول ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3124M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأضاحي 11 (1506)، (تحفة الأشراف: 6671)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو رَمْلَةَ ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: كُنَّا وَقُوفًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَ".
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا : ” لوگو ! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ۱؎ اور ایک «عتیرہ» ہے “ ، تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے ؟ یہ وہی ہے جسے لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3125]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک قربانی پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہو گی۔
۲؎: «عتیرہ» : وہ بکری ہے جور جب میں ذبح کی جاتی تھی، ابوداود کہتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔
۳؎: رجب کی قربانی پہلے شروع اسلام میں واجب تھی پھر منسوخ ہو گئی، دوسری حدیث میں ہے کہ «عتیرہ» کی قربانی کوئی چیز نہیں ہے، اب صرف عید کی قربانی ہے، ا س حدیث سے بھی عیدالاضحی میں قربانی کا وجوب نکلتا ہے، اور قائلین وجوب اس آیت سے بھی دلیل لیتے ہیں «فصل لربك وانحر» (سورة الكوثر: 2) کیونکہ امر وجوب کے لئے ہے، مخالف کہتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ نحر (ذبح) اللہ کے لئے کر یعنی اللہ کے سوا اور کسی کے لئے نحر (ذبح) نہ کر جیسے مشرکین بت پوجنے والے بتوں کے نام پرنحر (ذبح) کیا کرتے تھے، اس سے منع کیا، اس سے عید کی قربانی کا وجوب نہیں معلوم ہوا، ایک اور جندب کی حدیث ہے جو آگے آئے گی، وہ بھی وجوب کی دلیل ہے، اور عدم وجوب والے جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں، اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی پہلے کی اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے قربانی نہیں کی، ایک مینڈھے کی (احمد، ابوداود، ترمذی) لیکن یہ عدم وجوب پر دلالت نہیں کرتا اس لئے کہ مراد اس میں وہ لوگ ہیں جن کو قربانی کی قدرت نہیں ان پر وجوب کا کوئی قائل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2788) ترمذي (1518) نسائي (4229) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الضحایا 1 (2788)، سنن الترمذی/الأضاحي 19 (1518)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (4229)، (تحفة الأشراف: 11244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/215، 5/76) (حسن) (سند میں ابو رملہ مجہول راوی ہے، لیکن شاہد کی تقویت سے حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: 264)
3: بَابُ : ثَوَابِ الأُضْحِيَّةِ
باب: قربانی کا ثواب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُثَنَّى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا، أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا، وَأَظْلَافِهَا، وَأَشْعَارِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا ، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے ، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3126]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس سے اجر و ثواب کی امید کرو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1493) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأضاحي 1 (1493)، (تحفة الأشراف: 17343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/239) (ضعیف) (سند میں ابوالمثنیٰ ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟، قَالَ: " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ"، قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ"، قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی “ لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3127]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عائذ اللّٰه المجاشعي: ضعيف (تقريب: 3116) ¤ وشيخه أبو داود الأعمي: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3687، ومصباح الزجاجة: 1084؍ أ)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/368) (ضعیف جدا) (سند میں ابوداود النخعی متروک الحدیث بلکہ متہم بالوضع راوی ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 1476)
4: بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَضَاحِيِّ
باب: کن جانوروں کی قربانی مستحب ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ، يَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا ، اس کا منہ اور پیر کالے تھے ، اور آنکھیں بھی کالی تھیں ( یعنی چتکبرا تھا ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3128]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ سنده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2796) ترمذي (1496) نسائي (4395) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 4 (2796)، سنن الترمذی/الأضاحي 4 (1496)، سنن النسائی/الضحایا 13 (4395)، (تحفة الأشراف: 4297) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شِرَاءِ الضَّحَايَا، قَالَ يُونُسُ: فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ إِلَى كَبْشٍ أَدْغَمَ لَيْسَ بِالْمُرْتَفِعِ، وَلَا الْمُتَّضِعِ فِي جِسْمِهِ، فَقَالَ لِي: اشْتَرِ لِي هَذَا، كَأَنَّهُ شَبَّهَهُ بِكَبْشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول ابوسعید زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا ، تو آپ نے ایک ایسے مینڈھے کی نشاندہی کی جس کی ٹھوڑی اور کانوں میں کچھ سیاہی تھی ، اور وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ بلند تھا ، نہ ہی زیادہ پست ، انہوں نے مجھ سے کہا : میرے لیے اسے خرید لو ، شاید انہوں نے اس جانور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مینڈھے کے مشابہ سمجھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3129]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ، صحابہ کرام کا اتباع کہ قربانی کا جانور خریدنے میں بھی ویسا ہی جانور ڈھونڈھتے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12046، ومصباح الزجاجة: 1085) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَائِذٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الضَّحَايَا الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہترین کفن جوڑا ( تہبند اور چادر ) ہے ، اور بہترین قربانی سینگ دار مینڈھا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3130]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1517) ابن ماجه (3128) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأضاحي 18 (1517)، (تحفة الأشراف: 4866) (ضعیف) (سند میں ابوعائذ ضعیف راوی ہے)
5: بَابُ : عَنْ كَمْ تُجْزِئُ الْبَدَنَةُ وَالْبَقَرَةُ
باب: اونٹ اور گائے کی قربانی کتنے لوگوں کی طرف سے کافی ہو گی؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَنْ عَشَرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آ گئی ، تو ہم اونٹ میں دس آدمی ، اور گائے میں سات آدمی شریک ہو گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3131]
💡 وضاحت:
۱؎: اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، لیکن اور علماء کے نزدیک اونٹ میں بھی سات آدمیوں سے زیادہ شریک نہیں ہو سکتے اور ان کی دلیل جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے آتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور جابر رضی اللہ عنہ کی ناسخ، اور نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے،جب تک کہ تاریخ معلوم نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 66 (905)، الأضاحي 8 (1502)، سنن النسائی/الضحایا 14 (4397)، (تحفة الأشراف: 6158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/275) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَحَرْنَا بِالْحُدَيْبِيَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا ، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3132]
💡 وضاحت:
۱؎: سات افراد کی طرف سے اونٹ یا گائے ذبح کرنے کا یہ اصول ہدی کے جانوروں کے لیے ہے، قربانی میں ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے جائز ہے، جیسا کہ حدیث رقم: (۳۱۳۱) سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 62 (1318)، سنن ابی داود/الضحایا 7 (2809)، سنن الترمذی/الحج 66 (904)، (تحفة الأشراف: 2933)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 15 (4398)، موطا امام مالک/الضحایا5 (9)، سنن الدارمی/الأضاحي 5 (1999) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ اعْتَمَرَ مِنْ نِسَائِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی ان ساری بیویوں کی طرف سے جنہوں نے حجۃالوداع میں عمرہ کیا تھا ، ایک ہی گائے ذبح کی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3133]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک گائے یا اونٹ میں سات آدمیوں کی شرکت ہو سکتی ہے، اس حج میں آپ کے ساتھ ہی سات ازواج مطہرات رہی ہوں گی، یا بخاری و مسلم کے لفظ «ضحّی» (قربانی کی) سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بطور ہدی نہیں بلکہ بطور قربانی ذبح کیا، تو پورے گھر والوں کی طرف سے ایک گائے کافی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1751) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/المناسک 14 (1751)، (تحفة الأشراف: 15386) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي حَاضِرٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " قَلَّتِ الْإِبِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَنْحَرُوا الْبَقَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اونٹ کم ہو گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3134]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5874، ومصباح الزجاجة: 1086) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آل محمد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3135]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/المناسک 14 (1750)، 23 (1778)، (تحفة الأشراف: 17924)، وقد أخرجہ: وقد تقدم بلفظ اتم برقم (3000/3075)، صحیح البخاری/الحیض 7 (294)، الحج 33 (1560)، 81 (1651)، العمرة 9 (1788)، الأضاحي 3 (5548)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، الحیض 1 (347)، موطا امام مالک/الحج 58 (179)، مسند احمد (6/248)، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945) (صحیح)
6: بَابُ : كَمْ تُجْزِئُ مِنَ الْغَنَمِ عَنِ الْبَدَنَةِ
