كِتَاب الصَّلَاةِ
نماز کے احکام و مسائل
کتاب #5 • کل احادیث: 324
|
1: باب بَدْءِ الأَذَانِ:
باب: اذان کی ابتداء۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌمَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ، حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، يَجْتَمِعُونَ، فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ ".
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے اوقات کا انتظار کرتے ، کوئی اس کا اعلان نہیں کرتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا : عیسائیوں کے گھنٹے کے مانند ایک گھنٹا لے لو اور بعض نے کہا : یہود کے قرنا جیسا قرنا ، البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ایک آدمی ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو ۔ ‘ ‘
|
|
|
2: باب الأَمْرِ بِشَفْعِ الأَذَانِ وَإِيتَارِ الإِقَامَةِ:
باب: اذان کے کلمات دو دو مرتبہ، اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ، سوائے اقامت کے کلمہ کے وہ دو مرتبہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ بِلَالٌ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ "، زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ، فَقَالَ: " إِلَّا الإِقَامَةَ ".
خلف بن ہشام نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، ان دونوں ( حماد اور یحییٰ ) نے خالد حذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہرائیں اور اقامت اکہری کہیں ۔ یحییٰ نے ابن علیہ سے ( بیان کردہ ) اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : میں ( اسماعیل ) نے یہ روایت ایوب کو سنائی تو انہوں نے کہا : ( اذان دہرائیں ) اقامت کے سوا
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ، بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ".
عبد الوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( صحابہ ) نے ( اس پر ) بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس ( گھنٹی ) بجائیں ، پھر ( آخر کار ) بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا، أَنْ يُعْلِمُوا بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَنْ يُورُوا نَارًا.
۔ وہیب نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے گفتگو کی کہ وہ علامت مقرر کریں .... آگے ( عبد الوہاب ) ثقفی کی حدیث کے مانند ہے ، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس ( وہیب ) نے ( ينوروا نارا ’’آگ روشن کریں ‘ ‘ کی جگہ ) يوروا نارا ’’آگ جلائیں ‘ ‘ کہا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ بِلَالٌ، أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ، وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ ".
۔ ایوب نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ دہری اذان اور اکہری قامت کہیں ۔
|
|
|
3: باب صِفَةِ الأَذَانِ:
باب: اذان کا طریقہ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، وَقَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، وحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلى اللَّه عليُه وسلم عَلَّمَهُ هَذَا الأَذَانَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَعُودُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، زَادَ إِسْحَاق اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ".
۔ ابو غسان مسمعی اور اسحاق بن ابراہیم نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابو غسان نے کہا : ہمیں معاذ نے حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا : ہمیں دستوائی ( کپڑے ) والے ہشام کے بیٹے معاذ نے خبر دی ، انہوں ( معاذ ) نے کہا : مجھے میرے والد نے عامر احول سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے انہیں یہ اذان سکھائی : الله أكبر الله أكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، پھر دو بار کہے : أشهد أن لا إله إلا الله ، پھر دو بار ، أشهد أن محمدا رسول الله ، دو بار حی على الصلوٰة دو بار حي على الفلاح دوبار ۔ اسحاق نے یہ اضافہ کیا : الله أكبر الله أكبر ، لا إله إلا الله
|
|
|
4: باب اسْتِحْبَابِ اتِّخَاذِ مُؤَذِّنَيْنِ لِلْمَسْجِدِ الْوَاحِدِ:
باب: ایک مسجد میں دو مؤذن رکھنے کا استحباب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے دو مؤذن تھے ، بلال اور نابینا ابن ام مکتومؓ ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مِثْلَهُ.
حضرت عائشہؓ سے بھی اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے ۔
|
|
|
5: باب جَوَازِ أَذَانِ الأَعْمَى إِذَا كَانَ مَعَهُ بَصِيرٌ:
باب: نابینا آدمی کے ساتھ جب کوئی بینا آدمی ہو تو نابینا کی اذان کے جواز کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى "،
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابن ام مکتوم رسول اللہﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
۔ یحییٰ بن عبد اللہ اور سعید بن عبد الرحمن نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اس ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند حدیث بیان کی
|
|
|
6: باب الإِمْسَاكِ عَنِ الإِغَارَةِ عَلَى قَوْمٍ فِي دَارِ الْكُفْرِ إِذَا سُمِعَ فِيهِمُ الأَذَانُ:
باب: دارالکفر میں کسی قوم کے علاقہ میں جب اذان کی آواز سنی جائے تو اس قوم پر حملہ کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا، أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَسَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى الْفِطْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ( دشمن پر ) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے ، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا : الله أكبر الله أكبر تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’فطرت ( اسلام ) پر ہے ۔ ‘ ‘ پھر اس نے کہا : أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تو آگ سے نکل گیا ۔ ‘ ‘ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔
|
|
|
7: باب اسْتِحْبَابِ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ لَهُ الْوَسِيلَةَ:
باب: اذن سننے والے کے لئے اسی طرح کہنا چاہیے جس طرح مؤذن نے کہا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وسیلہ کی دعا کرنے کا استحباب۔
|
|
|
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہتا ہے اسی کی طرح کہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ وغيرهما، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : " أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ ".
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘
|
|
|
حدثني إسحاق بن منصور أخبرنا أبو جعفر محمد بن جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن الله أكبر ، الله أكبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک الله أكبر الله أكبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) الله أكبر الله أكبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ "، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ: وَأَنَا.
۔ محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید کی دو الگ الگ سندوں سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘ ‘ وأن محمدا عبده ورسوله ’’اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘ رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا ’’ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ۔ ‘ ‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا : جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : وأنا أشهد اور قتیبہ نے وأنا کا لفظ بیان نہیں ۔
|
|
|
8: باب فَضْلِ الأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ:
باب: اذان کی فضیلت اور اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کا بیان۔
|
|
|
حدیث #852
📖 صحيح مسلم باب:4 حدیث نمبر : 16
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ ( بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے اور انہوں نے اپنے چچا ( عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا ۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : قیامت کے دن مؤذن ، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
سفیان نے طلحہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے ( اپنے چچا ) عیسیٰ بن طلحہ سے روایت کی ، کہا : میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : .......... ( آگے ) سابقہ روایت کی مانند ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ "، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ؟ فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ، سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا،
۔ جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار ( اذان ) سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
۔ ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ، إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَكَتَ، رَجَعَ فَوَسْوَسَ، فَإِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ، ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ ".
۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شیطان جب نماز کے لیے پکار ( کی آواز ) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور ( نمازیوں کے دلوں میں ) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے ، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے ، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور ( لوگوں کے دلوں میں ) وسوسہ ڈالتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ ".
خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح السمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ، قَالَ: وَمَعِي غُلَامٌ لَنَا، أَوْ صَاحِبٌ لَنَا، فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ، قَالَ: وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي عَلَى الْحَائِطِ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي، فَقَالَ: لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَ هَذَا، لَمْ أُرْسِلْكَ، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا، فَنَادِ بِالصَّلَاةِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ، إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ ".
روح نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے ساتھ ہمارا ایک لڑکا ( خادم یا ہمارا ایک ساتھی بھی تھا ) اس کو کسی آواز دینے والے نے باغ سے اس کا نام لے کر آواز دی ۔ کہا : جو ( لڑکا ) میرے ساتھ تھا اس نے باغ کے اندر جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، چنانچہ میں نے یہ ( واقعہ ) اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے کہا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس واقعے سے دوچار ہو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن ( آئندہ ) تم اگر کوئی آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا، وَاذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى "،
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ بلاشبہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیچھا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے ، چنانچہ جب اذان پوری کر دی جاتی ہے تو آ جاتا ہے حتیٰ کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے ۔ اسے کہتا ہے : فلاں چیز کو یاد کرو ، فلاں چیز کو یاد کرو ، وہ چیزیں جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں ، یہاں تک کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا اس نے کتنی نماز پڑھی ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى ".
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے ( ما يدري كم صلى کے بجائے ) إن يدري كيف صلى ’’وہ نہیں جانتا کیسے نماز پڑھی ‘ ‘ کہا ۔
|
|
|
9: باب اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الإِحْرَامِ وَالرُّكُوعِ وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ وَأَنَّهُ لاَ يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ:
باب: تکبیر تحریمہ کے ساتھ رکوع میں اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کندھوں تک رفع الیدین کرنے کا استحباب، اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، كلهم عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَقَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُهُمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ".
۔ سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمرؓ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا : جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے اور رکوع سے پہلے اور ( اس وقت بھی ) جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ آپ دو سجدوں کے درمیان انہیں نہ اٹھاتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ "،
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے توایسا نہ کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُكِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ، رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ.
عقیل اور یونس دونوں نے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن جریج نے کی کہ جب رسول اللہﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ، پھر تکبیر کرہے ۔ ( انہوں نے بحذو منكبيه کے بجائے حذو منكبيه کہا ، دونوں کا مفہوم ایک ہے ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ : " إِذَا صَلَّى، كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَ يَدَيْهِ "، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَفْعَلُ هَكَذَا.
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، جب وہ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہت پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا كَبَّرَ، رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، رَفَعَ يَدَيْهِ، حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ "، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ.
۔ ابوعوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے نصر بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے اور ایسا ہی کرتے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ.
قتادہ سے ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے باقی ماندہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ) نے اللہ کے نبیﷺ کو دیکھا اور ( سعید نے ) کہا : یہاں تک کہ دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے کناروں کے سامنے لے جاتے ۔
|
|
|
10: باب إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ فِي الصَّلاَةِ إِلاَّ رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ فِيهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ:
باب: نماز میں ہر دفعہ اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر پڑھنے کا ثبوت سوائے رکوع سے اٹھتے وقت، اس وقت «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، " كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور ( سر اور جسم کو اوپر ) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو کہا : اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا، حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْمَثْنَى بَعْدَ الْجُلُوسِ "، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابن شہاب نے ابو بکر بن عبد الرحمن سے روایت بیان کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر جب رکوع سے کمر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے ، پھر قیام کی حالت میں ربنا ولك الحمد کہتے ، پھر جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے ، پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، پھر ( دوسرا ) سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے ، پھر جب ( سجدے سے ) اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، آپ پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کر لیتے اور جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( اس وقت بھی ) تکبیر کہے ۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے : میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ کے ساتھ زیادہ مشابہ ہوں ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے ...... آگے ابن جریج کی حدیث کی طرح ہے اور ( عقیل نے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہ ہوں ، بیان نہیں کیا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ حِينَ يَسْتَخْلِفُهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ، إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِهِ، فَإِذَا قَضَاهَا وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
۔ یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب مروان مدینہ میں اپنا نائب بنا کر جاتا تو جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، تکبیر کہتے ....... اس کے بعد ( یونس نے ) ابن جریج کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ ان ( یونس ) کی حدیث میں ( یہ اضافہ ) ہے کہ جب وہ نماز پوری کر لیتے اور سلام پھیرتے تو مسجد والوں کی طرف منہ کرتے ( اور ) کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسو ل اللہﷺ کے مشابہ ہوں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ : " كَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاةِ، كُلَّمَا رَفَعَ، وَوَضَعَ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا التَّكْبِيرُ؟ قَالَ: إِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں جب بھی ( سر ) اٹھاتے اور جھکاتے ، تکبیر کہتے ، اس پر ہم نے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ تکبیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا : یقیناً یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ، كُلَّمَا خَفَضَ، وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ".
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ جب بھی ( نماز میں سر ) جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور بتاتے کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا، صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوَ قَالَ: قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا، صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
۔ مطرف سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھی ۔ جب وہ سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر کہا : انہوں نے ہمیں محمدﷺ کی نماز پڑھائی ہے یا کہا : انہوں نے مجھے محمدﷺ کی نماز یاد دلا دی ہے ۔
|
|
|
11: باب وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ وَلاَ أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا:
باب: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا وجوب، اور جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو، اس کے لیے قرآن میں اس کے علاوہ جو آسان ہو اس کوپڑھنے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، يَبْلُغُ بِهِا لنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے ، انہوں نے محمود بن ربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس بات کی نسبت نبیﷺ کی طرف کرتے تھے ( کہ آپﷺ نے فرمایا : ) ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ الکتاب نہ پڑھی ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القریٰ ( فاتحہ ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ ، الَّذِي مَجّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ".
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے ، جن کے چہرے پر رسول اللہﷺ نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا ، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا رضی اللہ عنہ ’’جس نے ام القریٰ کی قراءت نہ کی ، اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ، فَصَاعِدًا.
۔ زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور یہ اضافہ کیا : ’’ ( فاتحہ ) اور اس کے بعد ( قرآن کا کچھ حصہ ۔ ) ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنَاه وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً، لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ، فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَقَالَ: مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ {6} صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ {7} سورة الفاتحة آية 6-7، قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ "، قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ.
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی ۔ اور جب وہ کہتا ہے : ﴿الرحمن الرحيم﴾ ’’سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا ۔ ‘ ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿ مالك يوم الدين﴾ ’’جزا کے دن کا مالک ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے ( اپنے معاملات ) میرے سپرد کر دیے ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾ ’’ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ ( حصہ ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے اور جب وہ کہتا ہے : ﴿إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ ’’ہمیں راہ راست دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی ہو اور نہ گمراہوں کی ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا ۔ سفیان نے کہا : مجھے یہ روایت علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے سنائی ، میں ان کے پاس گیا ، وہ گھر میں بیمار تھے ۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا ( تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مالک بن انس نے علاء بن عبد الرحمان سے روایت کی ، انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جس طرح پچھلی روایت ہے ۔)
|
|
|
ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي.
