سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3151
Sunan Ibn Majah 3151
کتاب #27: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
12: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ الأُضْحِيَّةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ
باب: نماز عید سے پہلے قربانی کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ يَعْنِي قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3151]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ابن القیم فرماتے ہیں: اس باب میں صریح احادیث وارد ہیں کہ نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہوا جانور کافی نہ ہو گا، خواہ نماز کا وقت آ گیا ہو، یا نہ آ گیا ہو، اور یہی اللہ تعالی کا دین ہے جس کو ہم اختیار کرتے ہیں، اور اس کے خلاف باطل ہے، امام کی نماز عیدگاہ میں ہو یا مسجد میں اگر امام نہ ہو، تو ہر شخص اپنی نماز کے بعد ذبح کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العیدین 23 (954)، الأضاحي 4 (5549)، 7 (5554)، 9 (5558)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1962)، سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، سنن النسائی/الضحایا 13 (4393)، (تحفة الأشراف: 11455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/113، 117) (صحیح)