كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: ایمان و اسلام
|
1: باب مَا جَاءَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
باب: جب تک لوگ لا إلہ الا اللہ کہنے نہ لگ جائیں اس وقت تک مجھے ان سے جہاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " , وفي الباب عن جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ ( جہاد ) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں ، پھر جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیا ، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎ ، اور ان کا ( مکمل ) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر ، ابوسعید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2606]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی جان اور ان کا مال صرف اسی وقت لیا جائے گا جب وہ قول و عمل سے اپنے آپ کو اس کا مستحق اور سزاوار بنا دیں، مثلاً کسی نے کسی کو قتل کر دیا تو ایسی صورت میں مقتول کے ورثاء اسے قتل کریں گے یا اس سے دیت لیں گے۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے، اس کا مقصد دنیا سے تاریکی، گمراہی اور ظلم و بربریت کا خاتمہ ہے، ساتھ ہی لوگوں کو ایک اللہ کی بندگی کی راہ پر لگانا اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرنا ہے، دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ جو اسلام کو اپنے گلے سے لگا لے اس کی جان مال محفوظ ہے، البتہ جرائم کے ارتکاب پراس پر اسلامی احکام لاگو ہوں گے، وہ اپنے مال سے زکاۃ ادا کرے گا، کسی مسلمان کو ناجائز قتل کر دینے کی صورت میں اگر ورثاء اسے معاف نہ کریں اور نہ ہی دیت لینے پر راضی ہوں تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے ظاہری حالات کے مطابق اسلامی احکام کا اجراء ہو گا، اس کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح متواتر، ابن ماجة (71)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 102 (2946)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (2610)، سنن ابی داود/ الجھاد 104 (2640)، سنن النسائی/الجھاد 1 (3092)، سنن ابن ماجہ/الفتن 1 (3927) (تحفة الأشراف: 12506)، و مسند احمد (2/314، 377، 423، 439، 475، 482، 502، 528) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الزَّكَاةِ وَالصَّلَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَن الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عِمْرَانُ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ خَطَأٌ، وَقَدْ خُولِفَ عِمْرَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَعْمَرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا ، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا : آپ لوگوں سے کیسے جنگ ( جہاد ) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں : «لا إلہ الا اللہ» ، تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا ، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎ ، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے “ ، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا ، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ، قسم اللہ کی ! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ ( جہاد ) کروں گا ۔ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : قسم اللہ کی ! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا : اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے ، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے ، معمر نے زہری سے ، زہری نے انس بن مالک سے ، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے ، لیکن اس حدیث ( کی سند ) میں غلطی ہے ۔ ( اور وہ یہ ہے کہ ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2607]
💡 وضاحت:
۱؎: اب نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے قتل کیا جا سکتا ہے «حتى يقولوا لا إله إلا الله ويقيموا الصلاة» ”یہاں تک کہ وہ: «لا إلہ الا اللہ» کہیں، اور نماز قائم کریں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (407)، صحيح أبي داود (1391 - 1393)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 6 (1399)، و 40 (1475)، والمرتدین 3 (6924)، والإعتصام 2 (7284)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن ابی داود/ الزکاة 1 (1556)، سنن النسائی/الزکاة 3 (2445)، والجھاد 1 (3094، 3095)، والمحاربة 1 (3975) (تحفة الأشراف: 10666)، و مسند احمد (2/528) (صحیح)
|
|
|
2: باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِقِتَالِهِمْ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالِقَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا، وَيَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ " , وفي الباب عن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ هَذَا.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لوگ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ ( کر کے عبادت ) نہ کرنے لگیں ۔ ہمارا ذبیحہ نہ کھانے لگیں اور ہمارے طریقہ کے مطابق نماز نہ پڑھنے لگیں ۔ جب وہ یہ سب کچھ کرنے لگیں گے تو ان کا خون اور ان کا مال ہمارے اوپر حرام ہو جائے گا ، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎ ، انہیں وہ سب کچھ حاصل ہو گا ۲؎ جو عام مسلمانوں کو حاصل ہو گا اور ان پر وہی سب کچھ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو عام مسلمانوں پر عائد ہوں گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یحییٰ بن ایوب نے حمید سے اور حمید نے انس سے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں معاذ بن جبل اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2608]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ کوئی ایسا عمل کر بیٹھیں جس کے نتیجہ میں ان کی جان اور ان کا مال مباح ہو جائے تو اس وقت ان کی جان اور ان کا مال حرام نہ رہے گا۔
۲؎: یعنی جو حقوق و اختیارات اور مراعات عام مسلمانوں کو حاصل ہوں گے وہ انہیں بھی حاصل ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (303 - 1 / 152)، صحيح أبي داود (2374)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 28 (392)، سنن ابی داود/ الجھاد 104 (2641)، سنن النسائی/تحریم الدم (المحاربة) 1 (3971)، والإیمان 15 (5006) (تحفة الأشراف: 706)، و مسند احمد (3/199، 224) (صحیح)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ
باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : ( ۱ ) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، ( ۲ ) نماز قائم کرنا ، ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) رمضان کے روزے رکھنا ، ( ۵ ) بیت اللہ کا حج کرنا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے کئی سندوں سے مروی ہے ، اسی طرح یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2609]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (781)، إيمان أبي عبيد (2)، الروض النضير (270)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفہ الأشراف: 7344) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2609M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (781)، إيمان أبي عبيد (2)، الروض النضير (270)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفہ الأشراف: 7344) (صحیح)
|
|
|
4: باب مَا جَاءَ فِي وَصْفِ جِبْرِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الإِيمَانَ وَالإِسْلاَمَ
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ كَهْمَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوُ هَذَا، عَنْ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ هُوَ ابْنُ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ.
