جامع الترمذي حدیث نمبر: 2998
Jami at-Tirmidhi 2998
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، قَال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنِ الْحَاجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الشَّعِثُ التَّفِلُ "، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْعَجُّ وَالثَّجُّ "، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: مَا السَّبِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ الْمَكِّيِّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( واقعی ) حاجی کون ہے ؟ ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ حاجی جس کا سر گردوغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو ، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو “ پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : کون سا حج سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے ، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا ( خوب خوب ) خون بہایا جائے “ ۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( «من استطاع سبیلاً» میں ) «سبیل» سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” زاد راہ ( توشہ ) اور سواری “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے ، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2998]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، لكن جملة " العج والثج " ثبتت في حديث آخر، ابن ماجة (2896)، صحيح ابن ماجة برقم (2341)، ضعيف ابن ماجة (631)، الإرواء (988)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2998) ضعيف/ جه 2896، (تقدم 813) ¤ إبراھيم الخوزي: متروك الحديث (تقدم:813) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 813 (ضعیف جدا) (سند میں ابراہیم بن یزید خوزی سخت ضعیف ہے، لیکن العج والثج کا جملہ ابن ماجہ کی ایک حدیث سے ثابت ہے سنن ابن ماجہ: 2896)