سنن أبي داود حدیث نمبر: 1292
Sunan Abi Dawud 1292
کتاب #5: کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
12: باب صَلاَةِ الضُّحَى
باب: نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1292]
💡 وضاحت:
۱؎: ”سورۃ الحجرات“ سے ”سورۃ الناس“ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح م الشطر الأول منه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (717)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن النسائی/الصیام 19 (2187)، (تحفة الأشراف: 16211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 204، 218) (صحیح)