سنن أبي داود حدیث نمبر: 1275
Sunan Abi Dawud 1275
کتاب #5: کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام و مسائل
10: باب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً
باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي إِثْرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1275]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی نماز سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن و ھو مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/124) (ضعیف) (ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)