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے تقدیر کے انکار کی بات کی وہ معبد جہنی ہے ، میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں ( سفر پر ) نکلے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے ، ہم نے ( آپس میں بات کرتے ہوئے ) کہا : کاش ہماری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی شخص سے ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے اس نئے فتنے کے متعلق پوچھیں جو ان لوگوں نے پیدا کیا ہے ، چنانچہ ( خوش قسمتی سے ) ہماری ان سے یعنی عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے کہ جب وہ مسجد سے نکل رہے تھے ، ملاقات ہو گئی ، پھر میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا ۱؎ میں نے یہ اندازہ لگا کر کہ میرا ساتھی بات کرنے کی ذمہ داری اور حق مجھے سونپ دے گا ، عرض کیا : ابوعبدالرحمٰن ! کچھ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن میں غور و فکر اور تلاش و جستجو ( کا دعویٰ ) بھی کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود وہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے ، اور امر ( معاملہ ) از سرے نو اور ابتدائی ہے ۲؎ ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا : جب تم ان سے ملو ( اور تمہارا ان کا آمنا سامنا ہو ) تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے بری ( و بیزار ) ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھاتا ہے عبداللہ ! ( یعنی اللہ کی ) اگر ان میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو جب تک وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا اس کا یہ خرچ مقبول نہ ہو گا ، پھر انہوں نے حدیث بیان کرنی شروع کی اور کہا : عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اسی دوران ایک شخص آیا جس کے کپڑے بہت زیادہ سفید تھے ، اس کے بال بہت زیادہ کالے تھے ، وہ مسافر بھی نہیں لگتا تھا اور ہم لوگوں میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا کر بیٹھ گیا پھر کہا : اے محمد ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کے رسولوں پر ، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ “ ۔ اس نے ( پھر ) پوچھا : اور اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکاۃ دینا ، بیت اللہ شریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا “ ، اس نے ( پھر ) پوچھا : احسان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو تو ان تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اللہ کو دیکھنے کا تصور اپنے اندر پیدا نہ کر سکو تو یہ یقین کر کے اس کی عبادت کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “ ، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جواب پر کہتا جاتا تھا کہ آپ نے درست فرمایا ۔ اور ہم اس پر حیرت کرتے تھے کہ یہ کیسا عجیب آدمی ہے کہ وہ خود ہی آپ سے پوچھتا ہے اور خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کی تصدیق بھی کرتا جاتا ہے ، اس نے ( پھر ) پوچھا : قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا : ” جس سے پوچھا گیا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا “ ، اس نے کہا : اس کی علامت ( نشانی ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس وقت حالت یہ ہو گی کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ۳؎ ، اس وقت تم دیکھو گے کہ ننگے پیر چلنے والے ، ننگے بدن رہنے والے ، محتاج بکریوں کے چرانے والے ایک سے بڑھ کر ایک اونچی عمارتیں بنانے میں فخر کرنے والے ہوں گے “ ، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس واقعہ کے تین دن بعد ملے تو آپ نے فرمایا : ” عمر ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ پوچھنے والا کون تھا ؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے ۔ تمہارے پاس تمہیں دین کی بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2610]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک ان کے داہنے ہو گیا اور دوسرا ان کے بائیں۔
۲؎: ”اور امر (معاملہ) از سرے نو اور ابتدائی ہے“ کا مطلب یعنی جب کوئی چیز واقع ہو جاتی ہے تب اللہ کو اس کی خبر ہوتی ہے، پہلے سے ہی کوئی چیز لکھی ہوئی اور متعین شدہ نہیں ہے۔ ۳؎: یعنی لونڈی زادی مالکہ بن جائے گی اور جسے مالکہ کے مقام پر ہونا چاہیئے وہ لونڈی کے مقام ودرجہ پر پہنچا دی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (63)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ كَهْمَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوُ هَذَا، عَنْ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ هُوَ ابْنُ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ.
