صحيح مسلم حدیث نمبر: 1072
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 478
Sahih Muslim 1072
کتاب #4: نماز کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "،
ہشیم نے بشیر سے بیان کیا: ہمیں ہشام بن حسان نے قیس بن سعد سے خبر دی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات وملء الأرض وما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد، أهل الثناء والمجد، لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد。“ (اے اللہ، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے آسمان اور زمین بھر اور ان دونوں کے درمیان کی وسعت بھر اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر۔ اے تعریف اور بزرگی کے سزاوار! جو تو عنایت فرمائے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 1072]