جامع الترمذي حدیث نمبر: 2994
Jami at-Tirmidhi 2994
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ أَيْضًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے ، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ” قاسم بن محمد “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ان کا ذکر صرف ” یزید بن ابراہیم تستری “ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے ، ¤ ۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں ، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2994]
💡 وضاحت:
۱؎: ”وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر، حالانکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا“ (آل عمرآن: ۷)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر آل عمران 1 (4547)، صحیح مسلم/العلم 1 (2665)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (47) (تحفة الأشراف: 17460)، و مسند احمد (6/48)، وسنن الدارمی/المقدمة 19 (147) (صحیح)