اس سند سے بھی عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2610M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (63)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ كَهْمَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوُ هَذَا، عَنْ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّحِيحُ هُوَ ابْنُ عُمَرَ , عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ.
اس سند سے بھی عمر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ متعدد سندوں سے ابن عمر سے بھی اسی طرح مروی ہے ، ¤ ۳- کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ یہ حدیث ابن عمر کے واسطہ سے آئی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، لیکن صحیح یہ ہے کہ ابن عمر روایت کرتے ہیں ، عمر رضی الله عنہ سے اور عمر رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ¤ ۲- اس باب میں طلحہ بن عبیداللہ ، انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2610M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (63)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ فِي إِضَافَةِ الْفَرَائِضِ إِلَى الإِيمَانِ
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ , وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ أَيْضًا، وَزَادَ فِيهِ: " أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " , وَذَكَرَ الْحَدِيثَ , سَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَؤُلَاءِ الْفُقَهَاءِ الْأَشْرَافِ الْأَرْبَعَةِ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُتَيْبَةُ: كُنَّا نَرْضَى أَنْ نَرْجِعَ مِنْ عِنْدِ عَبَّادٍ كُلَّ يَوْمٍ بِحَدِيثَيْنِ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، انہوں نے آپ سے عرض کیا : ( اے اللہ کے رسول ! ) ہمارے اور آپ کے درمیان ربیعہ کا یہ قبیلہ حائل ہے ، حرمت والے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں ہم آپ کے پاس آ نہیں سکتے ۱؎ اس لیے آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جسے ہم آپ سے لے لیں اور جو ہمارے پیچھے ہیں انہیں بھی ہم اس کی طرف بلا سکیں ، آپ نے فرمایا : ” میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں ( ۱ ) اللہ پر ایمان لانے کا ، پھر آپ نے ان سے اس کی تفسیر و تشریح بیان کی «لا إلہ الا اللہ» اور «محمد رسول الله» “ کی شہادت دینا ( ۲ ) نماز قائم کرنا ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( خمس ) نکالنا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2611]
💡 وضاحت:
۱؎: حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان مہینوں کو چھوڑ کر باقی دوسرے مہینوں میں جنگ و جدال جاری رہتا تھا، اسی لیے قبیلہ عبدقیس کے وفد کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے مہینوں میں آپ تک نہ پہنچ سکنے کی معذرت کی اور آپ سے دین کی اہم اور بنیادی باتیں پوچھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح إيمان أبي عبيد ص (58 - 59)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1599 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ , وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ أَيْضًا، وَزَادَ فِيهِ: " أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " , وَذَكَرَ الْحَدِيثَ , سَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَؤُلَاءِ الْفُقَهَاءِ الْأَشْرَافِ الْأَرْبَعَةِ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيِّ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ قُتَيْبَةُ: كُنَّا نَرْضَى أَنْ نَرْجِعَ مِنْ عِنْدِ عَبَّادٍ كُلَّ يَوْمٍ بِحَدِيثَيْنِ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے ، ¤ ۲- شعبہ نے بھی اسے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے «أتدرون ما الإيمان شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله» ” کیا تم جانتے ہو ایمان کیا ہے ؟ ایمان یہ ہے : گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور گواہی دی جائے کہ میں اللہ کا رسول ہوں “ اور پھر پوری حدیث بیان کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2611M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح إيمان أبي عبيد ص (58 - 59)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1599 (صحیح)
|
|
|
6: باب مَا جَاءَ فِي اسْتِكْمَالِ الإِيمَانِ وَزِيَادَتِهِ وَنُقْصَانِهِ
باب: ایمان کے کامل ہونے اور اس میں کمی و زیادتی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَا نَعْرِفُ لِأَبِي قِلَابَةَ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَوَى أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ذَكَرَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ أَبَا قِلَابَةَ فَقَالَ: كَانَ وَاللَّهِ مِنَ الْفُقَهَاءِ ذَوِي الْأَلْبَابِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے زیادہ کامل ایمان والا مومن وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہو ، اور جو اپنے بال بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۲- اور میں نہیں جانتا کہ ابوقلابہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے ، ¤ ۳- ابوقلابہ نے عائشہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے اس حدیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں روایت کی ہیں ، ¤ ۴- اس باب میں ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2612]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان اور حسن اخلاق ایک دوسرے کے لیے لازم ہیں، یعنی جو اپنے اخلاق میں جس قدر کامل ہو گا اس کا ایمان بھی اتنا ہی کامل ہو گا، گویا ایمان کامل کے لیے بہتر اخلاق کا حامل ہونا ضروری ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے گھر والوں کے لیے جو سب سے زیادہ مہربان ہو گا وہ سب سے بہتر ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کسی میں کم اور کسی میں زیادہ ایمان پایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الصحيحة تحت الحديث (284) // ضعيف الجامع الصغير (1990) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2612) إسناده ضعيف ¤ أبو قلابة لم يسمع من عائشه رضي الله عنها وللحديث شواهد كثيرة دون قوله: ”والطفهم . . .“
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16195)، وانظر مسند احمد (6/47، 99) (ضعیف) (عائشہ رضی الله عنہا کی روایت سے اور ”وألطفهم بأهله“ کے اضافہ کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہے، کیوں کہ ابو قلابہ اور عائشہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: 284)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هُرَيْمُ بْنُ مِسْعَرٍ الْأَزْدِيُّ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَوَعَظَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِكَثْرَةِ لَعْنِكُنَّ، يَعْنِي: وَكُفْرِكُنَّ الْعَشِيرَ "، قَالَ: " وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذَوِي الْأَلْبَابِ وَذَوِي الرَّأْيِ مِنْكُنَّ "، قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِهَا وَعَقْلِهَا: قَالَ: " شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْكُنَّ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَنُقْصَانُ دِينِكُنَّ الْحَيْضَةُ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ الثَّلَاثَ وَالْأَرْبَعَ لَا تُصَلِّي " وفي الباب عن أَبِي سَعِيدٍ , وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو اس میں آپ نے لوگوں کو نصیحت کی پھر ( عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! تم صدقہ و خیرات کرتی رہو کیونکہ جہنم میں تمہاری ہی تعداد زیادہ ہو گی “ ۱؎ ان میں سے ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! ایسا کیوں ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارے بہت زیادہ لعن طعن کرنے کی وجہ سے ، یعنی تمہاری اپنے شوہروں کی ناشکری کرنے کے سبب “ ، آپ نے ( مزید ) فرمایا : ” میں نے کسی ناقص عقل و دین کو تم عورتوں سے زیادہ عقل و سمجھ رکھنے والے مردوں پر غالب نہیں دیکھا “ ۔ ایک عورت نے پوچھا : ان کی عقل اور ان کے دین کی کمی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم میں سے دو عورتوں کی شہادت ( گواہی ) ایک مرد کی شہادت کے برابر ہے ۲؎ ، اور تمہارے دین کی کمی یہ ہے کہ تمہیں حیض کا عارضہ لاحق ہوتا ہے جس سے عورت ( ہر مہینے ) تین چار دن نماز پڑھنے سے رک جاتی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2613]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہو گی، اس لیے اس سے بچاؤ کی صورتیں اپناؤ، اور صدقہ و خیرات یہ جہنم سے بچاؤ کا سب سے بہتر ذریعہ ہیں۔
۲؎: یہ تمہاری عقل کی کمی کی وجہ سے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (1 / 205)، الظلال (956)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 34 (80) (تحفة الأشراف: 12723)، و مسند احمد (2/373، 374) (صحیح)
|
|
|
قَالَ: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان کی تہتر شاخیں ( ستر دروازے ) ہیں ۔ سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور کر دینا ہے ، اور سب سے بلند «لا إلہ الا اللہ» کا کہنا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ایسے ہی سہیل بن ابی صالح نے عبداللہ بن دینار سے ، عبداللہ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- عمارہ بن غزیہ نے یہ حدیث ابوصالح سے ، ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ آپ نے فرمایا ہے ” ایمان کی چونسٹھ شاخیں ہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2614]
قال الشيخ الألباني:
(حديث: " الإيمان بضع وسبعون ... ") صحيح، (حديث: " الإيمان أربعة وستون بابا ") شاذ بهذا اللفظ (حديث: " الإيمان بضع وسبعون.... ")، ابن ماجة (57)، (حديث: " الإيمان أربعة وستون بابا ") // ضعيف الجامع الصغير (2303) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12854) (شاذ) (کیوں کہ پچھلی اصح حدیث کے مخالف ہے)
|
|
|
قَالَ: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اس سند سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ © ۱؎ : معلوم ہوا کہ عمل کے حساب سے ایمان کے مختلف مراتب و درجات ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان اور عمل ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2614M]
قال الشيخ الألباني:
(حديث: " الإيمان بضع وسبعون ... ") صحيح، (حديث: " الإيمان أربعة وستون بابا ") شاذ بهذا اللفظ (حديث: " الإيمان بضع وسبعون.... ")، ابن ماجة (57)، (حديث: " الإيمان أربعة وستون بابا ") // ضعيف الجامع الصغير (2303) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12854) (شاذ) (کیوں کہ پچھلی اصح حدیث کے مخالف ہے)
|
|
|
7: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ
باب: حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " , قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي بَكْرَةَ , وَأَبِي أُمَامَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء ( شرم اور پاکدامنی ) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور تاکید ) فرمایا : ” حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا ، ¤ ۳- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2615]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے حیاء کی فضیلت و اہمیت ثابت ہے، ایک باحیاء انسان اپنی زندگی میں حیاء سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے، کیونکہ حیاء انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (58)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 16 (24)، والأدب 77 (6118)، صحیح مسلم/الإیمان 12 (36)، سنن ابی داود/ الأدب 7 (4795)، سنن النسائی/الإیمان 27 (5036)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (58) (تحفة الأشراف: 6828)، وط/حسن الخلق 2 (10)، و مسند احمد (2/56، 147) (صحیح)
