سنن أبي داود حدیث نمبر: 2906
Sunan Abi Dawud 2906
کتاب #19: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
9: باب مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلاَعِنَةِ
باب: لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَرْأَةُ تُحْرِزُ ثَلَاثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے: اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی، راہ میں پائے ہوئے بچے کی، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو (یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو) تو عورت اس کی وارث ہو گی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2906]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2115) ابن ماجه (2742) ¤ عمر بن رؤبة ضعفه البخاري والجمهور فھو ضعيف يعتبر به ¤ انظر التحرير (4895) ¤ وقال ابن عدي: ”وإنما أنكروا عليه أحاديثه عن عبدالواحد النصري“ (الكامل 1707/5) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الفرائض 23 (2115)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 12 (2742)، (تحفة الأشراف: 11744)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490، 4/106) (ضعیف) (اس کے راوی عمر بن رؤبة ضعیف ہیں)