سنن أبي داود حدیث نمبر: 2885
Sunan Abi Dawud 2885
کتاب #19: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
1: باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ
باب: علم فرائض سیکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے: آیت محکمہ ۲؎، یا سنت قائمہ ۳؎، یا فریضہ عادلہ ۴؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2885]
💡 وضاحت:
۱؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (54) ¤ الإفريقي ضعيف ¤ ولحديثه شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 8 (54)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف) (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں)