جامع الترمذي حدیث نمبر: 2997
Jami at-Tirmidhi 2997
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ، وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، فَقَالَ: " اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت : «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ۱؎ یا «من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا» ۲؎ نازل ہوئی ۔ اس وقت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس ایک باغ تھا ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے ، اگر میں اسے چھپا سکتا ( تو چھپاتا ) اعلان نہ کرتا ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2997]
💡 وضاحت:
۱؎: ”جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے“ (آل عمران: ۹۲)۔
۲؎: ”ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے“ (البقرہ: ۲۴۵)۔
۳؎: کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
۲؎: ”ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے“ (البقرہ: ۲۴۵)۔
۳؎: کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1482)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/الزکاة 44 (1461)، والوکالة 15 (2318)، والوصایا 17 (2758)، وتفسیر آل عمران 5 (4554)، والأشربة 13 (5611)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (998) (تحفة الأشراف: 704، و204) (صحیح)