باب: ایک اونٹ کے بدلے کتنی بکریوں کی قربانی کافی ہو گی؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا ، اور اس نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹ کی ( قربانی ) ہے ، اور میں اس کی استطاعت بھی رکھتا ہوں ، لیکن اونٹ دستیاب نہیں کہ میں اسے خرید سکوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات بکریاں خریدنے اور انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3136]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عطاء الخراساني عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5973، ومصباح الزجاجة: 1087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/311، 312) (ضعیف) (ابن جریج کی عطاء سے روایت میں ضعف ہے، نیز عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، ح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَيْنَا الْقُدُورَ، قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ الْجَزُورَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے ، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں ، پھر لوگوں نے ( گوشت کاٹنے میں ) عجلت سے کام لیا ، اور ہم نے ( مال غنیمت ) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں ، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا ، تو وہ الٹ دی گئیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3137]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے یہ نہیں معلوم ہوا کہ قربانی میں اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے یعنی ایک اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں، یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے بلکہ یہ خاص تھا اس موقع سے شاید وہاں کے اونٹ بڑے اور تیار ہوں گے، بکریاں چھوٹی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر رکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرکة 3 (2488)، 16 (2507)، الجہاد 191 (3075)، الذبائح 15 (5498)، 18 (5503)، 23 (5509)، 36 (5543)، 37 (5544)، صحیح مسلم/الأضاحي 4 (1968)، سنن ابی داود/الاضاحي 15 (2821)، سنن الترمذی/الأحکام 5 (1491) 16 (1492)، السیر 40 (1600)، سنن النسائی/الصید والذبائح 17 (4302)، الضحایا 15 (4396)، 26 (4414، 4415)، (تحفة الأشراف: 3561)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 464، 4/140، 142) (صحیح)
7: بَابُ : مَا تُجْزِئُ مِنَ الأَضَاحِيِّ
باب: قربانی کے لیے کون سا جانور کافی ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا، فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں عنایت کیں ، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیا ، ایک بکری کا بچہ بچ رہا ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی قربانی تم کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3138]
💡 وضاحت:
۱؎: بیہقی کی روایت میں ہے کہ تمہارے بعد پھر کسی کے لیے یہ جائز نہ ہو گا، اس کی سند صحیح ہے، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے کہ دانتی بکری جس کے سامنے والے نچلے دو دانت خودبخود اکھڑنے کے بعد گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں اس سے کم عمر کی بکری کی قربانی جائز نہیں کیونکہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی صحیحین میں حدیث ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول میرے پاس بکری کا ایک جذعہ ہے جس کو میں نے گھر میں پالا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی کو ذبح کر دو اور تمہارے سوا اور کسی کو یہ کافی نہ ہو گا اور جذعہ وہ ہے جو ایک سال کا ہو گیا ہو، لیکن جمہور علماء اور اہل حدیث کے نزدیک بھیڑ کا جذعہ جائز ہے، یعنی اگر بھیڑ ایک سال کی ہو جائے تو اس کی قربانی جائز ہے، مسند احمد، اور سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ بھیڑ کا جذعہ اچھی قربانی ہے، لیکن بکری کا جذعہ تو وہ بالاتفاق جائز نہیں ہے، یہ امام نووی نے نقل کیا ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کی قربانی دانتے جانوروں کی جائز ہے، اس سے کم عمر والے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوکالة 1 (2300)، الشرکة 12 (2500)، الأضاحي 2 (5547)، 7 (5555)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الاضاحي 7 (1500)، سنن النسائی/الضحایا 12 (4384)، (تحفة الأشراف: 9955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/149، 152)، سنن الدارمی/الأضاحي 4 (1991) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ بِلَالٍ بِنْتُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجُوزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ أُضْحِيَّةً".
ہلال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ کے ایک سالہ بچے کی قربانی جائز ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3139]
💡 وضاحت:
۱؎: جذعہ: بھیڑ کا بچہ جو ایک سال کا ہو جائے، ایک قول یہ ہے کہ جذعہ وہ بچہ ہے جو ایک سال سے کم ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أم محمد والدة محمد بن أبي يحيي: مقبولة (أي مستورة۔مجھولة الحال) كما في التقريب (7869) ¤ والحديث الآتي (الأصل: 3140) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11737، ومصباح الزجاجة: 1088)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/368) (ضعیف) (ام محمد بن أبی یحییٰ اور ام بلال دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 65)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا تُوفِي مِنْهُ الثَّنِيَّةُ".