|
|
|
8: باب مَا جَاءَ فِي حُرْمَةِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، وَيُبَاعِدُنِي عَنِ النَّارِ، قَالَ: " لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ " ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، قَالَ ثُمَّ تَلَا: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 حَتَّى بَلَغَ يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 19، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ كُلِّهِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ قَالَ: " كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا " , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، ایک دن صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوا ، ہم سب چل رہے تھے ، میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے ، اور جہنم سے دور رکھے ؟ آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے ۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے ۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو ، زکاۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو ، اور بیت اللہ کا حج کرو “ ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے ( راستے ) نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے ، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز ( تہجد ) پڑھنا “ ، پھر آپ نے آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» کی تلاوت «يعملون» تک فرمائی ۱؎ ، آپ نے پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں دین کی اصل ، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں ؟ “ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ اللہ کے رسول ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا : ” دین کی اصل اسلام ہے ۲؎ اور اس کا ستون ( عمود ) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے “ ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے نبی ! پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی ، اور فرمایا : ” اسے اپنے قابو میں رکھو “ ، میں نے کہا : اللہ کے نبی ! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس پر پکڑے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہاری ماں تم پر روئے ، معاذ ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ یا نتھنوں کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے ؟ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2616]
💡 وضاحت:
۱؎: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، وہ خرچ کرتے ہیں، کوئی نفس نہیں چاہتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیدہ کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔ (السجدہ: ۱۶- ۱۷)
۲؎: یہاں اسلام سے مراد کلمہ شہادتین کا اقرار اور اس کے تقاضے کو پورا کرنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3973)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفتن 12 (3973) (تحفة الأشراف: 11311) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ سورة التوبة آية 18 " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر وأقام الصلاة وآتى الزكاة» الآية ” اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، نمازوں کے پابندی کرتے ہیں ، زکاۃ دیتے ہیں ، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں “ ( سورۃ التوبہ : ۱۸ ) “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2617]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (802) // ضعيف سنن ابن ماجة (172)، المشكاة (723)، ضعيف الجامع الصغير (509)، وسيأتي برقم (601 / 3304) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المساجد 18 (802) (تحفة الأشراف: 4050) (ضعیف) (سند میں دراج ابوالسمح ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
9: باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الصَّلاَةِ
باب: نماز چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " , حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ , وَقَالَ: " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کفر اور ایمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2618]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفر اور بندے کے مابین حد فاصل نماز ہے، اگر نماز ادا کرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، بصورت دیگر کافر ہے، صحابہ کرام کسی نیک عمل کو چھوڑ دینے کو کفر نہیں خیال کرتے تھے، سوائے نماز کے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کی اکثریت پنج وقتہ نماز کی پابند نہیں ہے اور نہ ہی اسے پورے طور پر چھوڑنے والی بلکہ کبھی پڑھ لیتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے، یہ ایسے لوگ ہیں جن میں ایمان و نفاق دونوں موجود ہیں، ان پر اسلام کے ظاہری احکام جاری ہوں گے، کیونکہ عبداللہ بن ابی جیسے خالص منافق پر جب یہ احکام جاری تھے تو نماز سے غفلت اور سستی برتنے والوں پر تو بدرجہ اولیٰ جاری ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1078)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 35 (82)، سنن ابی داود/ السنة 15 (4678)، سنن النسائی/الصلاة 8 (465)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 77 (1078) (تحفة الأشراف: 2303)، و مسند احمد (3/370) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. وَقَالَ: "بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ أَوِ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ.
جابر رضی الله عنہ سے اس سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندے اور شرک یا بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2619]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (2618)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ.
