سنن أبي داود حدیث نمبر: 2903
Sunan Abi Dawud 2903
کتاب #19: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
8: باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ
باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ: اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: عَلَيَّ الرَّجُلُ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ: انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو“۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو“، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ“، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2903]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ جو سب سے بڑا ہو گا وہ اپنے جد اعلیٰ سے زیادہ قریب ہو گا اور جو اپنے جد اعلیٰ سے قریب ہو گا ازد سے بھی زیادہ قریب ہو گا کیونکہ خزاعہ ازد ہی کی ایک شاخ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف بل صحيح ¤ نسائي في الكبريٰ (6396) ¤ المحاربي عنعن وھو مدلس ¤ ولكن تابعه عباد بن العوام (نك 6395) فالحديث حسن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (ضعیف) (اس کے راوی ’’جبریل بن احمر‘‘ ضعیف ہیں)