کلیب کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے ، بکریوں کی قلت ہو گئی ، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا ، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” ( قربانی کے لیے ) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3140]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الاضاحي 5 (2799)، (تحفة الأشراف: 11211)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 12 (4389)، مسند احمد (5/368) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف مسنہ ( دانتا جانور ) ذبح کرو ، البتہ جب وہ تم پر دشوار ہو تو بھیڑ کا جذعہ ( ایک سالہ بچہ ) ذبح کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3141]
💡 وضاحت:
۱؎: مسنہ: وہ جانور جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ برس پورے کر کے چھٹے میں داخل ہو گیا ہو، گائے بیل اور بھینس جب وہ دو برس پورے کر کے تیسرے میں داخل ہو جائیں، بکری اور بھیڑ میں جب ایک برس پورا کر کے دوسرے میں داخل ہو جائیں، جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہو چکا ہو، اہل لغت اور شارحین حدیث میں محققین کا یہی قول صحیح ہے، (دیکھئے مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح)
۲؎: جمہوکے نزدیک ایک سالہ بھیڑ کی قربانی جائز ہے، اور سلف کے ایک جماعت کے نزدیک جائز نہیں ہے، ابن حزم نے اس کو جائز کہنے والوں کی خوب تردید کی ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بھی یہی قول ہے، جمہور نے جابر کی اس حدیث کو فضل و استحباب پر محمول کیا ہے، مگر یہ بہتر ہے کہ مسنہ نہ ملنے کی صورت میں ذبح کرے، ورنہ نہیں علامہ البانی سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ میں فرماتے ہیں کہ ایک سال کی بکری کی قربانی جائز نہیں، اس کے برخلاف ایک سال کی بھیڑ کی قربانی صحیح احادیث کی وجہ سے کافی ہے (۶/۴۶۳) الأختیارات الفقہیۃ للإمام الألبانی (۱۶۲)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1962)، سنن ابی داود/الأضاحي 5 (2797)، سنن النسائی/الضحایا 12 (4383)، (تحفة الأشراف: 2715)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 327) (صحیح) (اس سند میں ابو الزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے اس لئے البانی صاحب نے اس پر کلام کیا ہے، مزید بحث کے، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 2/374 و سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 65 و الإرواء: 2145، وفتح الباری: 10/ 15)
8: بَابُ : مَا يُكْرَهُ أَنْ يُضَحَّى بِهِ
باب: کن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ، أَوْ مُدَابَرَةٍ، أَوْ شَرْقَاءَ، أَوْ خَرْقَاءَ، أَوْ جَدْعَاءَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو ، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو ، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3142]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2804) ترمذي (1498) نسائي (4377۔4380) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 6 (2804)، سنن الترمذی/الاضاحي 6 (1498)، سنن النسائی/الضحایا 7 (4377)، 8 (4378)، 9 (4379)، (تحفة الأشراف: 10125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/80، 108، 128، 9 14)، سنن الدارمی/الأضاحي 3 (1995) (ضعیف) (اس کے راوی ابواسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کے شیخ شریح سے ان کا سماع نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع بھی ہے، اور شریح شبیہ المجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ، وَالْأُذُنَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی کے جانور ) کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیں ( آیا وہ سلامت ہیں یا نہیں ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3143]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأضاحي 9 (1503)، سنن النسائی/الضحایا 10 (4381)، (تحفة الأشراف: 10064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95، 105، 125، 132، 152) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وأبو الوليد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي بِمَا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ: " أَرْبَعٌ، لَا تُجْزِئُ فِي الْأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ.
