جامع الترمذي حدیث نمبر: 2996
Jami at-Tirmidhi 2996
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا ، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا “ ۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! یہ حدیث میرے بارے میں ہے ۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک ( مشترک ) زمین تھی ، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا ، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا : ” تم قسم کھاؤ “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ۱؎ نازل فرمائی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2996]
💡 وضاحت:
۱؎: ”بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ (آل عمرآن: ۷۷)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2323)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1269 (صحیح)