صحيح مسلم حدیث نمبر: 1116
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 501.02
📖 صحيح مسلم باب:4 حدیث نمبر : 278
Sahih Muslim 1116
کتاب #4: نماز کے احکام و مسائل
47: باب سُتْرَةِ الْمُصَلِّي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَرْكُزُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " يَغْرِزُ الْعَنَزَةَ، وَيُصَلِّي إِلَيْهَا " زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَهِيَ الْحَرْبَةُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبید اللہ نے نافع سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نیزہ گاڑتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے استد ابن نمیر نے يركز اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے يغزر کا لفظ استعمال کیا ( دونوں کے معنیٰ ہیں : آپ گاڑتے تھے ۔ ) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے : عبید اللہ نے کہا : اس ( عنزة ) سے مراد حربة ( برچھی ) ہے ۔