سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3148
Sunan Ibn Majah 3148
کتاب #27: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
10: بَابُ : مَنْ ضَحَّى بِشَاةٍ عَنْ أَهْلِهِ
باب: سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ: " حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ، كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ، وَالْآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا".
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا ، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے ، اور اب ( اگر ہم ایسا کرتے ہیں ) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3148]
💡 وضاحت:
۱؎: تو ان کے طعنہ کے ڈر سے خلاف سنت بہت سی بکریاں قربانی کرنا پڑتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کے خاص بندے کسی کے طعن و تشنیع سے نہیں ڈرتے، اور سنت کے موافق فی گھر ایک بکری ذبح کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3301، ومصباح الزجاجة: 1090) (صحیح)