جامع الترمذي حدیث نمبر: 3002
Jami at-Tirmidhi 3002
کتاب #48: کتاب: تفسیر قرآن کریم
4: باب وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ وَجْهُهُ شَجَّةً فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَنَزَلَتْ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چاروں دانت ( رباعیہ ) توڑ دیئے گئے ، اور پیشانی زخمی کر دی گئی ، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا ۔ آپ نے فرمایا : ” بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہو گی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے ، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو ۔ تو یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ۱؎ نازل ہوئی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 3002]
💡 وضاحت:
۱؎: ”اے نبی! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں“ (آل عمران: ۱۲۸)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 21 (تعلیقا في الترجمة) صحیح مسلم/الجھاد 38 (1791)، سنن ابن ماجہ/الفتن 23 (4027) (تحفة الأشراف: 787)، و مسند احمد (3/99، 178، 201، 206، 252، 288) (صحیح)