صحيح مسلم حدیث نمبر: 1101
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 492
📖 صحيح مسلم باب:4 حدیث نمبر : 263
Sahih Muslim 1101
کتاب #4: نماز کے احکام و مسائل
44: باب أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: سجدوں کے اعضاء کا بیان، اور بالوں اور کپڑوں کے سمیٹنے کی ممانعت اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُصَلِّي، وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا، مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ ".
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبد اللہ بن حارث ( بن نوفل رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب ) کو نماز پڑھتے دیکھا ، ان کے سر پر پیچھے سے بالوں کو جوڑا بنا ہوا تھا ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اس کو کھولنے لگے ، جب ابن حارث نے سلام پھیرا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میرے سر کے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے ( میرے بال کیوں کھولے؟ ) انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’اس طرح ( جوڑا باندھ کر ) نماز پڑھنے والے کی مثال اس انسان کی طرح ہے جو اس حال میں نماز پڑھتا ہے کہ اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں ۔ ‘ ‘