📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

كتاب التطوع

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل

کتاب #10 • کل احادیث: 54
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب التَّطَوُّعِ وَرَكَعَاتِ السُّنَّةِ
باب: نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1250]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (728)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 15 (728)، سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1802)، (تحفة الأشراف: 15860)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 193 (415)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 100 (1141)، مسند احمد (6/426، 327)، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1478) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، الْمَعْنَي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1251]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (730) ¤ مشكوة المصابيح (1162)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (375)، 410 (436)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1647، 1648)، (تحفة الأشراف: 16207)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 140 (1228)، مسند احمد (6/30، 216) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1252]
قال الشيخ الألباني: صحيح خ م الركعتين بعد الجمعة فقط
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (937) صحيح مسلم (882)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، صحیح مسلم/الجمعة 18 (882)، سنن النسائی/الجمعة 42 (1428)، (تحفة الأشراف: 8343)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 23 (69)، مسند احمد (2/34) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرَ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1253]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1182)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 34 (1182)، سنن النسائی/قیام اللیل 47 (1759)، (تحفة الأشراف: 17599)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 63، 148) (صحیح)
2: باب رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی دو رکعت سنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1254]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1169) صحيح مسلم (724)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/صلاة اللیل 27 (1169)، صحیح مسلم/السافرین 14(724)، (تحفة الأشراف: 16321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 54، 170) (صحیح)
3: باب فِي تَخْفِيفِهِمَا
باب: فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟ [سنن ابي داود/حدیث: 1255]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1171) صحيح مسلم (724)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 28 (1171)، صحیح مسلم/المسافرین 14 (724)، سنن النسائی/الافتتاح 40 (945)، (تحفة الأشراف: 17913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40، 49، 100، 165، 183، 186، 235) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1256]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (726)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 14 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 39 (946)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 102 (1148)، (تحفة الأشراف: 13438) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: " لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا".
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1257]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/14) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1258]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ (عبد ربه) ابن سيلان لم يوثقه غير ابن حبان وقال ابن القطان الفاسي: ”فحاله مجهولة لاتعرف‘‘ (بيان الوھم والإيھام 3/ 386 ح 1127) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/405) (ضعیف) (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ «آمنا بالله وما أنزل إلينا» ۱؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں «آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون» ۲؎ پڑھتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1259]
💡 وضاحت:
وضاحت: سورة البقرة: (۱۳۶) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۲)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون إن كثيرا مما
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (727)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 14(727)، سنن النسائی/الافتتاح 38 (945)، (تحفة الأشراف: 5669)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230، 231) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا سورة آل عمران آية 84 فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ سورة آل عمران آية 53 أَوْ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ سورة البقرة آية 119". شَكَّ الدَّارَوَرْدِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ «قل آمنا بالله وما أنزل علينا» ۱؎ اور دوسری رکعت میں «ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين» ۲؎ یا «إنا أرسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم» ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1260]
💡 وضاحت:
وضاحت: سورة آل عمران: (۸۴) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۳) وضاحت: سورة البقرة: (۱۱۹)
قال الشيخ الألباني: حسن وأخرجه البيهقي دون قوله أو إنا أرسلناك
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عثمان بن عمر بن موسي قاضي مشهور وثقه ابن حبان وحده وجھله ابن معين وغيره فھو مجھول الحال ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53 ¤
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12926) (حسن)
4: باب الاِضْطِجَاعِ بَعْدَهَا
باب: فجر کی سنت کے بعد لیٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ"، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: " لَا"، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا؟.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے (کثرت سے روایت کر کے) خود پر زیادتی کی ہے (اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہو گا)، وہ کہتے ہیں: ابن عمر سے پوچھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (روایت کثرت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1261]
💡 وضاحت:
۱؎: ترمذی، ابن حبان (۲۴۵۹) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابوہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہو جائے گی، ابوہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، وصحیح ابی داود للألبانی ۴؍ ۴۲۹)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (420) ¤ الأ عمش مدلس مشھور وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 195 (420)، (تحفة الأشراف: 12435)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/415) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1262]
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن ذكر الحديث والاضطجاع قبل ركعتي الصبح شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1119) صحيح مسلم (743)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 24 (1161)، 25 (1162)، 26 (1168)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (743)، سنن الترمذی/الصلاة 197 (418)، (تحفة الأشراف: 17711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/35)، وانظر ما یأتي برقم (1335) (صحیح) (فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیساکہ صحیحین کی روایتوں میں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَه ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَو، غَيْرُهُ، عَن أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي".