جابر رضی الله عنہ سے اس سند بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندے اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2620]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (2619)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 2746) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ " , وفي الباب عن أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے ۱؎ تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2621]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں گے ہم ان پر اسلام کے احکام جاری رکھیں گے، اور جب نماز چھوڑ دیں گے تو کفار کے احکام ان پر جاری ہوں گے، کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، اور جب نماز چھوڑ دی تو گویا معاہدہ ختم ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1079)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الصلاة 8 (464)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 77 (1079) (تحفة الأشراف: 1960)، و مسند احمد (5/346، 355) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت أَبَا مُصْعَبٍ الْمَدَنِيَّ , يَقُولُ: مَنْ قَالَ الْإِيمَانُ قَوْلٌ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا ضُرِبَتْ عُنُقُهُ.
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ( رضی الله عنہم ) نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ میں نے ابومصعب مدنی کو کہتے ہوئے سنا کہ جو یہ کہے کہ ایمان صرف قول ( یعنی زبان سے اقرار کرنے ) کا نام ہے اس سے توبہ کرائی جائے گی ، اگر اس نے توبہ کر لی تو ٹھیک ، ورنہ اس کی گردن مار دی جائے گی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2622]
قال الشيخ الألباني:
صحيح صحيح الترغيب (1 / 227 / 564)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي في المراسیل) (صحیح)
|
|
|
10: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ( اور خوش ) ہوا اس نے ایمان کا مزہ پا لیا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2623]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو اللہ ہی سے ہر چیز کا طالب ہوا، اسلام کی راہ کو چھوڑ کر کسی دوسری راہ پر نہیں چلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر اس نے عمل کیا تو ایسے شخص کو ایمان کی مٹھاس مل کر رہے گی، کیونکہ اس کا دل ایمان سے پر ہو گا، اور ایمان اس کے اندر پورے طور پر رچا بسا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 11 (34) (تحفة الأشراف: 5127)، و مسند احمد (1/208) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس میں تین خصلتیں ہوں گی اسے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت مل کر رہے گی ۔ ( ۱ ) جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں ۔ ( ۲ ) وہ جس کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے ، ( ۳ ) کفر سے اللہ کی طرف سے ملنے والی نجات کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اس طرح ناپسند کرے جس طرح آگ میں گرنا ناپسند کرتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- قتادہ نے بھی یہ حدیث انس کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2624]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4033)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 9 (16) و 14 (21)، والأدب 42 (6041)، ووالإکراہ 1 (6941)، صحیح مسلم/الإیمان 15 (43)، سنن النسائی/الإیمان 2 (4990)، و 3 (4991)، سنن ابن ماجہ/الفتن 23 (4033) (تحفة الأشراف: 946)، و مسند احمد (3/103، 114، 172، 174، 230، 248، 275، 288) (صحیح)
|
|
|
11: باب مَا جَاءَ لاَ يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ
باب: زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَكِنِ التَّوْبَةَ مَعْرُوضَةٌ " , وفي الباب عن ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَدْ رُوِيَ عَنْ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ عَادَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ " , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا: خَرَجَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْإِسْلَامِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فِي الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ مَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَةُ ذَنْبِهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ "، رَوَى ذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَخُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ۱؎ اور جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا ، لیکن اس کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس سند سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس ، عائشہ اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس کے اندر سے نکل کر اس کے سر کے اوپر چھتری جیسا ( معلق ) ہو جاتا ہے ، اور جب اس فعل ( شنیع ) سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے “ ۔ ابو جعفر محمد بن علی ( اس معاملہ میں ) کہتے ہیں : جب وہ ایسی حرکت کرتا ہے تو ایمان سے نکل کر صرف مسلم رہ جاتا ہے ۔ علی ابن ابی طالب ، عبادہ بن صامت اور خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا اور چوری کے سلسلے میں فرمایا : ” اگر کوئی شخص اس طرح کے کسی گناہ کا مرتکب ہو جائے اور اس پر حد جاری کر دی جائے تو یہ ( حد کا اجراء ) اس کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا ۔ اور جس شخص سے اس سلسلے میں کوئی گناہ سرزد ہو گیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو وہ اللہ کی مشیت پر منحصر ہے اگر وہ چاہے تو اسے قیامت کے دن عذاب دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2625]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زنا کے وقت مومن کامل نہیں رہتا، یا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ عمل زنا کو حرام سمجھتا ہے تو اس کا ایمان جاتا رہتا ہے، پھر زنا سے فارغ ہونے کے بعد اس کا ایمان لوٹ آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3936)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 30 (2475)، والأشربة 1 (5578)، والحدود 2 (6772)، و20 (6810)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (57)، سنن ابی داود/ السنة 16 (4689)، سنن النسائی/قطع السارق 1 (4886)، والأشربة 42 (5675) (تحفة الأشراف: 12539)، و مسند احمد (2/243، 376، 386، 479) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کر دی اور اس سے درگزر کر دیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہی اہل علم کا قول ہے ۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے ، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2626]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2604) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (567) مع اختلاف في اللفظ، ضعيف الجامع الصغير (5423)، المشكاة (3629) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2626) إسناده ضعيف/ جه 2604 ¤ أبو إسحاق عنعن (تقدم:107)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحدود 33 (2604) (تحفة الأشراف: 10313) (ضعیف) (سند میں حجاج بن محمد المصیصی اگرچہ ثقہ راوی ہیں، لیکن آخری عمر میں موت سے پہلے بغداد آنے پر اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، اور ابواسحاق السبیعی ثقہ لیکن مدلس اور مختلط راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)
|
|
|
12: باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمُسْلِمَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ" , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (حديث مرفوع) وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ" , وفي الباب عن جَابِرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان ( کامل ) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مومن ( کامل ) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر ، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے ( بھی ) احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا : سب سے بہتر مسلمان کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2627]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، المشكاة (33 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (549)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الإیمان 8 (4998) (تحفة الأشراف: 12864)، و مسند احمد (2/379) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، .