ابن جریج نے بتایا کہ ہمیں علاء بن عبد الرحمان نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد اللہ بن ہشام بن زہرہ کے بیٹوں کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی ‘ ‘ ... آگے سفیان کی حدیث کے مانند ہے اور ( مالک بن انس اور ابن جریج ) دونوں کی روایت میں ہے : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے ، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حدیث #881
📖 صحيح مسلم باب:0 حدیث نمبر : 0
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي ، وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ ، وَكَانَا جَلِيسَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً، لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا "، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
و اویس نے کہا : مجھے علاء نے خبر دی ، کہا : میں نے اپنے والد سے اور ابو سائب سے سنا ، وہ دونوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے ، ان دونوں نے کہا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی نماز ادا کی اور اس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی تو وہ ( نماز ) ادھوری ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے تین دفعہ یہ جملہ فرمایا .... آگے مذکورہ بالا اساتذہ ( مالک ، سفیان ، ابن جریج ) کی حدیث کی طرح ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ، وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ ".
حبیب بن شہید سے روایت ہے ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جو ( نماز ) رسول اللہﷺ نے ہمارے لیے اونچی قراءت سے ادا کی ہم نے بھی تمہارے لیے وہ اونچی قراءت سے ادا کی اور جس ( نماز ) میں آپ نے ( قراءت کو ) مخفی رکھا ، ہم نے بھی اسے تمہارے لیے مخفی رکھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فِي كُلِّ الصَّلَاةِ يَقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا، أَجْزَأَتْ عَنْكَ ".
۔ ابن جریج نے عطا سے خبر دی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ( نماز پڑھنے والا ) پوری نماز میں ( ہر رکعت میں ) قراءت کرے ۔ رسول اللہﷺ نے جو ( قراءت ) ہمیں ( بلند آواز سے ) سنائی ، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آ پ نے ہم سے ( آواز آہستہ کر کے ) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا ۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا : اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس ( فاتحہ ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ، وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ ".
۔ حبیب معلم سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہر نماز میں قراءت ہے ۔ تو جو ( قراءت ) نبی ﷺ نے ہمیں سنائی ہم نے تمہیں سنائی اور جو انہوں نے ہم سے پوشیدہ رکھی ، ہم نے وہ تم سے پوشیدہ رکھی اور جس نے ام الکتاب پڑھ لی تو اس کے لیے وہ کافی ہے اور جس نے ( اس سے ) زائد پڑھا تو وہ بہتر ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ، صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي، قَالَ: إِذَ قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ".
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا : ’’ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پرھی ۔ “ تو اس نے واپس ہو کر پہلے کی طرح نماز پڑھی اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے وعلیکم السلام کہتے ہوئے فرمایا : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز ادا نہیں کی ۔ “ چنانچہ اسی طرح وہ نماز پڑھتا اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کرتا ۔ اور آپ ﷺ یہی فرماتے : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے ادا نہیں کی ۔ “ آخر اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو برحق بنایا ہے ، میں اس سے زیادہ اچھے طریقے کے علاوہ مزید کسی چیز سے ناوقف ہوں ۔ براہ کرم آپ ہی مجھے بتا دیجئے ؟ تو ارشاد ہوا : ” تم جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے اللہ اکبر کہو اور پھر جتنا قرآن کریم تم باآسانی پڑھ سکتے ہو وہ پڑھو اس کے بعد رکوع کرو اور پھر بہ آرام بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اس کے بعد بہ اطمینان سجدہ کرو اور پھر بہ اطمینان قعدہ میں بیٹھو اور اسی طرح اپنی پوری نماز میں کیا کرو ۔ “
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ، وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَزَادَا فِيهِ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ ".
ابو اسامہ او رعبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی ، رسول اللہﷺ ایک جانب ( تشریف فرما ) تھے ...... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور ( حدیث کے حصے ) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا : ’’ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلے کی طرف رخ کرو ، پھر تکبیر کہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
12: باب نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ:
باب: امام کے پیچھے مقتدی کا بلند آواز سے قرأت کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي، ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ".
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " أَيُّكُمْ قَرَأَ "، أَوْ " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ".
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا ، وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی شروع کر دی ۔ جب آپﷺ نے اسلام پھیرا تو فرمایا : ’’تم میں سے کس نے پڑھا ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، وَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا ".
۔ قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
|
|
|
13: باب حُجَّةِ مَنْ قَالَ لاَ يَجْهَرُ بِالْبَسْمَلَةِ:
باب: بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنے والوں کی دلیل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ كِلَاهُمَا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ".
ہم سے محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ، میں نے ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیں سنا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَنَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ.
محمد بن ( جعفر کے بجائے ) ابو داؤد نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی اور یہ اضافہ کیا کہ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ، کہا : ہاں ، ہم نے سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تبارك اسمك وتعالى جدك، ولا إله غيرك، وعن قتادة : أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ، وَلَا فِي آخِرِهَا ".
وزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے : سبحانك اللهم! وبحمدك ، تبارك اسمك وتعالى جدك ، ولا إله غيرك ’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت وشان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ‘ ‘ ( نیز اوزاعی ہی کی ) قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ( اپنی ) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان ( اوزاعی ) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں نے ( انس رضی اللہ عنہ ) نے قتادہ کو حدیث سنائی ، کہا : میں نے نبیﷺ ، ابو بکر ، عمر اورعثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، وہ ( نماز کا ) آغاز الحمد لله رب العالمين سے کرتے تھے ، وہ بسم الله الرحمن الرحيم ( بلند آواز سے ) نہیں کہتے تھے ، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی ( دوسری سورت کے آغاز پر)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ ذَلِكَ.
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سنا ، وہ یہی ( سابقہ ) حدیث بیان کرتے تھے ۔
|
|
|
14: باب حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةَ:
باب: سورة براءت کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کی پہلی آیت کہنے والوں کی دلیل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ {1} فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ {2} إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ {3} سورة الكوثر آية 1-3"، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ، وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ؟، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ؟
علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ( الفاظ انہی کے ہیں ) علی بن مسہر سے روایت کی ، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا : ’’ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے پڑھا : ﴿ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ: آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ.
ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، ( آگے ) جس طرح ابن مسہر کی حدیث ہے ، البتہ انہوں ( ابن فضیل ) نے یہ الفاظ کہے : ’’ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور اس پر ایک حوض ہے ۔ ‘ ‘ اور یہ نہیں کہا : ’’ اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
15: باب وَضْعِ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الإِحْرَامِ تَحْتَ صَدْرِهِ فَوْقَ سُرَّتِهِ وَوَضْعِهِمَا فِي السُّجُودِ عَلَى الأَرْضِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ:
باب: تکبیر تحریمہ کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینہ سے نیچے ناف سے اوپر رکھنے اور سجدہ زمین پر دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے درمیان رکھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلًى لهم ، أنهما حدثاه، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ، وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ، سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ ".
ہمام نے کہا : ہمیں محمد بن جحادہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عبد الجبار بن وائل نے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل اور ان کے آزادہ کردہ غلام سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان کے والد حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا ، آپ نے نماز میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، تکبیر کہی ( ہمام نے بیان کیا : کانوں کے برابر بلند کیے ) پھر اپنا کپڑا اوڑھ لیا ( دونوں ہاتھ کپڑے کے اندر لے گئے ) ، پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر انہیں بلند کیا ، پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا ، پھر جب سمع الله لمن حمده کہا تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔
|
|
|
16: باب التَّشَهُّدِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں تشہد کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قَالَهَا، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ "،
۔ جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے : اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ ( بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو ۔ ) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے ، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں ( بھی اسی کےلیے ہیں ) ، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ جب کوئی شخص یہ ( دعائیہ ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے ۔ ( پھر کہے : ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں ، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ،
(جریر کے بجائے ) شعبہ نے منصور سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور انہوں ( شعبہ ) نے ’’پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ‘ ‘ ( کے کلمات ) بیان نہیں کیے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ، ثُمَّ ليَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ المَسْأَلَةِ، مَا شَاءَ أَوْ مَا أَحَبَّ،
منصور کے ایک اور شاگرد زائدہ نے ان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( جریر اور شعبہ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، لیکن آخری کلمات میں ماشاء ( جو چاہے ) کی جگہ ما أحب ( جو پسند کرے ) کے الفاظ کہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، وَقَالَ: ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ،
اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب ہم نماز میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے .... ( آگے ) منصور کی حدیث کی طرح ( ہے ) اور کہا : ’’ اس کے بعد دعا کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ، كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَاقْتَصَّ التَّشَهُّدَ بِمِثْلِ مَا اقْتَصُّوا.
۔ عبد اللہ بن سخبرہ نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے مجھے تشہد سکھایا ، میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی ، ( بالکل اسی طرح ) جیسے آپ مجھے قرآنی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور انہوں نے ( ابن سخبرہ ) نے تشہد اسی طرح بیان کیا جس طرح سابقہ راویوں نے بیان کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ.
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
عبد الرحمن بن حمید نے کہا : مجھے ابو زبیر نے طاؤس کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلَاةً، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ثُمّ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا، قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ، فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لَيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذْ قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللَّهُ، فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ، فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ، فَكَبِّرُوا، وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ، الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "،
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک نماز پڑھی ، جب وہ قعدہ ( نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے ) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے ، انہوں نے پھر کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا : اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں کہا ، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا ۔ تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو ، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو ( مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانےکی ) یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کا بدل ہو کی ( جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی ) اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لك الحمد کہو ، اللہ تمہاری ( بات ) سنے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کابدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول ( یہ ) ہو : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت ، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کےلیے ہیں ۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَتَادَةَ: مِنَ الزِّيَادَةِ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: فَإِنَّ اللَّهَ، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ وَحْدَهُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق، قَالَ أَبُو بَكْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ مُسْلِمٌ: تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: هُوَ صَحِيحٌ، يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ، فَقَالَ: لِمَ، لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا؟ قَالَ: لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا، إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ،
ابو اسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی ، ان سب ( ابن ابی عروبہ ، ہشام اور سلیمان ) نے قتادہ سے اسی ( سابقہ ) حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’ جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو ۔ ‘ ‘ اور ابو عوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں : ’’اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : ’’ اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ۔ ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ابو اسحاق نے کہا : ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا : آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابو بکر نے امام مسلم سے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث؟ پھر ( ابو بکر نے ) کہا : وہ صحیح ہے ، یعنی ( یہ اضافہ کہ ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو ۔ امام مسلم نے ( جوابا ) کہا : وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے ۔ تو ابو بکر نے کہا : آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا ( درج کیا ) ؟ ( امام مسلم نے جواباً ) کہا : ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے ، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا ۔ یہاں میں نے صرف ان ( احادیث ) کو رکھا جن ( کی صحت ) پر انہوں ( محدثین ) نے اتفاق کیا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ.
قتادہ کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث روایت کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : ’’چنانچہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فیصلہ کر دیا : ( کہ ) اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ( قال کے بجائے قضى کالفظ روایت کیا ۔)
|
|
|
17: باب الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ:
باب: تشہد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: " أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَى، أَنَّ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ ".
نعیم بن عبد اللہ مجمر سے روایت ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید انصاری نے ( محمد کے والد عبد اللہ بن زید وہی ہیں جن کو نماز کے لیے اذان خواب میں دکھائی گئی تھی ) انہیں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے متعلق بتایا کہ انہوں نے کہا : ہم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، چنانچہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے کہا : اس پر رسول اللہﷺ خاموش ہوگئے حتیٰ کہ ہم نے تمنا کی کہ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا ، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے رحمت فرمائی ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے سب جہانوں میں برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے اور سلام اسی طرح ہے جیسے تم ( پہلے ) جان چکے ہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ، قَالَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حَکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ رسول اللہﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : ہم تو جان چکے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ، ( یہ بتائیں ) ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! محمد اور محمد کی آل پر رحمت فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ، عظمتوں والا ہے ۔ اے اللہ! محمد پر اور محمد کی آل پر برکت نازل فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکت نازل فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ مِسْعَرٍ، أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً.
۔ وکیع نے شعبہ اور مسعر سے اسی سند کے ساتھ حکم سے اسی کی مانند روایت کی اور مسعر کی حدیث میں یہ جملہ نہیں ہے : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَعَنْ مِسْعَرٍ ، وَعَنْ مَالِكِ ابْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَلَمْ يَقُلْ: اللَّهُمَّ.
اسماعیل بن زکریا نے اعمش ، مسعر اور مالک بن مغول سے روایت کی اور ان سب نے حکم سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند روایت کی ، البتہ اسماعیل نے کہا : وبارك على محمد اور ( اس سے پہلے ) اللهم نہیں کہا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ . ح حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".
عمرو بن سلیم نے کہا : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں ( صحابہ ) نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی اور برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ".
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا : جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔
|
|
|
18: باب التَّسْمِيعِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّأْمِينِ:
باب: سمع اللہ لمن حمدہ،ربنا لک الحمد، اور آمین کہنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "،
سمی نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام سمع الله لمن حمده ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ) کہے تو تم کہو : اللهم ، ربنا لك الحمد ( اے اللہ! ہمارے رب! سب تعریف تیرے لیے ہے ) کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُمَيٍّ.
