سنن أبي داود حدیث نمبر: 1268
Sunan Abi Dawud 1268
کتاب #5: کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
6: باب مَنْ فَاتَتْهُ مَتَى يَقْضِيهَا
باب: جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1268]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره وقوله جدهم زيدا خطأ والصواب جدهم قيس
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (1267)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11102) (صحیح) (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے)