صحيح مسلم حدیث نمبر: 894
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 400.01
📖 صحيح مسلم باب:4 حدیث نمبر : 56
Sahih Muslim 894
کتاب #4: نماز کے احکام و مسائل
14: باب حُجَّةِ مَنْ قَالَ الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةَ:
باب: سورة براءت کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کی پہلی آیت کہنے والوں کی دلیل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ {1} فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ {2} إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ {3} سورة الكوثر آية 1-3"، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ، وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ؟، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ؟
علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ( الفاظ انہی کے ہیں ) علی بن مسہر سے روایت کی ، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا : ’’ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے پڑھا : ﴿ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴿﴾﴾ ’’بلاشبہ ہم آپ کو کوثر عطا کی ۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں ، یقیناً آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے کہا : ’’ کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں ۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا : اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے ۔ تو وہ فرمائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں ۔ ‘ ‘ ( علی ) ابن حجر نے اپنی حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور ( أحدثوا بعدك کی جگہ ) أحدث بعدك ’’اس نے نئی بات نکالی ‘ ‘ کہا ۔