۔ سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے ( مذکورہ بالا راوی ) سمی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أنهما أخبراه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: آمِينَ.
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی ، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ.
۔ ( مالک کے بجائے ) یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ... ( آگے ) مالک کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے ، البتہ یونس نے ابن شہاب کا قول بیان نہیں کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ: آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ، فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
ابو یونس ( سلیم بن جبیر ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور ایک آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ: آمِينَ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک اور شاگرد اعرج کے حوالے سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک شخص آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس شخص کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح حدیث بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَالَ الْقَارِئُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ: آمِينَ، فَوَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب قاری ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ ( بھی ) آمین کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کی کہی ہوئی ( آمین ) کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
19: باب ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالإِمَامِ:
باب: امام کی اقتداء (پیروی) کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وأبو كريب جميعا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُون "،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ، فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ،
۔ ( سفیان کے بجائے ) لیث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا ایک پہلو چھل گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی .... آگے سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَزَادَ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا،
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... پھر ان دونوں حضرات ( سفیان اور لیث ) کی روایت کے مانند روایت کی ، البتہ یونس نے یہ اضافہ کیا : ’’ اور جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكِبَ فَرَسًا، فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَفِيهِ إِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا،
مالک بن انس نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے ، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا .... آگے مذکورہ بالا تینوں راویوں کی طرح روایت کی اور اس میں ( بھی یہ ) ہے : ’’ جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَقَطَ مِنْ فَرَسِهِ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ فِيهِ زِيَادَةُ يُونُسَ، وَمَالِكٍ.
معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... آگے سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اس میں یونس اور مالک والا اضافہ نہیں ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ".
عبدہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا : ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ ( رکوع وسجود سے سر ) اٹھائے تو ( پھر ) تم ( بھی سر ) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
۔ حماد بن زید اور عبد اللہ بن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا، فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ، وَالرُّومِ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ".
۔ لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ كی بیماری میں ہم نے آپ كے پیچھے اس طرح نماز پڑھی كہ آپ نے بیٹھ كر نماز پڑھائی اور حضرت صدیق اكبر رضی اللہ عنہ مكبر كی حیثیت میں تكبیرات كہتے تھے . نماز میں ہمیں كھڑا دیكھ كر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھنے كا حكم دیا تو ہم بیٹھ گئے پھر بعد فراغت نماز ارشاد عالی ہوا تم نے اس وقت وہ كام كیا جیسا كہ فارس اور روم والے اپنے بادشاہ كے سامنے كھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھا رہتا ہے . اب آئندہ ایسا نہ كرنا بلكہ ہمیشہ اپنے امام كی پیروی كرو اگر وہ بیٹھ كر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ كر نماز پڑھو
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ، لِيُسْمِعَنَا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھاے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ ".
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت بیان کی ۔
|
|
|
20: باب النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ:
باب: امام سے تکبیر وغیرہ میں آگے بڑھنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا، يَقُولُ: " لَا تُبَادِرُوا الإِمَامَ، إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ".
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، وَزَادَ: وَلَا تَرْفَعُوا قَبْلَهُ.
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ ، سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الأَرْضِ، قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
ابو علقمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ یقینا امام ایک ڈھال ہے ( تم اس کے پیچھے پیچھے رہو ) ، چنانچہ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو کیونکہ جب زمین والے کا کہا ہوا آسمان والوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّوْا قُعُودًا أَجْمَعُونَ ".
(ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
|
|
|
21: باب اسْتِخْلاَفِ الإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدَرَ عَلَيْهِ وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ:
باب: مرض، سفر یا اور کسی عذر کی وجہ سے امام کا نماز میں کسی کو خلیفہ بنانا، اور اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو، کیونکہ قیام کی طاقت رکھنے والے مقتدی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ "، قُلْنَا: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ " قُلْنَا: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ "، قُلْنَا: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ "، فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ "، فَقُلْنَا: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ، يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، قَالَتْ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، وَقَالَ لَهُمَا: أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: هَاتِ، فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ.
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لابن رافع، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: " أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا، وَأَذِنَّ لَهُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ، وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنَ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ هُوَ عَلِيٌّ.
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی رضی اللہ عنہ تھا
|
|
|
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ عَلِيٌّ.
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي، أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ، رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَإِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرَى، أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ، إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ".
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لابن رافع، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ، أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ".
۔ ( عبید اللہ بن عبد اللہ کے بجائے ) حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ ( بیماری کے دوران میں ) میرے گھر تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ وہ کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر نرم دل انسان ہیں ، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بجائے کسی اور کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم! میرے دل میں اس چیز کو ناپسند کرنے کی اس کے علاوہ اور کوئی بات نہ تھی کہ جو شخص سب سے پہلے آپ کی جگہ کھڑا ہو گا لوگ اسے برا سمجھیں گے ، اس لیے میں نے دو یا تین دفعہ اپنی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں ، بلاشبہ تم یوسف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتیں ہی ہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ، لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَجُلٌ أَسِيفٌ، إِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ، لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَتْ لَهُ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِد، سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ".
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِر، فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ ".
۔ علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ نے وفات پائی ۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ انہیں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا ۔ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے ۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے اور لوگوں کو ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، قَالَ عُرْوَةُ: فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ، وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ، إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ ".
ایک اور سند کے ساتھ ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔ عروہ نے کہا : پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ باہر تشریف لائے ، اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امت کر رہے تھے ۔ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو ۔ رسول اللہﷺ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنِي، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، وحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ، كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ، كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا، قَالَ: فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْخَى السِّتْرَ، قَالَ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ "،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی بیماری دوران ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہﷺ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ نبیﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہﷺ وفات پا گئے
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَحَدِيثُ صَالِحٍ، أَتَمُّ، وَأَشْبَعُ،
سفیان بن عیینہ نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ کی طرف میں نے جو آخری نظر ڈالی ( وہ اس طرح تھی کہ ) سوموار کے دن آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا .... جس طرح اوپر واقعہ ( بیان ہوا ) ہے ۔ ( امام مسلم فرماتے ہیں : ) صالح کی حدیث کامل اور سیر حاصل ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا.
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا .... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: بِالْحِجَابِ، فَرَفَعَهُ فَلَمَّا، وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ، كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ وَضَحَ لَنَا، قَالَ: فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ ".
۔ عبد العزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبیﷺ ( بیماری کے ایام میں ) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے ، ( انہی دنوں میں سے ) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ ( کمرے کے ) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا ، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے ، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے ، جو ہمارے سامنے تھا ، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو ۔ وہ کہتے ہیں : پھر آپﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا ، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَجُلٌ رَقِيقٌ، مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ، لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " مُرِي أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ "، قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ، حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ نرم دل آدمی ہیں ، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( اے عائشہ! ) ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والیوں کی طرح ہو ۔ ‘ ‘ انہوں ( ابو موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا : اس طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ۔
|
|
|
22: باب تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ:
باب: جب امام کے آنے میں دیر ہو اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کا جواز۔
|
|
|
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ، حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ "،
امام مالک نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بنوعمرو بن عوف کے ہاں ، ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تاکہ میں تکبیر کہوں؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ۔ انہوں ( سہل بن سعد ) نے کہا : اس طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جب کہ لوگ نماز میں تھے ، آپ بچ کر گزرتے ہوئے ( پہلی ) صف میں پہنچ کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر لوگوں نے ہاتھوں کو ہاتھوں پر مار کر آواز کرنی شروع کر دی ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے ۔ جب لوگوں نے مسلسل ہاتھوں سے آواز کی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہﷺ کو دیکھا تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں ، اس پر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اس بات کا حکم دیا ، پھر اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ کر صف میں صحیح طرح کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’اے ابو بکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تو اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ ‘ ‘ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہﷺ کے آگے ( کھڑے ہو کر ) جماعت کرائے ، پھر رسول اللہﷺ نے ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا : ’’ کیا ہوا؟ میں نے تم لوگوں کو دیکھا کہ تم بہت تالیاں بجا رہے تھے؟ جب نماز میں تمہیں کوئی ایسی بات پیش آ جائے ( جس پر توجہ دلانا ضروری ہو ) تو سبحان اللہ کہو ، جب کہو سبحان اللہ کہے گا تواس کی طرف توجہ کی جائے گی ، ہاتھ پر ہاتھ مارنا ، صرف عورتوں کےلیے ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ، حَتّى قَامَ فِي الصَّفِّ،
عبد العزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبد الرحمن القادری دونوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے امام مالک کی روایت کی طرح روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے حتیٰ کہ صف میں آ کھڑے ہوئے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: رَجَعَ الْقَهْقَرَى.
عبید اللہ نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے .... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند ( حدیث بیان کی ) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہﷺ آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے ۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جميعا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ، حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: أَحْسَنْتُمْ، أَوَ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ، أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ".
۔ عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غز وہ تبوک میں شریک ہوئے ۔ مغیرہ نے کہا : صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا ۔ جب رسو ل اللہﷺ میر ی طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے ، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازور جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح ( کر کے ) وضو ( مکمل ) کیا ، پھر آپ آگے بڑھے ۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر چکے تھے ، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی ۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی ، چنانچہ جب حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اللہﷺ اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے ، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا ، جب نبیﷺ نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم نے اچھا کیا ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تم نے ٹھیک کیا ۔ ‘ ‘ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ.
اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے ۔ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( آگے ) رہنے دو ۔ ‘ ‘
|
|
|
23: باب تَسْبِيحِ الرَّجُلِ وَتَصْفِيقِ الْمَرْأَةِ إِذَا نَابَهُمَا شيء فِي الصَّلاَةِ:
باب: جب نماز میں کچھ پیش آ جائے (تو امام کو متنبہ کرنے کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورت ہاتھ پر ہاتھ ماریں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ "، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ،
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی ، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتایا ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ ( امام و متنبہ کرنے کا طریقہ ) مردوں کے لیے تسبیح ( سبحان اللہ کہنا ) ہے اور عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے ۔ ‘ ‘ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا ، وہ تسبیح کہتے تھے او ر اشارہ کرتے تھے
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ،
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند روایت بیان کی ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ: فِي الصَّلَاةِ.
ہمام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند روایت بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : ’’نماز میں ( متنبہ کرنے کے لیے ۔ ) ‘ ‘
|
|
|
24: باب الأَمْرِ بِتَحْسِينِ الصَّلاَةِ وَإِتْمَامِهَا وَالْخُشُوعِ فِيهَا:
باب: نماز کو خضوع و خشوع، اور اچھی طرح سے پڑھنے کا حکم۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: يَا فُلَانُ، أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَكَ، أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي، كَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ ".
سعید کے والد ابو سعید مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہﷺ نے ( ہمیں ) نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیرا اور فرمایا : ’’اے فلاں! تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے؟ کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ نہیں دیکھتا ( غور کرتا ) کہ وہ نماز کیسے پڑھتا ہے؟ وہ اپنے ہی لیے نماز پڑھتا ہے ( کسی دوسرے کےلیے نہیں ۔ ) اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہون جس طرح سامنے دیکھتا ہوں
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ رُكُوعُكُمْ وَلَا سُجُودُكُمْ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي ".
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رخ ادھر ( سامنے ) ہی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور نہ تمہارا سجدہ ، یقینا میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقِيمُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي، وَرُبَّمَا قَالَ: مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ ".
۔ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ پوری طرح کیا کرو ، اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے ( بھی ) دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( بلکہ ) غالباً آپ نے اس طرح فرمایا : ’’ جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي، إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ "، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ: إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ.
قتادہ سے ( شعبہ کے بجائے دستوائی والے ) ہشام اور سعید نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ کو مکمل کرو ، اللہ کی قسم! جب بھی تم رکوع کرتے ہو اور جب بھی تم سجدہ کرتے ہو تو میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور سعید کی روایت میں ( إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم کے بجائے ) إذا ركعتم وسجدتم ’’جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔ یعنی سعید کی روایت میں اذا کے بعد دونوں جگہ ما کا لفظ نہیں ہے ۔
|
|
|
25: باب النَّهْيِ عَنْ سَبْقِ الإِمَامِ بِرُكُوعٍ أَوْ سُجُودٍ وَنَحْوِهِمَا:
باب: امام سے پہلے رکوع اور سجود وغیرہ کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي، وَمِنْ خَلْفِي "، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا "، قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ "،
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: وَلَا بِالِانْصِرَافِ.
۔ ( علی بن مسہر کے بجائے ) جریر اور ابن فضیل دونوں نے اپنی اپنی سند سے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ، جریر کی حدیث میں ’’نہ سلام پھیرنے میں ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلهم، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ، رَأْسَ حِمَارٍ؟ ".
۔ حماد بن زید نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ محمدﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص امام سے پہلے ( رکوع وسجود سے ) سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سرکو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ فِي صُورَةِ حِمَارٍ؟ "،
۔ یونس نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اپنی نماز میں امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے وہ اس بات سے محفوظ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت گدھے کی صورت میں بدل دے
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ جَمِيعًا، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ: " أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ وَجْهَهُ وَجْهَ حِمَارٍ ".
۔ ربیع بن مسلم ، شعبہ اور حماد بن سلمہ سب نے مختلف سندوں سے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے یہی روایت نبیﷺ سے بیان کی ۔ ( ان راویوں میں سے ) ربیع بن مسلم کی حدیث میں ( اس کی صورت بدل دے کے بجائے ) ’’اور اللہ اس کا چہرہ گدھے کا چہرہ بنا دے ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔
|
|
|
26: باب النَّهْيِ عَنْ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں آسمان کی طرف دیکھنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ، يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں وہ ہر صورت ( اپنی اس حرکت سے ) باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے ان کی نظر ) ان کی طرف نہ لوٹے ( سلب کر لی جائے ۔ ) ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ، عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ ".
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نظریں آسمان کی طرف بلند کرنے سے لازما باز آ جائیں یا ( پھر ایسا ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نظریں اچک لی جائیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
27: باب الأَمْرِ بَالسُّكُونِ فِي الصَّلاَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الإِشَارَةِ بِالْيَدِ وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلاَمِ وَإِتْمَامِ الصُّفُوفِ الأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالأَمْرِ بِالاِجْتِمَاعِ:
باب: سکون کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم، سلام کے وقت ہاتھ اٹھانے اور ہاتھوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور پہلی صف کو مکمل کرنے اور مل کر کھڑے ہونے کا حکم۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ، كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَرَآنَا حَلَقًا، فَقَالَ: " مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ "،
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ ( ہاتھ اٹھا کر دائیں بائیں گھوڑے کی دم کی طرح کیوں ہلاتے ہو ۔ دیکھیے ، حدیث : 970 ۔ 971 ) نماز میں پرسکون رہو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ تمہیں ٹولیوں میں ( بٹا ہوا ) دیکھ رہا ہوں؟ ‘ ‘ پھر ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے تو فرمایا : ’’ تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح بارگاہ الٰہی میں فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ، فَقَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ، كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ".
۔ مسعر نے کہا : مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُرَاتٍ يَعْنِي الْقَزَّازَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا، قُلْنَا بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ، كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ ".
۔ فرات قزاز نے عبید اللہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہم لوگ جب سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام عليكم ، السلام عليكم کہتے تھے ، رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا : ’’کیا وجہ ہے کہ تم ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تم میں سے کوئی جب سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔ ‘ ‘
|
|
|
28: باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ وَإِقَامَتِهَا وَفَضْلِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ مِنْهَا وَالاِزْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الإِمَامِ:
باب: صفوں کو سیدھا کرنے اور پہلی صف کی فضیلت اور پہلی صف پر سبقت کرنے اور فضیلت والوں کو امام کے قریب ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ: اسْتَوُوا، وَلَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا"،
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے ، انہوں نے ابو معمر سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز میں ( ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے ) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے : ’’برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں ، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند ( کھڑے ) ہوں ، ان کے بعد وہ جو ( دانش مندی میں ) ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ۔ ‘ ‘ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
جریر ، عیسیٰ بن یونس اور سفیان بن عیینہ نے ( اعمش سے ) باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ ".
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے اور دانش مند کھڑے ہوں ، پھر وہ جو ( اس میں ) ان کے قریب ہوں ( پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ) تین بار فرمایا : اور تم بازاروں کے گڈ مڈ گروہ ( بننے ) سے بچو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ".
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اپنی صفوں کو برابر کیا کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے <ہیڈنگ 2> ہیڈنگ 2>
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتِمُّوا الصُّفُوفَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي ".
عبد العزیز نے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’صفیں پوری کرو ، میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: " أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ ".
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ ہے جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیا ، پھر انہوں نے ان میں سے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : ’’نماز میں صف سیدھی رکھو کیونکہ صف کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن ( ادائیگی ) کا حصہ ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ ".
سالم بن ابی جعد غطفانی نے کہا : میں ن ے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’تم ہر صورت اپنی صفوں کو برابر رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ لازماً تمہارے رخ ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں کر دے گا ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ، حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا، فَقَامَ حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ، فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ عِبَادَ اللَّهِ، لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ "،
ابو خیثمہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو ( اس قدر ) سیدھا اور برابر کراتے تھے ، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں ، حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے ( اس بات کو ) اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد ایک دن آپ گھر سے نکل کر تشریف لائے اور ( نماز پڑھانے کی جگہ ) کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپ تکبیر کہیں ( اور نماز شروع فرما دیں کہ ) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا ، اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے رخ ایک دوسرے کے خلاف مور دے گا ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابو احوص اورابو عوانہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ( سماک سے ) مذکورہ بالا روایت کے ہم معنیٰ روایت بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ، مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ، لَاسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ، وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر لوگ جان لیں کہ اذان ( کہنے ) اور پہلی صف ( کا حصہ بننے ) میں کیا ( خیر وبرکت ) ہے ، پھر وہ اس کی خاطر قرعہ اندازی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی ( بھی ) کریں اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر ( کی نماز ) جلدی ادا کرنے میں کتنا اجر وثواب ملتا ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا ثواب ہے تو ان دونوں نمازوں میں ( ہر صورت ) پہنچیں چاہے گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ لَهُمْ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ، حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ ".
ابو اشہب نے ابو نضرہ عبدی سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ( صف بندی میں ) پیچھے رہتے دیکھا تو ان سے کہا : ’’ آگے بڑھو اور ( براہ راست ) میری اقتدا کرو اور جو لوگ تمہارے بعد ہوں وہ تمہاری اقتدا کریں ، کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہتے جائیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیچھے کر دے گا ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَوْمًا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
۔ جریری نے ابو نضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مسجد کے پچھلے حصے میں دیکھا ... آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ أَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، لَكَانَتْ قُرْعَةً "، وقَالَ ابْنُ حَرْبٍ: " الصَّفِّ الأَوَّلِ، مَا كَانَتْ إِلَّا قُرْعَةً ".
ابراہیم بن دینار اور محمد بن حرب واسطی نے کہا : ہمیں ابو قطن عمرو بن ہیثم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے خلاس سے ، انہوں نے ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر تم جان لو ، یا لوگ جان لیں کہ اگلی صف میں کیا ( فضیلت ) ہے تو اس پر قرعہ اندازی ہو ۔ ‘ ‘ ابن حرب نے ( في الصف المقدم لكانت قرعة کے بجائے ) في الصف الأول ما كانت إلا قرعة ’’پہلی صف میں کیا ہے تو قرعہ کے سوا کچھ نہ ہو ‘ ‘ کہا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا "،
جریر نے سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’مردو کی بہترین صف پہلی اور بدترین صف آخری ہے جبکہ عورتوں کی بہترین صف آخری اور بدترین صف پہلی ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
عبد العزیز ، یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ہے ۔
|
|
|
29: باب أَمْرِ النِّسَاءِ الْمُصَلِّيَاتِ وَرَاءَ الرِّجَالِ أَنْ لاَ يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ مِنَ السُّجُودِ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ.
باب: مردوں کے پیچھے نماز ادا کرنے والی عورتیں مردوں سے پہلے سجدہ سے سر نہ اٹھائیں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ، عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ، مِثْلَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الأُزُرِ، خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ ".
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے مردوں کو دیکھا کہ چادریں تنگ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کی طرح اپنی چادریں گردنوں میں باندھے ہوئے نبیﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، اس پر کسی کہنے والے نے کہا : اے عورتوں کی جماعت! تم اس وقت تک اپنے سروں کو ( سجدے سے ) نہ اٹھانا جب تک مرد ( سر نہ ) اٹھا لیں ۔ ( خدانخواستہ کسی مرد کے ستر کا کوئی حصہ کھلا ہوا نہ ہو ۔ یہ بات آپﷺ کی موجودگی میں کہی گئی اور آپ نے کہنے والے کو نہ ٹوکا ۔)
|
|
|
30: باب خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنَةٌ وَأَنَّهَا لاَ تَخْرُجُ مُطَيَّبَةً:
باب: جب فتنہ کا ڈر نہ ہو تو عورتوں کے مساجد میں جانے کا جواز بشرطیکہ وہ خوشبو نہ لگائیں۔
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سَالِمًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَا يَمْنَعْهَا ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم سے سنا ، وہ اپنے والد سے روایت بیان کر رہے تھے اور وہ ( اس کی سند میں ) رسول اللہ ﷺ تک پہنچتے تھے ( کہ ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی سے اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ، إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا "، قَالَ: فَقَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا، مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ.
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ اپنی عورتوں کو جب وہ تم سے مسجدوں میں جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں ( وہاں جانے سے ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ ( سالم نے ) کہا : تو ( ابن عمر کے دوسرے بیٹے ) بلال بن عبد اللہ نے کہا : اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے ۔ اس پرحضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف رخ کیا اور اس کو سخت برا بھلا کہا ، میں نے انہیں کبھی ( کسی کو ) اتنا برا بھلا کہتے نہیں سنا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کا فرمان بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو : اللہ کی قسم! ہم انہیں ضرور روکیں گے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ، مَسَاجِدَ اللَّهِ ".
۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ، فَأْذَنُوا لَهُنّ ".
۔ حنظہ نے کہا : میں نے سالم سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جب تمہاری عورتیں تم سے مساجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دو
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ "، فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: لَا نَدَعُهُنَّ يَخْرُجْنَ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، قَالَ: فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: أَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: لَا نَدَعُهُنَّ ".
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’رات کو عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکو ۔ ‘ ‘ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے کہا : ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے کہ وہ جائیں اور اسے خرابی اور بگار ( کا ذریعہ ) بنا لیں ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے سخت ڈانٹا او ر کہا : میں کہتا ہوں رسول اللہﷺ نے فرمایا اور تو کہتا ہے ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(دوسرے شاگرد ) عیسیٰ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ، يُقَالُ لَهُ وَاقِدٌ: إِذًا يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِهِ، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: لَا.
(اعمش کے بجائے ) عمرو ( بن دینار جحمی ) نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں کی طرف نکلنے کی اجازت دو ۔ ‘ ‘ تو ان کے بیٹے نے ، جس کو واقد کہا جاتا تھا ، کہا : تب وہ اس کو خرابی و بگاڑ بنا لیں گی ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر مارا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے : نہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِذَا اسْتَأْذَنُوكُمْ، فَقَالَ بِلَالٌ: وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ أَنْتَ: لَنَمْنَعُهُنَّ ".
(خود ) بلال بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ عورتوں کو ، جب وہ تم سے اجازت طلب کریں تو مسجدوں میں جو ان کے حصے ہیں ان ( کے حصول ) سے ( انہیں ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ بلال نے کہا : اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اور تو کہتا ہے : ہم انہیں ضرور روکیں گے
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةَ ، كَانَتْ تُحَدِّثُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ، فَلَا تَطَيَّبْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ".
مخرمہ نے اپنے والد ( بکیر ) سے ، انہوں نے بسر بن سعید روایت کی کہ حضرت زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ سے ( یہ ) حدیث بیان کرتی تھیں ، آپ نے فرمایا : ’’ جب تم عورتوں میں سے کوئی عشا کی نماز میں شامل ہو تو وہ اس رات خوشبو نہ لگائے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا ".
(مخرمہ کے بجائے ) محمد بن عجلان نے بکیر بن عبد اللہ بن اشج سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا : ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو کو ہاتھ نہ لگائے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا، فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس عورت کو ( بخور ) خوشبودار دھواں لگ جائے ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ، لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ: أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمان سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے ( بناؤ سنگھار کے ) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہﷺ دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے عمرہ سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
(سلیمان بن بلال کے بجائے ) عبد الوہاب ثقفی ، سفیان بن عیینہ ، ابو خالد احمر اورعیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے
|
|
|
31: باب التَّوَسُّطِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ الْجَهْرِيَّةِ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالإِسْرَارِ إِذَا خَافَ مِنَ الْجَهْرِ مَفْسَدَةً:
باب: جب فتنہ کا اندیشہ ہو تو جہری نمازوں میں قراءت درمیانی آواز سے کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم متوار بمكة، فكان إذا صلى بأصحابه، رفع صوته بالقرآن، فإذا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ، وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا، يَقُولُ: بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ.
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) کے درمیان کی راہ اختیار کریں ۔ ‘ ‘ ( اللہ تعالیٰ ) فرماتا ہے : بلند اور آہستہ کے درمیان ( میں رہیں ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَتْ: أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ،
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان : ’’ نہ اپنی نماز میں ( قراءت ) بلند کریں اور نہ آہستہ ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ . ح قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
حماد بن زید ، ابو اسامہ ، وکیع اور ابو معاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے ۔
|
|
|
32: باب الاِسْتِمَاعِ لِلْقِرَاءَةِ:
باب: قراءت سننے کا حکم۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلهم، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ، كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ، وَشَفَتَيْهِ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17 إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19، أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ ".
جریر بن عبد الحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تحرك به لسانك لتعجل به﴾ ’’آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں ۔ ‘ ‘ کے بارے میں روایت بیان کی کہا : جب جبرائیل رضی اللہ عنہ نبیﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ ( اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ ( کے چہرے ) سے معلوم ہو جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ آپ اس ( وحی کے پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بے شک اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے ۔ ‘ ‘ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کو سینۂ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت ( بھی ہمارے ذمے ہے ) تاکہ آپ قراءت کریں ۔ ’’پھر جب ہم اسے پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ فرمایا : یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں ۔ ’’ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے ‘ ‘ کہ آ پ کی زبان س ( لوگوں کے سامنے ) بیان کر دیں ، پھر جب جبرائیل رضی اللہ عنہ آپ کے پاس ( وحی لے کر ) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْله: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا، كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17، قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: فَاسْتَمِعْ، وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ، قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَقْرَأَهُ ".
