جامع الترمذي حدیث نمبر: 3003
Jami at-Tirmidhi 3003
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شُجَّ فِي وَجْهِهِ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفِهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ، وَيَقُولُ: كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 "، سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: غَلِطَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہایا گیا ، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے ، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا ، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا ، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے : ” وہ امت کیسے فلاح یاب ہو گی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا ( برا ) سلوک کر رہے ہوں “ ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3003]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہوں نے اس حدیث کی روایت کرنے میں «ورمى رمية على كتفه» کی بابت غلطی کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (3002)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)