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا : مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ، یا منع کیا ہے ؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا : ” چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں : ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو ، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو ، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو ، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو “ ۱؎ ۔ عبید نے کہا : میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا : ” جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو ، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3144]
💡 وضاحت:
۱ ؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس حدیث پرعمل ہے کہ جس قربانی میں یہ چاروں عیب ہوں ان کی قربانی جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 6 (2802)، سنن الترمذی/الأضاحي 5 (1497)، سنن النسائی/الضحایا 4 (4374)، (تحفة الأشراف: 1790)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الضحایا 1 (1)، مسند احمد (4/284، 289، 300، 301)، سنن الدارمی/الأضاحي 3 (1992) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا ، يُحَدِّثُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ، يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3145]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن منڈا یعنی جس جانور کی سینگ اگی نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر کان آدھا سے کم کٹا ہو تو امام ابوحنیفہ نے اس کو جائز کہا ہے، لیکن حدیث مطلق ہے، اور حدیث کی اتباع بہتر ہے، اور احمد، ابوداود، حاکم اور بخاری نے تاریخ میں تخریج کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا «مصفرہ» (جس کا کان کاٹا گیا ہو) سے اور «مستاصلہ» (جس کی سینگ ٹوٹی ہو) سے اور «بخقاء» سے (جس کی آنکھ میں نقش ہو) اور «مشعیہ» سے (جو اور بکریوں کے ساتھ چل نہ سکے کمزوری اور لاغری سے) اور «کسیرہ» سے (جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 6 (2805)، سنن الترمذی/الأضاحي 9 (1504)، سنن النسائی/الضحایا 11 (4382)، (تحفة الأشراف: 10031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 101، 109، 127، 129، 150) (ضعیف) (جری بن کلیب کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1149)
9: بَابُ : مَنِ اشْتَرَى أُضْحِيَّةً صَحِيحَةً فَأَصَابَهَا عِنْدَهُ شَيْءٌ
باب: آدمی نے قربانی کا جانور صحیح سالم خریدا، اس میں عیب پیدا ہو گیا تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بكر ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " ابْتَعْنَا كَبْشًا نُضَحِّي بِهِ، فَأَصَابَ الذِّئْبُ مِنْ أَلْيَتِهِ أَوْ أُذُنِهِ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا أَنْ نُضَحِّيَ بِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا ، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کر دیا ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس سلسلے میں ) سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3146]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ وفي رواية أحمد (78/3،86) ”سمعه من أبي سعيد،محمد؟ قال: لا“ وجابر الجعفي: ضعيف مشهور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4298، ومصباح الزجاجة: 1089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/32، 86) (ضعیف جدا) (سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب، اور اس کے شیخ محمد بن قرظہ الانصاری غیر معروف راوی ہیں)
10: بَابُ : مَنْ ضَحَّى بِشَاةٍ عَنْ أَهْلِهِ
باب: سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ : كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَ كَمَا تَرَى".
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے ، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے ، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3147]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأضاحي 10 (1505)، (تحفة الأشراف: 3481) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ: " حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ، كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ، وَالْآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا".
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا ، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے ، اور اب ( اگر ہم ایسا کرتے ہیں ) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3148]
💡 وضاحت:
۱؎: تو ان کے طعنہ کے ڈر سے خلاف سنت بہت سی بکریاں قربانی کرنا پڑتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کے خاص بندے کسی کے طعن و تشنیع سے نہیں ڈرتے، اور سنت کے موافق فی گھر ایک بکری ذبح کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3301، ومصباح الزجاجة: 1090) (صحیح)
11: بَابُ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَأْخُذُ فِي الْعَشْرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
باب: قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو ، تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3149]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بال اور ناخن وغیرہ کچھ نہیں کاٹنا چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1977)، سنن ابی داود/الأضاحي 3 (2791)، سنن الترمذی/الضحایا 24 (1523)، سنن النسائی/الضحایا (4366)، (تحفة الأشراف: 18152)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 301، 311)، سنن الدارمی/الأضاحي 2 (1991) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَقْرَبَنَّ لَهُ شَعَرًا وَلَا ظُفْرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے ، اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کے قریب نہ پھٹکے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3150]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں سے کچھ بھی نہ کاٹے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 18152) (صحیح)
12: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ الأُضْحِيَّةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ
باب: نماز عید سے پہلے قربانی کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ يَعْنِي قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3151]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ابن القیم فرماتے ہیں: اس باب میں صریح احادیث وارد ہیں کہ نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہوا جانور کافی نہ ہو گا، خواہ نماز کا وقت آ گیا ہو، یا نہ آ گیا ہو، اور یہی اللہ تعالی کا دین ہے جس کو ہم اختیار کرتے ہیں، اور اس کے خلاف باطل ہے، امام کی نماز عیدگاہ میں ہو یا مسجد میں اگر امام نہ ہو، تو ہر شخص اپنی نماز کے بعد ذبح کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 23 (954)، الأضاحي 4 (5549)، 7 (5554)، 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1962)، سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، سنن النسائی/الضحایا 13 (4393)، (تحفة الأشراف: 11455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/113، 117) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ابْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَبَحَ أُنَاسٌ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ مِنْكُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيُعِدْ أُضْحِيَّتَهُ، وَمَنْ لَا فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ".