۔ ( جریر بن عبد الحمید کے بجائے ) ابو عوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان : ’’آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ نبی اکرمﷺ وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے ، آپ ( ساتھ ساتھ ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے ( ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں ، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے ( اپنے شاگرد سے ) کہا : میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ انہیں ہلاتے تھے ، پھر اپنے ہونٹ ہلائے ) اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری : ’’ آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بےشک ہمارا ذمہ ہے اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ کر رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ۔ ‘ ‘ کہا : آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا ، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں ۔ ’’ پھر جب ہم پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : یعنی اس کو غور سےسنیں اور خاموش رہیں ، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل رضی اللہ عنہ ( وحی لے کر ) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل رضی اللہ عنہ چلے جاتے تواسے آپ اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا ۔
|
|
|
33: باب الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ:
باب: نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ، وَمَا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ، عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ، وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا ذَاكَ، إِلَّا مِنْ شَيْءٍ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَمَرَّ النَّفَرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ، وَهُوَ بِنَخْلٍ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ، اسْتَمَعُوا لَهُ، وَقَالُوا: هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا، إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا {1} يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا {2} سورة الجن آية 1-2، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ سورة الجن آية 1 ".
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب میں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ ہمارے آسمانی خبر کے درمیان حائل ہونے والی چیز ( کی حقیقت ) کیا ہے؟ وہ نکل کر زمین کے مشرق اور مغرب میں پہنچے ۔ وہ نفری جس نے تہامہ کا رخ کیا تھا ، گزری ، تو آپ عکاظ کی طرف جاتے ہوئے کجھوروں ( والے مقام نخلہ ) میں تھے ، اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا دیے اور کہنے لگے : یہ ہے جو ہمارے اور آسمانوں کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا : اے ہماری قوم! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمدﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی : ’’ کہہ دیجیئے : میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: " سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ، هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ، شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: فَقَالَ عَلْقَمَةُ : أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ، قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ، بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ، جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ، بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَقَالَ: أَتَانِي، دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا، فَأَرَانَا آثَارَهُمْ، وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، فَقَالَ: لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ، ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ "،
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کوگم پایا تو آپ کی تلاش شروع کر دی لیکن آپ نہ ملے ، اس لیے ہم نے وہ بدترین رات گزاری جو کوئی قوم ( کبھی ) گزار سکتی ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جنوں کی طرف سے دعوت دینے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے ان کے سامنت قرآن کی قراءت کی ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ﷺ ) ہمیں لے کر گئے اور ہمیں ان کے نقوش قدم اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے ۔ جنوں نے آپ سے زاد ( خوراک ) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس ( کے جانور ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے ہاتھ لگ جائے ، ( اس پر لگا ہوا ) گوشت جتنا زیادہ سے زیادہ ہو اور ( ہر نرم قدموں والے اونٹ اور کٹے سموں والے ) جانور کی لید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے ( انسانوں سے ) فرمایا : ’’ تم ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں ( دین میں ) تمہارے بھائیوں ( جنوں اور ان کے جانوروں ) کا کھانا ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ، قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، وكانوا من جن الجزيرة، إلى آخر الحديث، من قول الشعبي، مفصلا من حديث عبد الله،
۔ اسماعیل بن ابراہیم نے داؤد سے اسی سند کے ساتھ وآثار نيرانهم ( ان کی آگ کے نشانات ) تک بیان کیا ۔ شعبی نے کہا : جنوں نے آپ سے خوراک کا سوار کیا اور وہ جزیرہ کے جنوں میں سے تھے ... حدیث کے آخری حصے تک جو شعبی کا قول ہے ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ ہے ۔
|
|
|
وحدثناه أبو بكر بن أبي شيبة ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى قَوْلِهِ: وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
عبد اللہ بن ادریس نے داؤد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی ﷺسے وآثار نيرانهم تک روایت کیا اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُ ".
(شعبی کے بجائے ) ابراہیم ( نخعی ) نے علقمہ سے اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی ، کہا : میں لیلۃ الجن کو رسول اللہﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَعْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: " سَأَلْتُ مَسْرُوقًا ، مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ آذَنَتْهُ بِهِمْ شَجَرَةٌ ".
معن ( بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود ہذلی ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : میں نے مسروق سے پوچھا : جس رات جنوں نے کان لگا کر ( قرآن ) سنا ، اس کی اطلاع نبیﷺ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا : مجھے تمہارے والد ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ آپ کو ان جنوں کی اطلاع ایک درخت نے دی تھی ۔ ( یہ آپﷺ کا معجزہ تھا ۔)
|
|
|
34: باب الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:
باب: ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ ".
حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ اور ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت ) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے ۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
(حجاج کے بجائے ) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ( سے ہر رکعت میں ) سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ، عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: الم تَنْزِيلُ، وَقَالَ: قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً ".
یحییٰ بن یحییٰ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ولید بن مسلم سے ، انہوں نے ابو صدیق ( ناجی ) سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( السجدہ ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے استادہ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تیس آیات کےبقدر
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ، قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، أَوَ قَالَ: نِصْفَ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِك".
۔ ابو عوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا : اس ( پہلی دو ) سے نصف ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : " أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْرِمُ عَنْهَا، إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاق "،
ہشیم نے عبد الملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور ( اس میں ) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا ، اس کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا : یقیناً میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز کی طرف نماز پڑھاتا ہوں ، اس میں کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری میں دو تخفیف کرتا ہوں ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں گمان ( بھی ) یہی ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
(ہشیم کے بجائے ) جریر نے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: " قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ "،
شعبہ نے ابوعون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( یہ کہتا ہوں کہ میں ) پہلی دو رکعتوں میں ( قیام کو ) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں ، میں نے جس طرح رسول اللہﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی ، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فَقَالَ: تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ.
۔ مسعر نے عبد الملک ( بن عمیر ) اور ابو عون سے روایت کی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ ( میں نے تو خود رسول اللہﷺ سے نماز سیکھی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، مِمَّا يُطَوِّلُهَا ".
۔ عطیہ بن قیس نے قزعہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا ، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا ، پھر ( مسجد میں ) آتا اور رسول اللہﷺ اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ ، قَالَ: " أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ، فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ".
ربیعہ نے کہا : قزعہ نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس ( استفادے کے لیے ) کثرت سے لوگ موجود تھے ۔ جب یہ لوگ ان سے ( رخصت ہو کر ) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے ۔ میں نے کہا : میں آپ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے ( کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسے نماز نہیں پڑھ سکو گے ) انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا ، اپنی ضرورت پوری کرتا ، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا ، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہﷺ ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے ۔
|
|
|
35: باب الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ:
باب: صبح کی نماز میں قرأت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ المسيب العابدي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الصُّبْحَ بِمَكَّةَ، فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ عِيسَى، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ، أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ، فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاق: فَحَذَفَ، فَرَكَعَ، وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَلَمْ يَقُلْ: ابْنِ الْعَاصِ.
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، نیز عبد الرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو سلمہ بن سفیان ، عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن مسیب سے عابدی نے حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مومنون کی قراءت شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا یا عیسیٰ رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ( محمد بن عبادہ کو شک ہے یا راویوں نے اس کے سامنے ( بیان کرتے ہوئے ) اختلاف کیا ہے ) ( اس وقت ) رسو ل اللہﷺ کو کھانسی آنے لگی تو آپ رکوع میں چلے گئے ۔ عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بھی اس نماز میں موجود تھے ۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے : آپ نے قراءت قطع کر دی اور رکوع میں چلے گئے ۔ اور ان کی حدیث میں ( راوی کا نام ) عبد اللہ بن عمرو ہے ، آگے ابن عاص نہیں کہا ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ " أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ سورة التكوير آية 17 ".
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فجر کی نماز میں ﴿واليل إذا عسعس﴾ ( قسم ہے رات کی! جب وہ جانے لگتی ہے ) پڑھتے ہوئے سنا
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأ: ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ حَتَّى قَرَأَ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ سورة ق آية 1 - 10، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا، وَلَا أَدْرِي مَا قَالَ ".
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ نے مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی ، آپ ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھی حتی کہ آپ نے ﴿والنخل باسقت﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ) پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار ( ذہن میں ) دہرانے لگا اور آپ نے جو کہا مجھے اس ( کے مفہوم ) کا پتہ نہ چلا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ : " سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10 ".
(ابو عوانہ کے بجائے ) شریک اور سفیان بن عیینہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فجر کی نماز میں نبی اکرمﷺ کو ﴿والنخل باسقت لها طلع نضيد﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ( پیدا کیے ) جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ) کی قراءت کرتے ہوئے سنا
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ، وَرُبَّمَا، قَالَ: ق ".
(ابو عوانہ ، شریک اور ابن عیینہ کے بجائے ) شعبہ نے زیادہ بن علاقہ سے اور انہوں نے اپنے چچا ( حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے پہلی رکعت میں ﴿والنخل باسقت طلع نضيد﴾ پڑھا اور بعض اوقات ( یہی بات سناتے ہوئے ) کہا : سورہ ق پڑھی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ سورة ق آية 1، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا ".
زائدہ نے کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ فجر کی نماز میں ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھا کرتے تھے ، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ، قَالَ: وَأَنْبَأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ سورة ق آية 1 وَنَحْوِهَا ".
(زائدہ کے بجائے ) زہیر نے سماک سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : آپ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھاتے تھے ۔ اور ( سماک نے ) کہا : مجھے انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ رسو ل اللہﷺ کی صبح کی نماز میں ﴿ق والقرآن﴾ اور ( طوالت میں ) اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ، وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ ".
عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔)
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ ".
ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے ، انہوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ( اور اپنے پروردگار کے اونچے نام کی تسبیح کر ) پڑھتے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ".
(سلیمان ) تیمی نے ابو منہال سے اور انہوں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھا کرتے تھے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ، مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ آيَةً ".
(تیمی کے بجائے ) خالد حذاء نے ابو منہال سے ، انہوں نے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ،
۔ مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے ﴿والمرسلات عرفا﴾ پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں : بیٹا! تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد کرا دیا کہ بے شک یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہﷺ کو مغرب کی نماز میں تلاوت کرتے ہوئے سنی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ: ثُمَّ مَا صَلَّى بَعْدُ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلّ.
(امام مالک کے بجائے ) سفیان ( بن عیینہ ) ، یونس ، معمر اور صالح نے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی اور صالح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : پھر آپ نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ بِ الطُّورِ، فِي الْمَغْرِبِ "،
مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کی نماز میں رسول اللہﷺ کو سورہ طہ پڑھتے ہوئے سنا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سفیان ، یونس اور معمر نے اپنی اپنی سند سے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ اس جیسی روایت بیان کی ۔
|
|
|
36: باب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ:
باب: نماز عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، فَقَرَأَ: فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ".
۔ شعبہ نے عدی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرمﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپﷺ سفر میں تھے ، آپ نے عشاء کی پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں ﴿والتين والزيتون﴾ پڑھی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، فَقَرَأَ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ".
(شعبہ کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِ: التِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ ".
(شعبہ اور یحییٰ کے بجائے ) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کرتے ہوئے سنا ، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَانْحَرَفَ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ، وَإِنَّ مُعَاذًا، صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِكَذَا، وَاقْرَأْ بِكَذَا، قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اقْرَأْ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ عَمْرٌو: نَحْوَ هَذَا ".
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آ کر اپنے قبیلے کی ( مسجد میں ) امامت کراتے ، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑھی ، پھر اپنی قوم کے پاس آئے ، ان کی امامت اور ( سورۃ فاتحہ کے بعد ) سورۃ بقرہ پڑھنی شروع کر دی ۔ ایک شخص الگ ہو گیا ، ( نماز سے ، سلام پھیرا ، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا تو لوگوں نے اس سے کہا : اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! نہیں ، میں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا ، چنانچہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں ، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی ، پھر آ کر سورۃ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی ۔ رسول اللہﷺ نے ( یہ سن کر ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو ۔ ‘ ‘ سفیان نے کہا : میں نے عمرو سے کہا : ابو زبیر نے ہمیں جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا : ﴿والشمس وضحاها﴾ ﴿والضحى﴾ ، ﴿واليل إذا يغشى﴾ اور ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھا کرو ۔ اور عمرو نے کہا : اس جیسی ( سورتیں پڑھا کرو)
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِيُّ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ، فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاقْرَأْ: بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ".
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت کی ۔ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور الگ نماز پڑھ لی ۔ معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : وہ منافق ہے ۔ جب اس آدمی تک یہ بات پہنچی تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ کو بتایا کہ معاذ نے کیا کہا ، اس پر رسول اللہﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کی امامت کراؤ تو ﴿والشمس وضحها﴾ ، ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ، ﴿اقرأ باسم ربك الذي خلق﴾ اور ﴿واليل إذا يغشى﴾ پڑھا کرو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ ".
منصور نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ ".
(منصور کے بجائے ) ایوب نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے تھے ۔
|
|
|
37: باب أَمْرِ الأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلاَةِ فِي تَمَامٍ:
باب: اماموں کے لیے نماز کو پورا اور تخفیف کرنے کا حکم۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ، أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُوجِزْ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَذَا الْحَاجَةِ "،
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس سے اور انۂں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : بے شک میں فلاں آدمی کی وجہ سے صبح کی نماز سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ پند ونصیحت کرتے وقت ، آپ کبھی اس دن سے زیادہ غضب ناک ہوئے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! تم میں سے بعض ( دوسروں کو نماز سے ) متنفر کرنے والے ہیں ۔ تم میں سے جو بھی لوگوں کی امامت کرائے وہ اختصار سے کام لے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے ، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ.
