سنن أبي داود حدیث نمبر: 1290
Sunan Abi Dawud 1290
کتاب #5: کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
12: باب صَلاَةِ الضُّحَى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ" صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُدُ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى" فَذَكَرَ مِثْلَهُ. قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى بِمَعْنَاهُ".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1290]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (1323 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند البخاري (280)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1323)، (تحفة الأشراف: 18010) (ضعیف) (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث)