صحيح مسلم حدیث نمبر: 1112
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 499.1
Sahih Muslim 1112
کتاب #4: نماز کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ، تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ، مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، اسحاق نے کہا: ”عمر بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی“ اور ابن نمیر نے کہا: ”ہمیں حدیث سنائی“، انہوں نے سماک سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز پڑھ رہے ہوتے اور جاندار ہمارے سامنے گزرتے، ہم نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے اس کا کوئی نقصان نہیں۔“ ابن نمیر نے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی، کے بجائے ”تو جو کوئی بھی اس کے سامنے سے گزرے گا اسے اس کا کوئی نقصان نہیں“ کے الفاظ بیان کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 1112]