سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3137
Sunan Ibn Majah 3137
کتاب #27: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
6: بَابُ : كَمْ تُجْزِئُ مِنَ الْغَنَمِ عَنِ الْبَدَنَةِ
باب: ایک اونٹ کے بدلے کتنی بکریوں کی قربانی کافی ہو گی؟
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، ح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَيْنَا الْقُدُورَ، قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ الْجَزُورَ بِعَشَرَةٍ مِنَ الْغَنَمِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے ، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں ، پھر لوگوں نے ( گوشت کاٹنے میں ) عجلت سے کام لیا ، اور ہم نے ( مال غنیمت ) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں ، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا ، تو وہ الٹ دی گئیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3137]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے یہ نہیں معلوم ہوا کہ قربانی میں اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے یعنی ایک اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں، یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے بلکہ یہ خاص تھا اس موقع سے شاید وہاں کے اونٹ بڑے اور تیار ہوں گے، بکریاں چھوٹی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر رکھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 3 (2488)، 16 (2507)، الجہاد 191 (3075)، الذبائح 15 (5498)، 18 (5503)، 23 (5509)، 36 (5543)، 37 (5544)، صحیح مسلم/الأضاحي 4 (1968)، سنن ابی داود/الاضاحي 15 (2821)، سنن الترمذی/الأحکام 5 (1491) 16 (1492)، السیر 40 (1600)، سنن النسائی/الصید والذبائح 17 (4302)، الضحایا 15 (4396)، 26 (4414، 4415)، (تحفة الأشراف: 3561)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 464، 4/140، 142) (صحیح)