📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

كِتَاب الْفَرَائِضِ

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

کتاب #26 • کل احادیث: 44
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ
باب: علم فرائض سیکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے: آیت محکمہ ۲؎، یا سنت قائمہ ۳؎، یا فریضہ عادلہ ۴؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2885]
💡 وضاحت:
۱؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (54) ¤ الإفريقي ضعيف ¤ ولحديثه شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة 8 (54)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف) (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں)
2: باب فِي الْكَلاَلَةِ
باب: کلالہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّهُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: " فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے (سورۃ النساء: ۱۷۶)، اتری ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2886]
💡 وضاحت:
۱؎: کلالہ: ایسا شخص جو نہ باپ چھوڑے نہ کوئی اولاد، اس کے سلسلہ میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مر جائے اور اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو صرف ایک بہن ہو تو آدھا مال لے گی، دو ہوں تو ثلث لے لیں گی، اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا اخیر تک۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6723) صحيح مسلم (1616)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر النساء 27 (4605)، المرضی 5 (5651)، الفرائض 13 (6743)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616)، سنن الترمذی/الفرائض 7 (2097)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 5 (2728)، (تحفة الأشراف: 3028)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 56 (760) (صحیح)
3: باب مَنْ كَانَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أَخَوَاتٌ
باب: جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ، قَالَ: أَحْسِنْ، قُلْتُ الشَّطْرَ، قَالَ: أَحْسِنْ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ: يَا جَابِرُ لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ، قَالَ: فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2887]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وللحديث شواھد كثيرة منھا الحديث السابق (2886)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2977)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6325)، مسند احمد (3/372) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2888]
💡 وضاحت:
۱؎: جو سورہ نساء کے اخیر میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4605) صحيح مسلم (1618)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 66 (4364)، والتفسیر 27 (4605)، 3 (4656)، والفرائض 14 (6744)، صحیح مسلم/الفرائض 3 (1618)، (تحفة الأشراف: 1870)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (4346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ، فَمَا الْكَلَالَةُ؟ قَالَ: " تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ"، فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاق: هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا، قَالَ: كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2889]
💡 وضاحت:
۱؎: سورہ نساء کا آخری حصہ گرمی کے زمانہ میں نازل ہوا ہے اس لئے اسے آیت «صيف» کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ وللحديث شواھد عند مسلم (1617) وانظر الحديث السابق (2888)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفرائض 2 عن عمر (1617)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 27 (3042)، (تحفة الأشراف: 1906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/293، 295، 301) (صحیح)
4: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ
باب: صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا، عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ، وأخت لأب وأم، فقالا لابنته النصف، وللأخت من الأب، والأم النصف، ولم يورثا ابنة الابن شيئا، وأت ابن مسعود فإنه سيتابعنا فأتاه الرجل فسأله وأخبره بقولهما، فقال لقد ضللت إذا وما أَنَا وَلَكِنِّي سَأَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ مِنَ الْمُهْتَدِينَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ سَهْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ.
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن (یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا (اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہو گا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے (یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2890]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6736)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الفرائض 8 (6736)، سنن الترمذی/الفرائض 4 (2093)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2721)، (تحفة الأشراف: 9594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 428، 440، 463)، سنن الدارمی/الفرائض 7 (2932) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَاقِ فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ بِنْتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا إِلَّا أَخَذَهُ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ قَالَ: وَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11 الْآيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُوا لِي الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا، فَقَالَ: لِعَمِّهِمَا أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَخْطَأَ بِشْرٌ فِيهِ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اسواف (مدینہ کے حرم) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائے گا، پھر سورۃ نساء کی یہ آیتیں «يوصيكم الله في أولادكم» نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو اور اس کے دیور کو بلاؤ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکیوں کے چچا سے کہا: دو تہائی مال انہیں دے دو، اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو انہیں دینے کے بعد بچا رہے وہ تمہارا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں بشر نے غلطی کی ہے، یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی تھیں، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2891]
💡 وضاحت:
۱؎: لہذا مسئلہ (۲۴) سے ہو گا، (۱۶) دونوں بیٹیوں کے اور (۳) ان کی ماں کے اور (۵) ان کے چچا کے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن ذكر ثابت بن قيس فيه خطأ والمحفوظ أنه سعد بن الربيع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2092) ابن ماجه (2720) ¤ ابن عقيل: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 3 (2092)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2720)، (تحفة الأشراف: 2365)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/352) (حسن) (اس روایت میں ثابت بن قیس کا تذکرہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ وَسَاقَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا هُوَ أَصَحُّ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2892]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (2891) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2365) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ.
