سنن أبي داود حدیث نمبر: 2901
Sunan Abi Dawud 2901
کتاب #19: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
8: باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ
باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَفُكُّ عَانِيَهُ وَأَرِثُ مَالَهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَفُكُّ عَانِيَهُ وَيَرِثُ مَالَهُ".
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے ۱؎ جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2901]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنے بھانجے کا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (2899)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11576) (حسن صحیح)