۔ ہشیم ، وکیع ، عبد اللہ بن نمیر اور سفیان نے اسماعیل ( بن ابی خالد ) سے اسی سند کے ساتھ ہشیم کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمْ، الصَّغِيرَ، وَالْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَالْمَرِيضَ، فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ ".
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی فرد لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان ( نمازیوں ) میں بچے ، بوڑھے ، کمزور اور بیمار بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ، فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ، فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1> ہیڈنگ 1>
|
|
|
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ، الضَّعِيفَ، وَالسَّقِيمَ، وَذَا الْحَاجَةِ "،
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں کمزور ، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: بَدَلَ السَّقِيمَ، الْكَبِيرَ.
(ابو سلمہ کے بجائے ) ابو بکر بن عبد الرحمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : .... اسی کے مانند ، البتہ اس میں سقیم ( بیمار ) کی جگہ کبیر ( بوڑھا ) کہا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: أُمَّ قَوْمَكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا، قَالَ: ادْنُهْ، فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ: تَحَوَّلْ، فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ: أُمَّ قَوْمَكَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِنَّ فِيهِمُ ذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ ".
موسیٰ بن طلحہ نے کہا : مجھے حضرت عثمان بن ابو عاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے قریب ہو جاؤ ۔ ‘ ‘ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر اپنی ہتھیلی میر ی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی ، اس کے بعد فرمایا : ’’رخ پھیرو ۔ ‘ ‘ اس کے بعد آپ نے ہتھیلی میری پشت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی ، پھر فرمایا : ’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے ، وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں ، ان میں بیمار ہوتے ہیں ، ان میں کمزور ہوتے ہیں اور ان میں ضرورت مند ہوتے ہیں ، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ: " آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا، فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ ".
سعید بن مسیب نے کہا : حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے آخری بات جو میرے ذمے لگائی یہ تھی : ’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ
|
|
|
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ ".
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نماز میں تخفیف کرتے اور مکمل ادا کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ ".
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ( سب سے زیادہ ) مکمل صورت میں سب سے زیادہ تخفیف کے ساتھ نماز پڑھانے والے تھے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ، أَخَفَّ صَلَاةً، وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
شریک بن عبد اللہ ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ مکمل نماز پڑھانے والا ہو ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَنَسٌ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ، أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ ".
۔ ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ماں کے ساتھ ( آئے ہوئے ) بچے کا رونا سنتے اور آپ نماز میں ہوتے تو ہلکی سورت یا ( کہا ) چھوٹی سورت پڑھ لیتے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ، أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأُخَفِّفُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ ".
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میں نماز شروع کرتا ہوں ، میرا ارادہ لمبی نماز ( پڑھنے ) کا ہوتا ہے ، پھر بچے کا رونا سنتا ہوں تو بچے پر ماں کے غم کی شدت کی وجہ سے ( نماز میں ) تخفیف کر دیتا ہوں ۔ ‘ ‘
|
|
|
38: باب اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلاَةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ:
باب: نماز میں تمام ارکان اعتدال سے پورا کرنے اور نماز کو ہلکا کرنے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ حَامِدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ، فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ ".
ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ، قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّي، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ، بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "، قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَقَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: " كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ "، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ هَكَذَا،
۔ عبید اللہ کے والجد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص ( حکم نے اس کا نام لیا ) کوفہ ( کے اقتدار ) پر قابض ہو گیا ، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ ( بن مسعود ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، وہ نماز پڑھاتے تھے ، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا : ’’ اے اللہ! ہمارب ! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے ۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘ ( صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے ۔ ) حکم نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ کی نماز ( قیام ) ، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے ، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان ( والا بیٹھنے ) کا وقفہ تقریباً برابر تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے ، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی ۔ ( وہ ثقہ تھے ۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ، لَمَّا ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ، أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر قابض ہو گیا تو اس نے ابو عبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ... اور ( پوری ) حدیث بیان کی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " إِنِّي لَا آلُو، أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ، كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، قَالَ: فَكَانَ أَنَسٌ، يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، انْتَصَبَ قَائِمًا، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: قَدْ نَسِيَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ مَكَثَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: قَدْ نَسِيَ ".
۔ خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا ، جیسی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ( کہ وہ ) ہمیں پڑھاتے تھے ۔ ثابت نے کہا : انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : وہ بھول گئے ہیں ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ، أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ، كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً، وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَامَ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَوْهَمَ ".
۔ بہز بن حماد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے کسی کے پیچھے نبی اکرمﷺ سے زیادہ ہلکی نماز نہیں پڑھی جو کامل ہو ۔ رسول اللہﷺ کی نماز ( میں ارکان کی طوالت ) قریب قریب تھی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز بھی قریب قریب ہوتی تھی ۔ جب عمر رضی اللہ عنہ ( امیر مقرر ) ہوئے تو انہوں نے نماز فجر ( میں قراءت ) لمبی کر دی ۔ اور رسول اللہﷺ جب سمع الله لمن حمده کہتے تو کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ ( شاید سر اٹھانا ) بھول گئے ہیں ، پھر سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھے رہتے حتیٰ کہ ہم سمجھتے ( کہ شاید ) آپ بھول گئے ہیں ۔
|
|
|
39: باب مُتَابَعَةِ الإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ:
باب: امام کی پیروی کرنا اور اس کے عمل کے بعد عمل کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ: " أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ، حَتَّى يَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ يَخِرُّ مَنْ وَرَاءَهُ سُجَّدًا ".
زہیر اور ابو خیثمہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابو اسحاق سے اور انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھا لیتے تو میں کسی کو نہ دیکھتا کہ وہ اپنی پشت جھکاتا ہو یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ، اس کے بعد آپ کے پیچھے والے سجدے میں گرتے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، قَال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ "، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ، حَتَّى يَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ.
سفیان نے ابو اسحاق سے ، انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ بولنے والے نہ تھے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب سمع الله لمن حمدہ کہتے تو ہم میں سے کوئی ایک بھی اس وقت تک اپنی پشت نہ جھکاتا جب تک رسول اللہﷺ سجدے میں نہ چلے جاتے ، پھر ہم آپ کے بعد سجدے میں جاتے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ : " أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا، حَتَّى نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ نَتَّبِعُهُ ".
محارب بن دثار نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن یزید کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب آپ رکوع میں چلے جاتے تو وہ رکوع کرتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو آپ سمع الله لمن حمده کہتے ، ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ نے اپنا چہرہ مبارک زمین پر رکھ دیا ہے ، پھر ہم آپ کی پیروی کرتے ( سجدے میں جاتے ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، وَغَيْرُهُ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ، حَتَّى نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ "، فَقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ، وَغَيْرُهُ، قَالَ: حَتَّى نَرَاهُ يَسْجُدُ.
۔ زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابان وغیرہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ( نماز میں ) نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہوتے ، ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی پشت نہ جھکاتا یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَى آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ، وَكَانَ لَا يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ، حَتَّى يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا ".
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے آپ کو ﴿فلا أقسم بالخنس0 الجوار الكنس﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ، سیدھے چلنے ، دبک جانے والے ( ستاروں ) کی ‘ ‘ پڑھتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پشت نہیں جھکاتا تھا حتیٰ کہ آپ پوری طرح سجدے میں چلے جاتے تھے ۔
|
|
|
40: باب مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ:
باب: جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".
اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺجب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے ، ’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی ، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".
شعبہ نے عبیدبن حسن سے انہوں نے عبد اللہ بن اوفیٰ سے روایت ےکی ہے انہوں نے کہا رسو ل اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کیا کرتے تھے’’اے اللہ ہمارے رب تیر ی ہی تعریف ہےآسمان اور زمین تک اور اس علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ "،
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرمﷺ سے بیان کر رہے تھے کہ آپ فرمایا کرتے تھے : ’’اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَكِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، فِي رِوَايَةِ مُعَاذٍ: كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّرَنِ، وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ: مِنَ الدَّنَسِ.
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ معاذ کی روایت میں ( من الوسخ کے بجائے ) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں ( تینوں لفظوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ: وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ثنا اورعظمت کے حق دار! ( یہی ) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں ۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سےتو محروم کر دے ، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "،
۔ ہشیم نے بشیر نے بیان کیا : ہمیں ہشام بن حسان نے قیس بن سعد سے خبر دی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے اللہ ، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے آسمان اور زمین بھر اور ان دونوں کے درمیان کی وسعت بھر اور ان کی بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے تعریف اور بزرگی کے سزاوار! جو توعنایت فرمائے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى قَوْلِهِ: وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مَا بَعْدَهُ.
حفص نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبیﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی : ’’اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وعست بھر ۔ ‘ انہوں ( حفص ) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
|
|
|
41: باب النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:
باب: رکوع اور سجود میں قرآن پاک پڑھنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ، إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ،
سعید بن منصور ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دع اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔ ‘ ‘ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث یبان کرتے ہوئے ( ’’مجھے سلیمان نے خبر دی ‘ ‘ کے بجائے ) سلیمان سے روایت ہے ، کہا ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ، وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ، إِلَّا الرُّؤْيَا، يَرَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ، أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
۔ اسماعیل بن جعفر نے سلیمان سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے پردہ اٹھایا ، اس مرض کے عالم میں جس میں آپ کا انتقال ہوا ، آپ کا سر پٹی سے بندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ‘ ‘ تین بار ( یہ الفاظ کہے ، پھر فرمایا : ) ’’نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو کوئی نیک انسان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( دوسرے کو ) دکھائے جائیں گے ... ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل نے سفیان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا ".
۔ ابن شہاب زہری نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنَ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَأَنَا رَاكِعٌ، أَوْ سَاجِدٌ ".
ولید بن کثیر سے روایت ہے کہ مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے رسول اللہﷺ نے ، جب میں رکوع یا سجدے میں ہوں ، قرآن پڑھنے سے روکا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ، وَلَا أَقُولُ: نَهَاكُمْ ".
زید بن اسلم نے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں ( قرآن کی ) قراءت کرنے سے منع کیا ۔ میں ( یہ ) نہیں کہتا : تمہیں منع کیا ۔ ( حضرت علی نے اپنے حوالےا سے جو سنا وہی بتایا ۔ پچھلی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حکم سب کے لیے ہے ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَال: " نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا، أَوْ سَاجِدًا ".
داؤد بن قیس نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میرے حبیبﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن پڑھوں ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ . ح وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: ح. وحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح إِلَّا الضَّحَّاكَ، وَابْنَ عَجْلَانَ، فَإِنَّهُمَا زَادَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ قَالُوا: " نَهَانِي عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَأَنَا رَاكِعٌ "، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي رِوَايَتِهِمْ، النَّهْيَ عَنْهَا فِي السُّجُودِ، كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَالْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ.
نافع ، یزید بن ابی حبیب ، ضحاک بن عثمان ، ابن عجلان ، اسامہ بن زید ، محمد بن عمرو اور محمد بن اسحاق سب نے مختلف سندوں سے ابراہیم بن عبد اللہ حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کی ، البتہ ان میں ضحاک اور ابن عجلان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا : حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت علی سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ آپ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت سے روکا اور ان میں سے کسی نے اپنی روایت میں ( ابراہیم کے پچھلی روایتوں : 1076 ۔ 1079 میں مذکورہ شاگردوں ) زہری ، زید بن اسلم ، ولید بن کثیر اور داؤد بن قیس کی روایات کی طرح سجدے میں قراءت کرنے سے روکنے کا ذکر نہیں کیا
|
|
|
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ: فِي السُّجُودِ.
۔ عبد اللہ بن حنین کے ایک اور شاگرد محمد بن مکندر نے یہی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن سجدے میں قراءت کا ذکر نہیں کیا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي، وحَدَّثَنِي، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ، وَأَنَا رَاكِعٌ "، لَا يَذْكُرُ فِي الإِسْنَادِ عَلِيًّا.
عبد اللہ بن حنین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مجھے رکوع کی حالت میں قراءت سے منع کیا گیا ہے ۔ اس سند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
|
|
|
42: باب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ".
۔ ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ، وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ، وَسِرَّهُ ".
ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے : ’’ اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، پہلے بھی اور پچھلے بھی ، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ".
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : : رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوت: " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاكَ أَحْدَثْتَهَا، تَقُولُهَا؟ قَالَ: جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي، إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ".
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول لالہﷺ وفات سے پہلے بکثرت یہ فرماتے تھے : ’’ ( اے اللہ! ) میں تیری حمد ے ساتھ تیری ستائش کرتاہوں ، تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! یہ کلمے کیا ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنے شروع کر دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھ لوں تو یہ ( کلمے ) کہوں : ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے .... ) ‘ ‘ سورت کے آخر تک
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، يُصَلِّي صَلَاةً، إِلَّا دَعَا، أَوَ قَالَ فِيهَا: " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ".
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب سے آپ پر ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ اتری ، اس وقت سے میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا : ’’اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: " خَبَّرَنِي رَبِّي، أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي، فَإِذَا رَأَيْتُهَا، أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، فَتْحُ مَكَّةَ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا {3} سورة النصر آية 2-3 ".
عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ ’’ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لا إله إلا أنت، فأخبرني ابن أبي مليكة ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ، أَوْ سَاجِدٌ، يَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ ".