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2893]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6734)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الفرائض 6، 12 (6734)، (تحفة الأشراف: 11307)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 4 (2921) (صحیح)
5: باب فِي الْجَدَّةِ
باب: دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میت کی نانی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے (جو اس معاملے کو جانتا ہو) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کر دیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دادی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( «سدس» ) کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو (یعنی صرف نانی یا صرف دادی) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2894]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3061، 4084) ¤ الزھري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (4/73 ح 6339 وسنده صحيح) وخالفه النسائي فأخطأ والله أعلم، قبيصة صحابي صغير رضي الله عنه و ھذا من مراسيل الصحابة و مراسيل الصحابة مقبولة
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 10 (2101)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 4 (2724)، (تحفة الأشراف: 11232، 11522)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الفرائض 8 (4)، مسند احمد (4/225) (ضعیف) (اس کی سند میں قبیصہ اور ابوبکر صدیق کے درمیان انقطاع ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَبُو الْمُنِيبِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٌّ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو (یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2895]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3049)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1985) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ کے بارے میں کلام ہے)
6: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ
باب: دادا کی میراث کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنً، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ، فَقَالَ: لَكَ السُّدُسُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ، قَالَ قَتَادَةُ: فَلَا يَدْرُونَ مَعَ أَيِّ شَيْءٍ وَرَّثَهُ قَالَ قَتَادَةُ: أَقَلُّ شَيْءٍ وَرِثَ الْجَدُّ السُّدُسُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2896]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2099) ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 9 (2099)، (تحفة الأشراف: 10801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 436) (ضعیف) (اس کے رواة قتادة اور حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، نیز حسن کے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: " أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا؟".
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (جانتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2897]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2723) ¤ الحسن عن عمر: لم يدركه (تحفة الأشراف 20/8) فالسند منقطع ¤ والحديث السابق (الأصل: 2895) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الکبری (6335)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 3 (2723)، (تحفة الأشراف: 11467)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/27) (صحیح) (حسن بصری کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 251)
7: باب فِي مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ
باب: عصبہ کی میراث کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَهَذَا حَدِيثُ مَخْلَدٍ، وَهُوَ الأَشْبَعُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْسِمْ الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوی الفروض ۱؎ میں مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر دو اور جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کو ملے گا جو میت سے سب سے زیادہ قریب ہو ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2898]
💡 وضاحت:
۱؎: ذوی الفروض: وہ وارثین ہیں جن کے حصے کتاب اللہ میں مقرر ہیں۔
۲؎: جیسے بھائی چچا کے بہ نسبت اور چچا زاد بھائی کی بہ نسبت اور بیٹا پوتے کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6732) صحيح مسلم (1615)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الفرائض 5 (6732)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1615)، سنن الترمذی/الفرائض 8 (2098)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 10 (2740)، (تحفة الأشراف: 5705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292، 313، 325)، سنن الدارمی/الفرائض 28 (3030) (صحیح)
8: باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ
باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ الْمِقْدَامِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ، وَرُبَّمَا قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ لَهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بوجھ (قرضہ یا بال بچے) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۲؎ اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2899]
💡 وضاحت:
۱؎: میت کا ایسا رشتہ دار جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبہ میں سے۔
۲؎: یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کی اولاد کی خبر گیری کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3052) ¤ وله شاھد عند ابن حبان (1226 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفرائض 9 (2738)، والدیات 7 (2634)، (تحفة الأشراف: 11569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد، رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَائِذٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاهُ عِيَالٌ.
مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے (یہ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2900]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (3052) ¤ انظر الحديث السابق (2899)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11569) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَفُكُّ عَانِيَهُ وَأَرِثُ مَالَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَفُكُّ عَانِيَهُ وَيَرِثُ مَالَهُ".