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1263]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (1262)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (743)، وفیہ ’’زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب‘‘ بلا شک (تحفة الأشراف: 17707، 17732) (صحیح لغیرہ) (حدیث نمبر 1336 سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ" فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ". قَالَ زِيَادٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے لیے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔ زیاد کی روایت میں «حدثنا أبو الفضل» کے بجائے «حدثنا أبو الفضيل» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1264]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو الفضل الأنصاري مجهول (تقريب التهذيب: 8307) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11703) (ضعیف) (اس کے راوی ابو الفضل انصاری مجہول ہیں)
5: باب إِذَا أَدْرَكَ الإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تو اس وقت نہ پڑھے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " يَا فُلَانُ، أَيَّتُهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا؟".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ۱؎؟۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1265]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ امام کو جس حالت میں بھی پائے اس کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جائے اور اس وقت سنت نہ پڑھے خواہ وہ فجر ہی کی سنت کیوں نہ ہو، اور سنت کی دو رکعت فرض کی نماز کے بعد پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (712)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن النسائی/الإمامة 61 (869)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 103 (1152)، (تحفة الأشراف: 5319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ. ح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ. ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ كُلُّهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1266]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (710)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 9 (710)، سنن الترمذی/الصلاة 196 (421)، سنن النسائی/الإمامة 60 (866)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 103 (1151)، (تحفة الأشراف: 14228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331، 352، 455، 517، 531)، دي /الصلاة 149 (1488،1491) (صحیح)
6: باب مَنْ فَاتَتْهُ مَتَى يَقْضِيهَا
باب: جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، " فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہی رکعت ہے، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1267]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (1044) ¤ صححه ابن خزيمة (1116) وابن حبان (624) تصحيح الحديث يدل عليٰ أن سعيد بن قيس سمع من أبيه وزعم ابن عبد البر خلافه ولكن قوله مرجوح في مقابلة ابن خزيمة وابن حبان والحاكم وغيرهم۔ والله أعلم
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 197 (422)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 104(1154)، (تحفة الأشراف: 11102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/447) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1268]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره وقوله جدهم زيدا خطأ والصواب جدهم قيس
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (1267)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11102) (صحیح) (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے)
7: باب الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا
باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرُمَ عَلَى النَّارِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1269]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1167) ¤ أخرجه النسائي (1816) وللحديث طرق عند الترمذي (427، 428) والنسائي (1813) وابن ماجه (1160) وغيرھم ¤
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1815)، (تحفة الأشراف: 15863)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 1 20 (427)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 108 (1160)، مسند احمد (6/326) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ مِنْجَابَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ: لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: ابْنُ مِنْجَابٍ هُوَ سَهْمٌ.
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1270]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (1157) مختصرًا بإختلاف في السند ¤ عبيدة بن معتب ضعيف كما قال أبو داود وقال ابن حجر في التقريب (4416):”ضعيف واختلط بأخرة“ إلخ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53 ¤
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 105 (1157)، سنن الترمذی/ الشمائل (293، 2494)، (تحفة الأشراف: 3485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/416، 417، 420) (ضعیف) (اس کے راوی عبیدہ بن متعب ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألباني 125).
8: باب الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے پہلے نفل پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1271]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عام نفل نماز میں سے ہے، اس کا شمار سنن رواتب میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1170) ¤ أخرجه الترمذي (430 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1193 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 2 20 (430)، (تحفة الأشراف: 7454)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/117) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1272]
💡 وضاحت:
۱؎: ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل پڑھتے تھے، لیکن تشہد کے ذریعہ فصل کرتے تھے اور سلام ایک ہی ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن بلفظ أربع ركعات
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1172) ¤ صححه النووي في رياض الصالحين (1121 بتحقيقي) ولم أر لمضعفه حجةً قويةً
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10140) (حسن) (لكن بلفظ: ’’أربع ركعات‘‘ كما عند الترمذي في الصلاة 202)
9: باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
باب: عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْهُمَا"، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1273]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1233) صحيح مسلم (834) ¤
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/السھو 8 (1233)، المغازي 69 (4370)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (834)، (تحفة الأشراف: 17571، 18207)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت 35 (580)، مسند احمد (6/309)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1476) (صحیح)
10: باب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً
باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ علِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1274]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه النسائي (574 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1284 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المواقیت 36 (574)، (تحفة الأشراف: 10310)، وقد أخرجہ: (1/80، 81) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي إِثْرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1275]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی نماز سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن و ھو مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/124) (ضعیف) (ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ ان میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/حدیث: 1276]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (581) صحيح مسلم (826)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت30 (581)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (826)، سنن الترمذی/الصلاة 20 (183)، سنن النسائی/المواقیت 32 (563)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 147 (1250)، (تحفة الأشراف: 10492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 18، 20، 21، 39)، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1473) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِيسَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّهُ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ". وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، إِلَّا أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لَا أُرِيدُهُ، فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ.
عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک (ثواب) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر (سورج کے پجاری) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور (ثواب) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1277]
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون جملة جوف الليل
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه الترمذي (3579 وسنده صحيح) وأصله في صحيح مسلم (832)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدعوات 119 (3579)، (تحفة الأشراف: 10758)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 52 (832)، سنن النسائی/المواقیت 39 (585)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 182 (1364)، مسند احمد (4/111، 114) (صحیح) دون قوله: ’’جوف الليل‘‘ ( جوف اللیل کا لفظ ثابت نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: "لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/حدیث: 1278]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (419) ابن ماجه (235) ¤ ابن الحصين مجهول (تق: 5823) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة،ويغني عنه حديث مسلم (723) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 194 (419)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 18(235)، (تحفة الأشراف: 8570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/23، 57، 104) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، وَمَسْرُوقٍ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ".
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1279]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ وہی دو رکعتیں ہیں جن کا بیان حدیث نمبر (۱۲۷۳) میں گزرا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پڑھنا اپنا معمول بنا لیا تھا، یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (593) صحيح مسلم (835)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت 33 (593)، والحج 74 (1633)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (835)، سنن النسائی/المواقیت 35 (577)، (تحفة الأشراف: 1756، 16028)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/134، 176)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1474) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيَنْهَى عَنْهَا، وَيُوَاصِلُ وَيَنْهَى عَنِ الْوِصَالِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خود تو) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور (دوسروں کو) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور (دوسروں کو) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1280]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16079) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت ہے)
11: باب الصَّلاَةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: " صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ" خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً.
عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو (راتب) سنت نہ بنا لیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1281]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنا مسنون ہے، یہی راجح اور قوی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (563)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 35 (1183)، والاعتصام 27 (7368)، (تحفة الأشراف: 9660)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/55) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَرَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " نَعَمْ رَآنَا" فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1282]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (836)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 55 (836)، (تحفة الأشراف: 1576) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ۱؎ کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/حدیث: 1283]
💡 وضاحت:
۱؎: دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (624) صحيح مسلم (838)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185)، سنن النسائی/الأذان 39 (682)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 110 (1162)، (تحفة الأشراف: 9658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/54، 56، 57)، سنن الدارمی/الصلاة 145(1480) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ هُوَ شُعَيْبٌ يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابوشعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1284]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7104) (ضعیف) (صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جا سکتا)
12: باب صَلاَةِ الضُّحَى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمَعْنَى، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُهُ عَلَى مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُهُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَبُضْعَةُ أَهْلِهِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْأَمْرَ وَالنَّهْيَ، زَادَ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ: كَذَا وَكَذَا، وَزَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يَقْضِي شَهْوَتَهُ وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَهَا فِي غَيْرِ حِلِّهَا أَلَمْ يَكُنْ يَأْثَمُ؟".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: (کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ۲؎؟۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/حدیث: 1285]
💡 وضاحت:
۱؎: نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعدادکے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ تک کا ذکر ہے اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے، اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے، لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵) اکثر علما کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
۲؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہگار ہو گا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث الآتي (1286، 5243)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 13 (720)، (تحفة الأشراف: 11928)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/167، 168) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، فَلَهُ بِكُلِّ صَلَاةٍ صَدَقَةٌ، وَصِيَامٍ صَدَقَةٌ، وَحَجٍّ صَدَقَةٌ، وَتَسْبِيحٍ صَدَقَةٌ، وَتَكْبِيرٍ صَدَقَةٌ، وَتَحْمِيدٍ صَدَقَةٌ، فَعَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ، ثُمَّ قَالَ: " يُجْزِئُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَا الضُّحَى".
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/حدیث: 1286]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (720)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11928) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ".
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1287]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زبان: شيخ صالح زاهد،ضعيف من جهة حفظه وتكلموا في حديثه عن سهل بن معاذ أيضًا وقال ابن حجر في التقريب (1985): ”زبان ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته“ و قال الھيثمي: ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 105/10) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (ضعیف) (اس کے راوی زبَّان ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1288]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ انظر الحديث السابق (558)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/263) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ أَبِي شَجَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَا تُعْجِزْنِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ".
نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ۱؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1289]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء نے ان رکعتوں کو نماز الضحیٰ پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1314) ¤ وللحديث شاھد عند أحمد (4/201، 153 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابوداود، سنن النسائی/ الکبری الصلاة 60 (466، 467)، (تحفة الأشراف: 11653)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/286، 287)، سنن الدارمی/الصلاة 150 (1492) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ" صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى" فَذَكَرَ مِثْلَهُ. قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى بِمَعْنَاهُ".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1290]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (1323 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند البخاري (280)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1323)، (تحفة الأشراف: 18010) (ضعیف) (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1291]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1103) صحيح مسلم (336 بعد ح 719)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 12 (1103)، والتھجد 31 (1176)، والجزیة 9 (3171)، والغازي 50 (4292)، والآدب 94 (6151)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (474)، سنن النسائی/الطہارة 143 (226)، (تحفة الأشراف: 18007)، وقد أخرجہ: الحیض 16 (336)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 187 (1323)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (28)، مسند احمد (6/341، 342، 343، 423)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1493) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1292]
💡 وضاحت:
۱؎: سورۃ الحجرات سے سورۃ الناس تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م الشطر الأول منه
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (717)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن النسائی/الصیام 19 (2187)، (تحفة الأشراف: 16211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 204، 218) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1293]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1128) صحيح مسلم (718)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 5 (1128)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (718)، (تحفة الأشراف: 16590)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (29)، مسند احمد (6/85، 86، 167، 169، 223)، سنن الدارمی/الصلاة 152 (149) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا" فَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1294]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (670)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 52 (670)، والفضائل 17 (2322)، سنن النسائی/السھو 99 (1359، 1358)، (تحفة الأشراف: 2155)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 295 (585)، مسند احمد (5/91، 97، 100، 01 1، 105، 107) (صحیح)
13: باب فِي صَلاَةِ النَّهَارِ
باب: دن کی نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1295]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه الترمذي (597 وسنده حسن) وللحديث شواھد، انظر الموطأ (260 بتحقيقي)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 301 (597)، سنن النسائی/قیام اللیل 24 (1667)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/26، 51)، سنن الدارمی/ الصلاة 155(1500) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ". سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا.
مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1296]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (1325) ¤ عبد اللّٰه بن نافع بن العمياء ضعفه البخاري والجمهور وضعفه راجح ¤ وقال ابن حجر: مجهول (تقريب التهذيب:3658) ¤ وفي سماعه من عبد اللّٰه بن الحارث نظر ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1325)، (تحفة الأشراف: 11288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/167) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں)
14: باب صَلاَةِ التَّسْبِيحِ
باب: نماز التسبیح کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: " يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ «سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1297]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1328) ¤ أخرجه ابن ماجه (1387 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 190 (1387)، (تحفة الأشراف: 6038) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ" حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ: " إِذَا زَالَ النَّهَارُ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: " ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ؟ قَالَ: " صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ: حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » (تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1298]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عمرو بن مالك النكري يحدث عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة،قاله ابن عدي في الكامل (401/1،نسخة أخري: 108/2) ¤ والحديث الآتي (الأصل: 1299) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54 ¤
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8606) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِجَعْفَرٍ: بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1299]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ الأنصاري ھو جابر بن عبد الله كما في تھذيب الكمال (22/187) وانظر الحديث السابق
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2394، 15636) (صحیح)
15: باب رَكْعَتَىِ الْمَغْرِبِ أَيْنَ تُصَلَّيَانِ
باب: مغرب کی دو رکعت سنت کہاں پڑھی جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: " هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1300]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1182) ¤ أخرجه الترمذي (604 وسنده حسن) والنسائي (1601 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1201 وسنده حسن) إسحاق بن كعب بن عجرة: حسن الحديث علي الراجح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 307 (الجمعة 71) (604)، سنن النسائی/قیام اللیل 1 (1601)، (تحفة الأشراف: 11107) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ مِثْلَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے (یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1301]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1183) ¤ الحسين بن عبد الرحمٰن ابو علي الجرجرائي: ذكره ابن حبان في الثقات وروي له الضياء المقدسي في المختارة وقال الذھبي: ’’وكان ثقة‘‘، وجعفر بن أبي المغيرة عن سعيد بن جبير: حسن الحديث ولا عبرة لقول ابن مندة فيه نقله مغلطائي عنه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5468، 18677) (ضعیف) (اس کے راوی یعقوب بن عبد اللہ قمی اور جعفر دونوں میں کلام ہے، نیز ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: كُلُّ شَيْءٍ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے «جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1302]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (1301) وقول يعقوب لايثبت عنه، محمد بن حميد ضعيف
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5468، 18677) (ضعیف)
16: باب الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعِشَاءِ
باب: عشاء کے بعد کی سنتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ، وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ".
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں (اب بھی) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1303]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مقاتل بن بشير مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال الذھبي: لا يعرف(ميزان الإعتدال 4/ 171) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54 ¤
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 16143)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/58) (ضعیف) (اس کے راوی مقاتل لین الحدیث ہیں)
← پچھلی کتاب #9 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #11 →