۔ ابن جریج نے کہا : میں نے عطاء سے پوچھا : آپ رکوع میں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جہاں تک ( دعا ) سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت ’’تو پاک ہے ( اے اللہ! ) اپنی حمد کے ساتھ ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا ‘ ‘ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک رات میں نے نبی ﷺ کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی ( اور ) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، میں نے تلاش کیا ، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے ، کہہ رہے تھے : سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت میں نے کہا : آپ پہ میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ، فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ، كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ایک رات رسول اللہﷺ کو بستر پر نہ پایا تو آپ کو ٹٹولنے لگی ، میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑا ، اس وقت آپ سجدے میں تھے ، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ کہہ رہے تھے : ’’اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیری ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود بیان کی ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَبَّأَتْهُ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِه: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "،
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں ( یہ کلمات ) کہتے تھے : ’’نہایت پاک ہے ، مقدس ہے فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام ) کا پروردگار ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ ، وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہمیں ابوداؤد ( طیالسی ) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا : میں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے سنا ۔ ابوداؤد نے ( مزید ) کہا : اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے مطرف سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
|
|
|
43: باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ:
باب: سجدوں کی فضیلت اور اس کی ترغیب۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، قَالَ: " لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ، يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوَ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَسَكَت، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً "، قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ، مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
۔ معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا : میں رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے ، یا انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو ، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار فرمائی ( اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا ، انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہی سوال رسول اللہﷺ سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا : ’’تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘ معدان نے کہا : پھر میں ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے ( یہی ) سوال کیا ، انہوں نے بھی مجھ س وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: " كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: سَلْ، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ، بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ".
حضرت ربیعہ بن کعب ( بن مالک ) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( خدمت کے لیے ) رسول اللہﷺ کے ساتھ ( صفہ میں آپ کے قریب ) رات گزارا کرتا تھا ، ( جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو ) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔ ( ایک مرتبہ ) آپ نے مجھے فرمایا : ’’ ( کچھ ) مانگو ۔ ‘ ‘ تو میں نے عرض کی : میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’یا اس کے سوا کچھ اور؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : بس یہی ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو ۔ ‘ ‘
|
|
|
44: باب أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: سجدوں کے اعضاء کا بیان، اور بالوں اور کپڑوں کے سمیٹنے کی ممانعت اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ "، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، وقَال أَبُو الرَّبِيعِ: عَلَى سَبْعَةِ، أَعْظُمٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ، وَثِيَابَهُ الْكَفَّيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَالْقَدَمَيْنِ، وَالْجَبْهَةِ.
یحییٰ اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ، یحییٰ نے کہا : حماد بن زید نے ’’ہمیں خبر دی ‘ ‘ اور ابو ربیع نے کہا : ’’ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ انہوں نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کیا کریں ارو آپ کو بالوں اور کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا ۔ یہ یحییٰ کی حدیث ہےاور ابو ربیع نے کہا : سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اپنے بالوں اور اپنے کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا ( سات اعضاء سے ) دونوں ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے ، دونوں قدم اور پیشانی ( مراد ہیں ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا أَكُفَّ ثَوْبًا، وَلَا شَعْرًا ".
شعبہ نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کروں اور یہ کہ میں ( نماز میں ) نہ کپڑا اڑسوں اور نہ بال ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ ".
سفیان بن عیینہ نے ( عبد اللہ ) بن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ سات ( اعضاء ) پر سجدہ کریں اور بالوں کو اور کپڑوں کو اڑسنے سے روکا گیا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ، وَالْيَدَيْنِ، وَالرِّجْلَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ، وَلَا الشَّعْرَ.
وہیب نے عبد اللہ بن طاؤس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ( اپنے والد ) طاؤس سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے سات ہڈیوں : پیشانی ، اور ( ساتھ ہی ) آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا ، دونوں ہاتھوں ، دونوں ٹانگوں ( گھٹنوں ) اور دونوں پاؤں کے کناروں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ ہم ( نماز پڑھتے ہوئے ) کپڑوں اور بالوں کو نہ اڑسیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَلَا أَكْفِتَ الشَّعْرَ، وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ، وَالأَنْفِ، وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَالقَدَمَيْنِ ".
ابن جریح نے عبد اللہ بن طاؤس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں ، بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کروں ، ( سجدہ ) پیشانی اور ناک ، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں پر ( کروں ۔ ) ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ، سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ، أَطْرَافٍ وَجْهُهُ، وَكَفَّاهُ، وَرُكْبَتَاهُ، وَقَدَمَاهُ ".
۔ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اطراف ( کنارے یا اعضاء ) اس کا چہرہ ، اس کی دونوں ہتھیلیاں ، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُصَلِّي، وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ ".
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبد اللہ بن حارث ( بن نوفل رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب ) کو نماز پڑھتے دیکھا ، ان کے سر پر پیچھے سے بالوں کو جوڑا بنا ہوا تھا ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اس کو کھولنے لگے ، جب ابن حارث نے سلام پھیرا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میرے سر کے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے ( میرے بال کیوں کھولے؟ ) انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’اس طرح ( جوڑا باندھ کر ) نماز پڑھنے والے کی مثال اس انسان کی طرح ہے جو اس حال میں نماز پڑھتا ہے کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں ۔ ‘ ‘
|
|
|
45: باب الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخِذَيْنِ فِي السُّجُودِ:
باب: سجدوں میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ ".
وکیع نے شعبہ سے ، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور کوئی شخص اس طرح اپنے بازور ( زمین پر ) نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ " وَلَا يَتَبَسَّطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ ".
محمد بن جعفر اور خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے ۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے : ’’کوئی شخص تکلف کر کے اپنے بازو اس طرح نہ بچھائے جس طرح کتا بچھاتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، عَنْ إِيَادٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَجَدْتَ، فَضَعْ كَفَّيْكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ ".
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیاں ( زمین پر ) رکھو اور اپنی کہنیاں اوپر اٹھاؤ
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى، فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ".
بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن ملک سے ، جو ابن بحینہ رضی اللہ عنہ ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح کھول دیتے ( اپنے پہلوؤں سے الگ کر لیتے تھے ) یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ كلاهما، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، كَانَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَجَدَ، يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ، حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا سَجَدَ، فَرَّجَ يَدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ".
عمرو بن حارث اور لیث بن سعد دونوں نے جعفر بن ربیعہ سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ حدیث ) بیان کی ۔ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ جب سجدہ فرماتے تو سجدے میں اپنے بازو ( اس طرح ) پھیلا لیتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی ۔ اور لیث کی روایت میں ہے : رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ بغلوں سے جدا ر کھتے حتیٰ کہ میں آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَجَدَ، لَوْ شَاءَتْ بَهْمَةٌ، أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ ".
سفیان بن عیینہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم سے ، انہوں نے اپنے چچا یزید بن اصم سے ، انہوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہﷺ سجدہ کرتے توبکری کا بچہ اگر آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا توگزر سکتا تھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَجَدَ، خَوَّى بِيَدَيْهِ، يَعْنِي جَنَّحَ، حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ، وَإِذَا قَعَدَ، اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ".
مروان بن معاویہ فزاری نے ہمیں خبر دی ، کہا : عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم نے یزید بن اصم سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان فاصلہ کرتے ، ان کا مطلب تھا انہیں پھیلا لیتے یہاں تک کہ پیچھے سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی اور جب بیٹھتے تو بائیں ران پر اطیمنان سے بیٹھتے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَجَدَ، جَافَى، حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ "، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بَيَاضَهُمَا.
وکیع نے کہا : ہمیں جعفر بن برقان نے یزید بن اصم سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ جب سجدہ کرتے تو ( دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے ) دور رکھتے یہاں تک کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ سکتا تھا ۔ وکیع نے کہا : ( وضح سے ) مراد بغلوں کی سفیدی ہے ۔
|
|
|
46: باب مَا يَجْمَعُ صِفَةَ الصَّلاَةِ وَمَا يُفْتَتَحُ بِهِ وَيُخْتَمُ بِهِ وَصِفَةَ الرُّكُوعِ وَالاِعْتِدَالِ مِنْهُ وَالسُّجُودِ وَالاِعْتِدَالِ مِنْهُ وَالتَّشَهُّدِ بَعْدَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الرُّبَاعِيَّةِ وَصِفَةَ الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَفِي التَّشَهُّدِ الأَوَّلِ:
باب: نماز کی جامع صفت، اس کا افتتاح، اور اختتام رکوع وسجود کو اعتدال کے ساتھ ادا کرنے کا طریقہ، چار رکعات والی نماز میں سے ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دونوں سجدوں اور پہلے قعدے میں بیٹھنے کے طریقہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ، لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، لَمْ يَسْجُدْ، حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، لَمْ يَسْجُدْ، حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ: التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ، وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ: وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ.
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حسین معلم سے حدیث سنائی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ، ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، کہا : ہمیں حسین معلم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے بدیل بن میسرہ سے ، انہوں نے ابو جوزاء سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز کا آغاز تکبیر سے اور قراءت کا آغاز ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ سے کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ پشت سے اونچا کرتے اور نہ اسے نیچے کرتے بلکہ درمیان میں رکھتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدے میں نہ جاتے حتیٰ کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ( دوسرا ) سجدہ نہ کرتے حتیٰ کہ سیدھے بیٹھ جاتے ۔ اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے اور اپنا بایاں پاؤں بچھا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح ( دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے ) پچھلے حصے پر بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ انسان اپنے بازو اس طرح بچھا دے جس طرح درندہ بچھاتا ہے ، اور نماز کا اختتام سلام سے کرتے ۔
|
|
|
47: باب سُتْرَةِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَال الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ، مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، فَلْيُصَلِّ، وَلَا يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ ".
ابو احوص نے سماک ( بن حرب ) سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنا سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھتا رہے اور اس سے آگے سے گزرنے والے کی پروا نہ کرے ۔ ‘ ‘
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ، مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.
محمد بن عبد اللہ بن نمیر اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، اسحاق نے کہا : ’’عمر بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی ‘ ‘ اور ابن نمیر نے کہا : ’’ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ انہوں نے سماک سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز پڑھ رہے ہوتے اور جاندار ہمارے سامنے گزرتے ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی شخص کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں ۔ ‘ ‘ ابن نمیر نے ، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی ، کے بجائے ’’ تو جو کوئی بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں ، کے الفاظ بیان کیے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؟ فَقَالَ: مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ".
۔ سعید بن ابی ایوب نے ابو اسود سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’پالان کی پچھلی لکڑی کے مثل ہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؟ فَقَالَ: كَمُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ".
حیوہ نے ابو اسود محمد بن عبد الرحمن سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ سے غزوہ تبوک میں نمازی کے سترے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’پالان کی پچھلی لکڑی کے مانند ہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ، أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ، فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ، اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ ".
عبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہﷺ عید کے دن نکلتے تو نیزے کا حکم دیتے ، وہ آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا ، آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے ، سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے ، اس بنا پر حکام نے اس ( نیزہ گاڑنے ) کو اپنا لیا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَرْكُزُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " يَغْرِزُ الْعَنَزَةَ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا " زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَهِيَ الْحَرْبَةُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے استد ابن نمیر نے يركز اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے يغزر کا لفظ استعمال کیا ( دونوں کے معنیٰ ہیں : آپ گاڑتے تھے ۔ ) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : عبید اللہ نے کہا : اس ( عنزة ) سے مراد حربة ( برچھی ) ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا ".
معتمر بن سلیمان نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ( بوقت ضرورت ) اپنی سواری کو سامنے کر کے ( بٹھا لیتے اور ) اس کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھ لیتے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ ".
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ( کبھی کبھی ) اپنی سواری کو سامنے رکھتے ہوئے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ اور ( محمد ) بن نمیر نے کہا : نبی اکرمﷺ نے اونٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ( قبلہ رو ہو کر ) نماز پڑھی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ، فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ، هَا هُنَا، وَهَهُنَا، يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا، يَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ، لَا يُمْنَعُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ".
۔ سفیان نے بیان کیا : ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد ( حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں مکہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں ( قیام پذیر ) تھے ۔ ( ابو جحیفہ نے ) کہا : بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے ( بعد ازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو ) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے ( دوسرے سے اس کی ) نمی لے لی ۔ انہوں نے کہا : پھر نبی اکرمﷺ سرخ حلہ ( لباس کے اوپر لمبا چوغہ ) پہنے ہوئے نکلے ، ( ایسا لگتا ہے ) جیسے ( آج بھی ) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ آپ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی ، انہوں نے کہا : میں بھی ان کے منہ پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا ، ( جب ) وہ حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا ، کہا : پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہری کی دو رکعتیں ( قصر ) پڑھائیں ، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزر تا تھا ، انہیں روکا نہ جاتا تھا ، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ " رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وَضُوءًا، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِكَ الْوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا، تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ، أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، فَصَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَة ".
۔ عمر بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے رسول اللہﷺ کو چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا ( کہا : ) اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ آپ کے وضو کا پانی باہر لے آئے تو میں نے دیکھا لوگ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو اس سے نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھ کے ہاتھ کی نمی سے نمی حاصل کر لی ، پھر میں نے بلال کو دیکھا انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور کو گاڑ دیا ، رسول اللہﷺ سرخ حلہ پہنے ہوئے نکلے جو آپ نے پنڈلیوں تک اونچا کیا ہوا تھا ، آپ نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو نیزے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ: فَلَمَّا كَانَ بِالْهَاجِرَةِ، خَرَجَ بِلَالٌ، فَنَادَى بِالصَّلَاةِ.