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے ۱؎ جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2901]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے بھانجے کا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (2899)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11576) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ، وقَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاهُنَا أَحَدٌ مَنْ أَهْلِ أَرْضِهِ، قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَأَعْطُوهُ مِيرَاثَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مر گیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑ ا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کو دے دو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2902]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ ترکہ آپ کا حق تھا مگر آپ نے اس کے ہم وطن پر اسے صدقہ کر دیا، امام کو ایسا اختیار ہے اس میں کوئی مصلحت ہی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3055)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 13 (2105)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2733)، (تحفة الأشراف: 16381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137، 174، 181) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: عَلَيَّ الرَّجُلُ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2903]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ جو سب سے بڑا ہو گا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہو گا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہو گا ازد سے بھی زیادہ قریب ہو گا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف بل صحيح ¤ نسائي في الكبريٰ (6396) ¤ المحاربي عنعن وھو مدلس ¤ ولكن تابعه عباد بن العوام (نك 6395) فالحديث حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (ضعیف) (اس کے راوی ’’جبریل بن احمر‘‘ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَسْوَدَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ، فَقَالَ: الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، أَوْ ذَا رَحِمٍ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطُوهُ الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ"، وَقَالَ يَحْيَى: قَدْ سَمِعْتُهُ مَرَّةً يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خزاعہ (قبیلہ) کے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کی میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا: اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو تو نہ اس کا کوئی وارث ملا، اور نہ ہی کوئی ذی رحم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو۔ یحییٰ کہتے ہیں: ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2904]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اوپری نسب میں خزاعہ سے نزدیک ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي في الكبريٰ (6394) ¤ شريك القاضي عنعن ¤ و الحديث السابق (2903) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1955) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا غُلَامًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَهُ أَحَدٌ؟، قَالُوا: لَا إِلَّا غُلَامًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ"، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ لَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مر گیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کر چکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی اس کا وارث ہے؟ لوگوں نے کہا: کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2905]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتق (آزاد کیا ہوا) بھی وارث ہوتا ہے جب آزاد کرنے والے کا کوئی اور وارث نہ ہو، لیکن جمہور اس کے خلاف ہیں اور حدیث بھی ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3065) ¤ أخرجه ابن ماجه (2741 وسنده حسن) عوسجة: حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 14 (2106)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 11 (2741)، (تحفة الأشراف: 6326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/221، 358) (ضعیف) (اس کے راوی عوسجہ مجہول ہیں)
9: باب مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلاَعِنَةِ
باب: لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَرْأَةُ تُحْرِزُ ثَلَاثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے: اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی، راہ میں پائے ہوئے بچے کی، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو (یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو) تو عورت اس کی وارث ہو گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2906]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2115) ابن ماجه (2742) ¤ عمر بن رؤبة ضعفه البخاري والجمهور فھو ضعيف يعتبر به ¤ انظر التحرير (4895) ¤ وقال ابن عدي: ”وإنما أنكروا عليه أحاديثه عن عبدالواحد النصري“ (الكامل 1707/5) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 23 (2115)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 12 (2742)، (تحفة الأشراف: 11744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490، 4/106) (ضعیف) (اس کے راوی عمر بن رؤبة ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَمُوسَى بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِيرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ وَلِوَرَثَتِهَا مِنْ بَعْدِهَا".
مکحول کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والی عورت کے بچے کی میراث اس کی ماں کو دلائی ہے پھر اس کی ماں کے بعد ماں کے وارثوں کو دلائی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2907]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ باپ کو اور اس کے وارثوں کو بچے سے واسطہ نہ رہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البيهقي: ”حديث مكحول منقطع“ (السنن الكبري 6/ 259) ¤ فالسند ضعيف ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8771)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الفرائض 24 (3010) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ یہ مرسل روایت ہے کیونکہ مکحول تابعی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2908]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل وكان يدلس تدليس التسوية ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8771) (صحیح)
10: باب هَلْ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ
باب: کیا مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2909]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4282، 4283) صحيح مسلم (1614)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 48 (4283)، الفرائض 26 (6764)، صحیح مسلم/الفرائض (1614)، سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2730)، (تحفة الأشراف: 113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/200، 201، 208، 209) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حِجَّتِهِ؟ قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا؟، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي الْمُحَصَّبِ، وَذَاكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُئْوُوهُمْ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل آپ (مکہ میں) کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائے قیام چھوڑی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بنی کنانہ کے خیف یعنی وادی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر جمے رہنے کی قسم کھائی تھی۔ بنو کنانہ نے قریش سے عہد لیا تھا کہ وہ بنو ہاشم سے نہ نکاح کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں اپنے یہاں جگہ (یعنی پناہ) دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف ایک وادی کا نام ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2910]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی باب سے مطابقت اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی وفات کے وقت عقیل اسلام نہیں لائے تھے، اس لئے وہ ابوطالب کی میراث کے وارث ہوئے، جب کہ علی اور جعفر رضی اللہ عنہما اسلام لانے کے سبب ابوطالب کی میراث کے حقدار نہ بن سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3058) صحيح مسلم (1351)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (2010) (تحفة الأشراف: 114) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دین والے (یعنی مسلمان اور کافر) کبھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2911]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3046)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8669)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 16 (2109)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2732)، مسند احمد (2/178، 195) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ الْوَاسِطِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ أَخَوَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ يَهُودِيٌّ، وَمُسْلِمٌ فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ مِنْهُمَا، وَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاذًا حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ فَوَرَّثَ الْمُسْلِمَ".
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ دو بھائی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کے پاس لے گئے ان میں سے ایک یہودی تھا، اور ایک مسلمان، انہوں نے مسلمان کو میراث دلائی، اور کہا کہ ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے بیان کیا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اسلام بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے پھر انہوں نے مسلمان کو ترکہ دلایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2912]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ”رجل“ مجهول كما قال المنذري والبيهقي وغيرھما (انظر عون المعبود 85/3) ¤ وھو صحيح عن يحيي بن يعمر رحمه اللّٰه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11318)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 236) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رجلا مبہم ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، أَنَّ مُعَاذًا أُتِيَ بِمِيرَاثِ يَهُودِيٍّ وَارِثُهُ مُسْلِمٌ بِمَعْنَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کا ترکہ لایا گیا جس کا وارث ایک مسلمان تھا، اور اسی مفہوم کی حدیث انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2913]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (2912) وسقوط الرجل من السند لا يفيده شيئًا إلا إذا صرح بالسماع وھذا لم أجده ھاھنا ¤ انظر مقدمة ابن الصلاح (ص290،نوع 37) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11318) (ضعیف)
11: باب فِيمَنْ أَسْلَمَ عَلَى مِيرَاثٍ
باب: میراث کی تقسیم سے پہلے اگر وارث مسلمان ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ لَهُ، وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2914]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ وللحديث شواھد كثيرة
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الرھن 21 (2485)، (تحفة الأشراف: 5383) (صحیح)
12: باب فِي الْوَلاَءِ
باب: ولاء (آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا حَاضِرٌ، قَالَ مَالِكٌ: عَرَضَ عَلَيَّ نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ۱؎ ہمیں حاصل ہو، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2915]
💡 وضاحت:
۱؎: ولاء اس میراث کو کہتے ہیں جو آزاد کردہ غلام یا عقد موالاۃ کی وجہ سے حاصل ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2169) صحيح مسلم (1504)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، والمکاتب 2 (2562)، والفرائض 19 (6752)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن النسائی/البیوع 76 (4648)، (تحفة الأشراف: 8334)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ وَوَلِيَ النِّعْمَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے (یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2916]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6754)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الفرائض 20 (6760)، سنن النسائی/الطلاق 30 (3479)، (تحفة الأشراف: 17432، 15991)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العتق 20 (1504)، سنن الترمذی/البیوع 33 (2126)، مسند احمد (6/170، 186، 189) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے، پھر لڑکوں کی ماں مر گئی، اور وہ لڑکے اپنی ماں کے گھر