جندب بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ قربانی کرے ، اور جس نے نہ ذبح کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3152]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 23 (985)، الصید 17 (500)، الأضاحي 12 (5562)، الأیمان 15 (6674)، التوحید 13 (7400)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1960)، سنن النسائی/الأضاحي 3 (4373)، (تحفة الأشراف: 3251)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 312، 313) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ " أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعِدْ أُضْحِيَّتَكَ".
عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ کہتے کہ انہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی قربانی دوبارہ کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3153]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10921، ومصباح الزجاجة: 1091)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الضحایا3 (5)، مسند احمد (3/454، 4/341) (صحیح) (سند میں عباد بن تمیم اور عویمر بن اشقر کے مابین انقطاع ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟"، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ، قَالَ: " اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا ، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کس شخص نے ذبح کیا ہے “ ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا ، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا ، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا ، اس شخص نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3154]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10699، ومصباح الزجاجة: 1092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/77، 340، 341) (صحیح)
13: بَابُ : مَنْ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ
باب: اپنے ہاتھ سے قربانی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا آپ اپنا پاؤں اس کے پٹھے پر رکھے ہوئے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3155]
💡 وضاحت:
۱؎: بہتر ہے کہ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، عورت بھی اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کر سکتی ہے، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ اپنی قربانیاں اپنے ہاتھ سے ذبح کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: أنظر حدیث رقم: (3120) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ عِنْدَ طَرَفِ الزُّقَاقِ طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ بِيَدِهِ بِشَفْرَةٍ".
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زریق کے راستے میں گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ایک چھری سے ذبح کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3156]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3833، ومصباح الزجاجة: 1093) (ضعیف) (عبدالرحمن بن سعد اور ان کے والد دونوں ضعیف ہیں)
14: بَابُ : جُلُودِ الأَضَاحِيِّ
باب: قربانی کی کھالوں کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ : أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا، وَجُلُودَهَا، وَجِلَالَهَا لِلْمَسَاكِينِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء ، اس کے گوشت ، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3157]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: أنظر حدیث رقم: (3099) (صحیح)
15: بَابُ : الأَكْلِ مِنْ لُحُومِ الضَّحَايَا
باب: قربانی کا گوشت کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ، فَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا ، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا ، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا ، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا ، اور اس کا شوربہ پیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3158]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2609، ومصباح الزجاجة: 1094) (صحیح)
16: بَابُ : ادِّخَارِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ
باب: قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کی اجازت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، لِجَهْدِ النَّاسِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3159]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 27 (5423)، 37 (5438)، الأضاحي 16 (6687)، صحیح مسلم/الأضاحي 5 (1971)، سنن الترمذی/الأضاحي 14 (1511)، سنن النسائی/الضحایا 36 (4436)، (تحفة الأشراف: 16165) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضاحي10 (2812)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (67)، مسند احمد (6/102، 209)، سنن الدارمی/الأضاحي 6 (16165) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا".
نبیشہ ( نبیشہ بن عبداللہ الہذلی ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا ، لیکن اب اسے کھاؤ اور ذخیرہ اندوزی کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3160]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جتنے دن چاہو اسے کھاؤ اور محفوظ کر کے رکھو، اس لئے کہ اب فقر و فاقہ کے دن گئے، لوگ خوشحال ہو گئے،اس لئے اب اس کو تین دن میں کھانا اور تقسیم کرنا غیر ضروری ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 10 (2813)، 20 (2830)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4235)، (تحفة الأشراف: 11585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/75، 76)، سنن الدارمی/الأضاحي 6 (2001) (صحیح)
17: بَابُ : الذَّبْحِ بِالْمُصَلَّى
باب: عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ كَانَ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ذبح کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3161]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأضاحي 9 (2811)، (تحفة الأشراف: 7473)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العید ین22 (982)، الاضاحي 6 (5552)، سنن الترمذی/الضحایا 9 (1508)، سنن النسائی/العیدین 29 (1590)، الأضاحي 2 (4371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/108، 152) (صحیح)
← پچھلی کتاب #29 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #31 →