ابو عمیس نے اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحفہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سفیان اور عمرو بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے ۔ ان ( چاروں سفیان ، عمر ، ابو عمیس اور مالک ) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں ۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے : جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ، فَتَوَضَّأَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ "، قَالَ شُعْبَةُ: وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.
۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : سخت گرمی کے وقت رسول اللہﷺ بطحا کی طرف نکلے ، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا ۔ شعبہ نے کہا : عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ.
۔ ( عبد الرحمان ) بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں ( حکم اور عون کی ) دونوں سندوں کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے ( ابن مہدی ) نے حکم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی میں سے ( پانی ) لینے لگے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ، فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ ".
مالک نے ابن شاب سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں گدھی پر سوار ہو کر آیا ، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا ، رسول اللہﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: " أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ، فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ "،
۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، انہوں نے کہا : گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا ، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی ، کہا : نبی اکرمﷺ عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے ۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالبا منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کےلیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: مِنًى، وَلَا عَرَفَةَ، وَقَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ.
معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اوراس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے
|
|
|
48: باب مَنْعِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کے سامنے سے گزرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ".
عبد الرحمان بن ابی سعید نے ( اپنے والد ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اس کو ہٹائے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ‘ ‘ ( مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو اس گناہ سے ہر قیمت پر بچایا جائے اور نماز کی حرمت کا اہتمام کیا جائے ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ هِلَالٍ يَعْنِي حُمَيْدًا ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا، إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَرَأَيْتُ مِنْهُ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ، يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ، أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ فَنَظَرَ، فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا، إِلَّا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ، فَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ، أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الأُولَى، فَمَثَلَ قَائِمًا، فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ، فَخَرَجَ، فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ، قَالَ: وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: مَا لَكَ، وَلِابْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْكُوكَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ".
۔ ابن ہلال ، یعنی حمید نے کہا : ایک دن میں اور میرا ایک ساتھی ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ ابو صالح سمان کہنے لگے : میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے سنی اور ( ان کا عمل ) جو ان سے دیکھا ۔ کہا : ایک موقع پر ، جب میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کےساتھ تھا اور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف ( رخ کر کے ) ، جو انہیں لوگوں سے ستر ہ مہیا کر رہی تھی ، نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں ابو معیط کے خاندان کا ایک نوجوان آیا ، اس نے ان کے آگے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے اس کے سینے سے ( پیچھے ) دھکیلا ۔ اس نے نظر دوڑائی ، اسے ابو سعید رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ( گزرنے ) کے سوا کوئی راستہ نہ ملا ، اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے پہلی دفعہ سے زیادہ شدت کے ساتھ اس کے سینے سے پیچھے دھکیلا ، وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور ابو سعید رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ، پھر لوگوں کی بھیڑ میں گھستا ہوا نکل کر مروان کےسامنے پہنچ گیا اور جو ان کے ساتھ بیتی تھی اس کی شکایت کی ، کہا : ابو سعید رضی اللہ عنہ بھی مروان کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان سے کہا : آپ کا اپنے بھتیجے کا ساتھ کیا معاملہ ہے؟ وہ آ کر آپ کی شکایت کر رہا ہے ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کی اوٹ میں نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اس کے سینے سے دھکیلے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ یقیناً شیطان ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ "،
اسماعیل بن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان سے ، انہوں نے صدقہ بن یسار سے ، اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کی معیت میں ( اس کا ) ہمراہی ( شیطان ) ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بِمِثْلِهِ.
۔ ( ابن ابی فدیک کے بجائے ) ابو بکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی ( مذکورہ ) سند کےساتھ روایت کی کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ... آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ، مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؟ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ، مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ شَهْرًا، أَوْ سَنَةً،
۔ امام مالک کے ابو نضر سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو جہیم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تھا؟ ابو جہیم رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کس قدر ( گناہ ) ہے تو اسے چالیس ( سال ) تک کھڑے رہنا ، اس کے آگے گزرنے سے بہتر ( معلوم ) ہو ۔ ‘ ‘ ابو نضر نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے چالیس دن کہا یا ماہ یا سال ۔ ( مسند بزار میں چالیس سال کے الفاظ ہیں ۔)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ ، مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.
سفیان نے ابو نضر سالم سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے ( انہیں ) ابو جہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ( تاکہ پوچھے ) کہ آپ نے نبی اکرمﷺ کو کیا فرماتے سنا .... پھر ( سفیان نے ) مالک کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔
|
|
|
49: باب دُنُوِّ الْمُصَلِّي مِنَ السُّتْرَةِ:
باب: جائے نماز کا سترہ کے قریب ہونا۔
|
|
|
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: " كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ الْجِدَارِ، مَمَرُّ الشَّاةِ ".
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے سجدے کی جگہ اور دیوار کی درمیان بکری گزرنے کے برابر فاصلہ تھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ الأَكْوَعِ ، " أَنَّهُ كَانَ يَتَحَرَّى مَوْضِعَ مَكَانِ الْمُصْحَفِ يُسَبِّحُ فِيهِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَتَحَرَّى ذَلِكَ الْمَكَانَ، وَكَانَ بَيْنَ الْمِنْبَرِ، وَالْقِبْلَةِ، قَدْرُ مَمَرِّ الشَّاةِ ".
۔ حماد بن مسعدہ نے یزید بن ابی عبید سے اور انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ ( سلمہ رضی اللہ عنہ ) کوشش کر کے ( مسجد نبوی میں ) اس جگہ نفلی نماز پڑھتے جہاں مصحف ( رکھا ہوا ) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اسی جگہ کی کوشش فرماتے تھے اور ( یہاں ) منبر اور قبلے کی دیوار کے درمیان بکری کے راستے کے برابر فاصلہ تھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا، قَالَ: " كَانَ سَلَمَةُ ، يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ، أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الأُسْطُوَانَةِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا ".
۔ مکی ( بن ابراہیم ) نے کہا : ہمیں یزید بن ابی عبید نے خبر دی ، انہوں نے کہا : حضرت سلمہ ( بن اکوع ) رضی اللہ عنہ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کی جستجو کرتے جو مصحف کے پاس تھا ۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو اس کے قریب نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے دیکھا ہے
|
|
|
50: باب قَدْرِ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّيَ:
باب: نمازی سترہ کتنی مقدار کا رکھے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ، إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ، الْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ "، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ، مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ، مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ "،
۔ یونس نے حمید بن ہلال سے ، انہوں نے عبد اللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابو ذر ( غفاری ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو گی تو وہ اسے سترہ مہیا کرے گی ، اور جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو گی تو گدھا ، عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو قطع کریں گے ۔ ‘ ‘ میں نے کہا : اے ابو ذر! سیاہ کتے کی لال کتے یا زرد کتے سے تخصیص کیوں ہے؟ انہوں نے کہا : بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا : ’’ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق أَيْضًا، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَ بْنَ أَبِي الذَّيَّالِ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِ.
سلیمان بن مغیرہ ، شعبہ ، جریر ، سلم بن ابو ذیال اور عاصم احول سب نے حمید بن ہلال سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کی مانند حدیث بیان کی ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ عورت ، گدھا اور کتا نماز قطع کر دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اسے بچاتی ہے ۔ ‘ ‘
|
|
|
51: باب الاِعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کے سامنے لیٹنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ ".
زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے ، میں جنازے کی طرح آپ کے اور قبلے کے درمیان چوڑائی میں لیٹی ہوتی تھی
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ كُلَّهَا، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، أَيْقَظَنِي، فَأَوْتَرْتُ ".
۔ ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ رات کو اپنی پوری نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ وتر پڑھنا چاہتے ، مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھ لیتی
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ ، " مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، فَقَالَتْ إِنَّ الْمَرْأَةَ لَدَابَّةُ سَوْءٍ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ، وَهُوَ يُصَلِّي ".
ابو بکر بن حفص نے عروہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کون سی چیز نماز قطع کر دیتی ہے؟ تو ہم نے کہا : عورت اور گدھا ۔ اس پر انہوں نے کہا : عورت برا چوپایہ ہے! میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے چوڑائی رخ جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح قَالَ الأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ: " قَدْ شَبَّهْتُمُونَا بِالْحَمِيرِ وَالْكِلَابِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي، وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدُو لِي الْحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ، فَأُوذِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَيْهِ ".
اعمش نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابراہیم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اسود سے اور اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ اعمش نے ( مزید ) کہا : مجھے مسلم بن صبیح نے مسروق سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، ان کے سامنے ان چیزوں کا تذکرہ کیا گیا جو نماز قطع کرتی ہیں ( یعنی ) کتا ، گدھا اور عورت ۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے مشابہ بنا دیا ہے! اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ میں چار پائی پر آپ کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی ، مجھے ضرورت پیش آتی تو میں بیٹھ کر رسول اللہﷺ کو تکلیف دینا پسند نہ کرتی ، اس لیے میں اس ( چار پائی یا بستر ) کے پایوں ( والی جگہ کی طرف ) سے کھسک جاتی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ، فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَهُ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ، حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي ".
منصور نے ابراہیم ( نخعی ) سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : تم نے ہمیں کتوں اورگدھوں کے برابر کر دیا ہے ، حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ( اس طرح ) دیکھا ہے کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوتی تھی ، رسول اللہﷺ تشریف لاتے اور چارپائی کے وسط میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ، میں آپ کے سامنے ہونا پسند نہ کرتی ، اس لیے میں چار پائی کے پایوں کی طرف سے کھسکتی یہاں تک کہ اپنے لحاف سے نکل جاتی ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، قَالَتْ: وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ ".
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کے سامنے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ کے قبلے ( والے حصے ) میں ہوتے ، جب آپ سجدہ کرتے تو ( پاؤں پر ہاتھ لگا کر ) مجھے اشارہ کر دیتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سکیٹر لیتی اور جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں ان کو پھیلا لیتی ۔ انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا : گھر ان دنوں ایسے تھے کہ ان میں چراغ نہیں ہوتے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ جَمِيعًا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ ".
۔ نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سامنے ہوتی ، بسا اوقات آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے لگ رہا ہوتا
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ مِرْطٌ، وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ إِلَى جَنْبِهِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو کی جانب ہوتی ۔ مجھ پر چادر ہوتی اور اس چادر کا کچھ حصہ آپ کے پہلو ( کی طرف ) سے آپ پر ( بھی ) ہوتا ۔
|
|
|
52: باب الصَّلاَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ:
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان اور اس کے پہننے کا طریقہ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ سَائِلًا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَقَالَ: " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟! ".
۔ امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک سائل نے رسول اللہﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح قَالَ: وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
۔ یونس اور عقیل بن خالد دونوں نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے مانند روایت بیان کی
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَادَى رَجُلٌ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟! ".
۔ محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے نبی ﷺ کو پکار کر پوچھا : کیا ہم میں سے کوئی شخص صرف ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ ".
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر اس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔ ‘ ‘
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ "،
ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے
|
|
|
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: مُتَوَشِّحًا، وَلَمْ يَقُلْ: مُشْتَمِلًا.
۔ وکیع نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند سے حدیث سنائی ، ہاں یہ فرق ہے کہ اس نے متوشحا کہا مشتملا نہ کہا
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فِي ثَوْبٍ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ".
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ نے اس کے دونوں کناروں کو ادل بدل کر رکھا تھا ، یعنی دائیں کنارے کو بائیں طرف اور بائیں کنارے کو دائیں طرف لے گئے تھے
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُلْتَحِفًا، مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ "، زَادَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ: عَلَى مَنْكِبَيْهِ.
قتیبہ بن سعید اور عیسیٰ بن حماد نے کہا : ہمیں لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث سنائی انہوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اور انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا : آپ نے اس کو لپیٹا ہوا تھا اور اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈالا ہوا تھا ۔ عیسیٰ بن حماد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُتَوَشِّحًا بِهِ ".
۔ وکیع نے کہا : ہمیں سفیان نے ابو زبیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، آپ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹا ہوا تھا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، جَمِيعًا بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
۔ محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے عبد الرحمان سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( ابن نمیر اور عبد الرحمان ) نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے ، کہا : میں رسول اللہﷺ کے ہاں حاضر ہوا ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ حَدَّثَهُ، " أَنَّهُ رَأَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ، مُتَوَشِّحًا بِهِ، وَعِنْدَهُ ثِيَابُهُ، وَقَالَ جَابِرٌ ، إِنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَصْنَعُ ذَلِكَ.
عمرو نے کہا کہ ابو زبیر مکی نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ، وہ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹے ہوئے تھے اور ان کے پاس ان کے کپڑےموجود تھے اور جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسو ل اللہﷺ کو ایسے کرتے دیکھا ہے ۔
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ، يَسْجُدُ عَلَيْهِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُتَوَشِّحًا بِهِ "،
۔ عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ نبی اکرمﷺ کے ہاں حاضر ہوئے ، کہا : تو میں نے آپ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے دیکھا اس پر آپ سجدہ کرتے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا آپ ایک کپڑے میں اس کو پٹکے کی طرح لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح قَالَ: وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، وَرِوَايَةُ أَبِي بَكْرٍ، وَسُوَيْدٍ: مُتَوَشِّحًا بِهِ.
۔ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا ، نیز سوید بن سعید نے کہا : ہم سے علی بن مسہر نے روایت کی ، دونوں نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ۔ ابو کریب کی روایت میں ہے : آپ نے اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے ۔ اور ابو بکر اور سوید کی روایت میں ہے : آپ اس کو پٹکے کی طرح لپیٹے ہوئے تھے ۔
|
|