کے اور اپنی ماں کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کی ولاء کے مالک ہوئے، اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ (یعنی وارث) ہوئے اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی طرف نکال دیا، اور وہ وہاں مر گئے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا تو اس عورت کے بھائی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس عورت کے ولاء کا مقدمہ لے گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ولاء اولاد یا باپ حاصل کرے تو وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہو (اولاد کے یا باپ کے مر جانے کے بعد ماں کے وارثوں کو نہ ملے گی) پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس باب میں ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا اور اس پر عبدالرحمٰن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی ثابت کر دی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو پھر ان لوگوں نے جھگڑا کیا یہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس لے گئے انہوں نے عبدالملک کے پاس مقدمہ کو بھیج دیا، عبدالملک نے کہا: یہ فیصلہ تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کو دیکھ چکا ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر عبدالملک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2917]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2732 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2732)، (تحفة الأشراف: 10581، 18598)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/27) (حسن)
مکمل مطالعہ →
0 [سنن ابي داود/حدیث: 2917M]
13: باب فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ
باب: جو کسی شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہو تو وہ اس کا وارث ہو گا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، وهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ هِشَامٌ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَالَ يَزِيدُ: إِنَّ تَمِيمًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے (اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2918]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (2112) وابن ماجه (2752) ولم أر لمضعفه حجة قوية
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الفرائض 20 (2112)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 18 (2752)، (تحفة الأشراف: 2052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/102، 103)، سنن الدارمی/الفرائض 34 (3076) (حسن صحیح)
14: باب فِي بَيْعِ الْوَلاَءِ
باب: ولاء (میراث) بیچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2919]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حق ولاء کی بیع وہبہ جائز نہیں کیونکہ وہ بالفعل معدوم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2535) صحيح مسلم (1506)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ العتق 10 (2535)، الفرائض 21 (6756)، صحیح مسلم/ العتق 3 (1506)، سنن الترمذی/البیوع 20 (1236)، الولاء 1 (2126)، سنن النسائی/البیوع 85 (4663)، (تحفة الأشراف: 7189)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق والولاء 10 (20)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 15 (2747) مسند احمد (2/9، 79، 107)، سنن الدارمی/البیوع 36 (2614) (صحیح)
15: باب فِي الْمَوْلُودِ يَسْتَهِلُّ ثُمَّ يَمُوتُ
باب: بچہ روتے ہوئے یعنی زندہ پیدا ہو پھر مر جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وُرِّثَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ آواز کرے تو وراثت کا حقدار ہو جائے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2920]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پیدا ہونے کے بعد بچے میں زندگی کے آثار معلوم ہوں تو ازروئے شرع اس کی میراث ثابت ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14840) (صحیح)
16: باب نَسْخِ مِيرَاثِ الْعَقْدِ بِمِيرَاثِ الرَّحِمِ
باب: رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ 0، كَانَ الرَّجُلُ يُحَالِفُ الرَّجُلَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا نَسَبٌ فَيَرِثُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الأَنْفَالُ فَقَالَ تَعَالَى: وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو (سورۃ النساء: ۳۳) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت: «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں (سورۃ الانفال: ۷۵) سے منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2921]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6261) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ 0، قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ تُوَرَّثُ الأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ، قَالَ نَسَخَتْهَا وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ سورة النساء آية 33، مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَهُ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کا قصہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اس مواخات (بھائی چارہ) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان کرا دی تھی وہ انصار کے وارث ہوتے (اور انصار ان کے وارث ہوتے) اور عزیز و اقارب وارث نہ ہوتے، لیکن جب یہ آیت «ولكل جعلنا موالي مما ترك» ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ کر مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں (سورۃ النساء: ۳۳) نازل ہوئی تو «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» ‏‏‏‏ والی آیت کو منسوخ کر دیا، اور اس کا مطلب یہ رہ گیا کہ ان کی اعانت، خیر خواہی اور سہارے کے طور پر جو چاہے کر دے نیز ان کے لیے وہ (ایک تہائی مال) کی وصیت کر سکتا ہے، میراث ختم ہو گئی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2922]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4580)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکفالة 2 (2292)، تفسیر سورة النساء 7 (2292)، الفرائض 16 (6747)، (تحفة الأشراف: 5523) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِيعِ، وَكَانَتْ يَتِيمَةً فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَرَأْتُ 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ 0، فَقَالَتْ: لَا تَقْرَأْ 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ 0 وَلَكِنْ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33، إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ، وَ ابْنِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِينَ أَبَى الْإِسْلَامَ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَلَّا يُوَرِّثَهُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ يُؤْتِيَهُ نَصِيبَهُ، زَادَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فَمَا أَسْلَمَ حَتَّى حُمِلَ عَلَى الْإِسْلَامِ بِالسَّيْفِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَنْ قَالَ عَقَدَتْ جَعَلَهُ حِلْفًا، وَمَنْ قَالَ عَاقَدَتْ جَعَلَهُ حَالِفًا، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ طَلْحَةَ عَاقَدَتْ.
داود بن حصین کہتے ہیں کہ میں ام سعد بنت ربیع سے (کلام پاک) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں: اس آیت کو نہ پڑھو، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں) کہ وہ ان کا حصہ دیں۔ عبدالعزیز کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ عبدالرحمٰن تلوار کے دباؤ میں آ کر مسلمان ہوئے (یعنی جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے «حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2923]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ منسوخ ہو گئی ہے یا کسی ایک شخص کے لئے مخصوص تھی، نہ پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل نہ کرو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18320) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا سورة الأنفال آية 74 وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا سورة الأنفال آية 72، فَكَانَ الأَعْرَابِيُّ لَا يَرِثُ الْمُهَاجِرَ، وَلَا يَرِثُهُ الْمُهَاجِرُ فَنَسَخَتْهَا فَقَالَ: وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا تھا: «والذين، ‏‏‏‏ آمنوا وهاجروا» ، «والذين آمنوا ولم يهاجروا» جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تو وہ ان کے وارث نہیں ہوں گے (سورۃ الانفال: ۷۲) تو اعرابی ۱؎ مہاجر کا وارث نہ ہوتا اور نہ مہاجر اس کا وارث ہوتا اس کے بعد «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں (سورۃ الانفال: ۷۵) والی آیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2924]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6262) (حسن صحیح)
17: باب فِي الْحِلْفِ
باب: قول و قرار پر قسمیں کھانے اور حلف اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وأبو أسامة، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2925]
💡 وضاحت:
۱؎: کفار عرب کا دستور تھا کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا ہم حلیف ہوتا، اور ہر ایک دوسرے کا حق و ناحق میں مدد کرتا تھا، سو فرمایا کہ اسلام میں کفر کی قسم اور عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2530)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 50 (2530)، (تحفة الأشراف: 3184)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/83) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حِلْفَ فِي الإِسْلَامِ"، فَقَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو ان (یعنی انس) سے کہا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف (عہد و پیمان) نہیں ہے؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2926]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (7340) صحيح مسلم (2529
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکفالة 2 (2294)، والأدب 67 (6083)، والاعتصام 16 (7340)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 50 (2529)، (تحفة الأشراف: 930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 /111، 145، 281) (صحیح)
18: باب فِي الْمَرْأَةِ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا
باب: عورت اپنے شوہر کی دیت سے حصہ پائے گی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِح، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يَقُولُ: الدِّيَةُ للْعَاقِلةِ وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيَّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمْرُ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِح، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُعَمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ فِيهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَعْرَابِ.
سعید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی ضحاک کو) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2927]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ آپ کو صحیح حدیث مل گئی، حدیث یا آیت کے مل جانے پر رائے اور قیاس پر اعتماد صحیح نہیں ہے، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کہ جن کی اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ضروری ہے ان کا یہ حال ہو کہ اپنی رائے و قیاس کو حدیث پہنچتے ہی چھوڑ دیں تو فقہاء و مجتہدین کی رائے کس شمار میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3063) ¤ وللحديث شواھد حسن عند الطبراني (2/276 ح 5315) وغيره
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدیات 19 (1415)، سنن ابن ماجہ/الدیات 12 (2642)، (تحفة الأشراف: 4973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/452) (صحیح)
← پچھلی کتاب #25 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #27 →