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں کون سا مسلمان سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ ( کے شر ) سے مسلمان محفوظ رہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صحیح غریب حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2628]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو مكرر (2632)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2504 (صحیح)
|
|
|
13: باب مَا جَاءَ أَنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا
باب: اسلام اجنبی بن کر آیا پھر اجنبی بن جائے گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " , وفي الباب عن سَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ: عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا ، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا ، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد ، ابن عمر ، جابر ، اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ، جانتا ہوں ، ¤ ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے ، ¤ ۵- ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2629]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے، لیکن خوشخبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کر کے جان و مال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3988)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفتن 15 (3988) (تحفة الأشراف: 9510)، و مسند احمد (1/398)، وسنن الدارمی/الرقاق 42 (2797) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مِلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا، وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الْأُرْوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَيَرْجِعُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ایک وقت آئے گا کہ ) دین اسلام حجاز میں سمٹ کر رہ جائے گا جس طرح کہ سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اور یقیناً دین حجاز میں آ کر ایسے ہی محفوظ ہو جائے گا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر محفوظ ہو جاتی ہے ۱؎ ، دین اجنبی حالت میں آیا اور وہ پھر اجنبی حالت میں جائے گا ، خوشخبری اور مبارک بادی ہے ایسے گمنام مصلحین کے لیے جو میرے بعد میری سنت میں لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح کرتے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2630]
💡 وضاحت:
۱؎: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بارش کا بادل پہاڑ کی نچلی سطح پر ہوتا ہے تو بکری پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنے کو بارش سے بچا لیتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بکری پہاڑ کی نشیبی سطح پر ہو اور برساتی پانی کا ریلا آ کر اسے بہا لے جائے اور مار ڈالے اس ڈر سے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اس طرح کی مصیبتوں اور ہلاکتوں سے اپنے کو محفوظ کر لیتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا الصحيحة تحت الحديث (1273)، المشكاة (170) // ضعيف الجامع الصغير (1441) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2630) إسناده ضعيف جدًا ¤ كثير بن عبدالله: ضعيف متروك (تقدم: 490)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10778) (ضعیف جدا) (سند میں کثیر بن عبداللہ سخت ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
14: باب مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ الْمُنَافِقِ
باب: منافق کی پہچان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ: نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَصْبَحِيُّ الْخَوْلَانِيُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منافق کی نشانیاں تین ہیں : ( ۱ ) جب بات کرے تو جھوٹ بولے ( ۲ ) جب وعدہ کرے تو وعدے کی خلاف ورزی کرے ( ۳ ) اور جب اسے امانت سونپی جائے تو اس میں خیانت کرے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث علاء کی روایت سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں ابن مسعود ، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2631M]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ایک منافق کی جو خصلتیں بیان ہوئی ہیں، بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی اکثریت اس عملی نفاق میں مبتلا ہے، مسلمان دنیا بھر میں جو ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اس میں ان کے اسی منافقانہ کردار اور اخلاق و عمل کا دخل ہے، منافق وہ ہے جو اپنی زبان سے اہل اسلام کے سامنے اسلام کا اظہار کرے، لیکن دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد رکھے، یہ اعتقادی نفاق ہے، وحی الٰہی کے بغیر اس کا پہچاننا اور جاننا ناممکن ہے، حدیث میں مذکورہ خصلتیں عملی نفاق کی ہیں، اعتقادی نفاق کفر ہے، جب کہ عملی نفاق کفر نہیں ہے تاہم یہ بھی بہت خطرناک ہے جس سے بچنا چاہیئے، رب العالمین مسلمانوں کو ہدایت بخشے۔ آمین
قال الشيخ الألباني:
صحيح إيمان أبي عبيد ص (95)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 14341) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ: نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَصْبَحِيُّ الْخَوْلَانِيُّ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2631]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ایک منافق کی جو خصلتیں بیان ہوئی ہیں، بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی اکثریت اس عملی نفاق میں مبتلا ہے، مسلمان دنیا بھر میں جو ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اس میں ان کے اسی منافقانہ کردار اور اخلاق و عمل کا دخل ہے، منافق وہ ہے جو اپنی زبان سے اہل اسلام کے سامنے اسلام کا اظہار کرے، لیکن دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد رکھے، یہ اعتقادی نفاق ہے، وحی الٰہی کے بغیر اس کا پہچاننا اور جاننا ناممکن ہے، حدیث میں مذکورہ خصلتیں عملی نفاق کی ہیں، اعتقادی نفاق کفر ہے، جب کہ عملی نفاق کفر نہیں ہے تاہم یہ بھی بہت خطرناک ہے جس سے بچنا چاہیئے، رب العالمین مسلمانوں کو ہدایت بخشے۔ آمین
قال الشيخ الألباني:
صحيح إيمان أبي عبيد ص (95)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 14341) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ نِفَاقُ الْعَمَلِ، وَإِنَّمَا كَانَ نِفَاقُ التَّكْذِيبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , هَكَذَا رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ شَيْءٌ مِنْ هَذَا أَنَّهُ قَالَ: النِّفَاقُ نِفَاقَانِ: نِفَاقُ الْعَمَلِ، وَنِفَاقُ التَّكْذِيبِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ( مکمل ) منافق ہو گا ۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی ، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے : وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2632]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا عمل منافقوں جیسا ہے۔ اس کے عمل میں نفاق ہے، لیکن ہم اس کے منافق ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اسے اس کے ایمان میں جھوٹا ٹھہرا کر منافق قرار نہیں دے سکتے۔ ایسا تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب وحی تھے، وحی الٰہی کی روشنی میں آپ کسی کے بارے میں کہہ سکتے تھے کہ فلاں منافق ہے مگر ہمیں اور آپ کو کسی کے منافق ہونے کا فیصلہ کرنے کا حق و اختیار نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ نِفَاقُ الْعَمَلِ، وَإِنَّمَا كَانَ نِفَاقُ التَّكْذِيبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , هَكَذَا رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ شَيْءٌ مِنْ هَذَا أَنَّهُ قَالَ: النِّفَاقُ نِفَاقَانِ: نِفَاقُ الْعَمَلِ، وَنِفَاقُ التَّكْذِيبِ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس سے اہل علم کے نزدیک عملی نفاق مراد ہے ، نفاق تکذیب ( اعتقادی نفاق ) صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا ۱؎ ، ¤ ۳- حسن بصری سے بھی اس بارے میں کچھ اسی طرح سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : نفاق دو طرح کا ہوتا ہے ، ایک عملی نفاق اور دوسرا اعتقادی نفاق ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2632M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا عمل منافقوں جیسا ہے۔ اس کے عمل میں نفاق ہے، لیکن ہم اس کے منافق ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ اسے اس کے ایمان میں جھوٹا ٹھہرا کر منافق قرار نہیں دے سکتے۔ ایسا تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب وحی تھے، وحی الٰہی کی روشنی میں آپ کسی کے بارے میں کہہ سکتے تھے کہ فلاں منافق ہے مگر ہمیں اور آپ کو کسی کے منافق ہونے کا فیصلہ کرنے کا حق و اختیار نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ ( کسی عذر و مجبوری سے ) پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس کی اسناد قوی نہیں ہے ، ¤ ۳- علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں ، ابونعمان اور ابووقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2633]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (4881)، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2633) إسناده ضعيف / د 4995
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 90 (4995) (تحفة الأشراف: 3693) (ضعیف) (مولف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے)
|
|
|
15: باب مَا جَاءَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ
باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ " , وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2634]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وقد مضى (2066) سند آخر عنه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1983) (تحفة الأشراف: 9360) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: قِتَالُهُ كُفْرٌ لَيْسَ بِهِ كُفْرًا مِثْلَ الِارْتِدَادِ وَالْحُجَّةُ عَنِ الإِسْلامِ، فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ مُتَعَمَّدًا فَأَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا "، وَلَوْ كَانَ الْقَتْلُ كُفْرًا لَوَجَبَ الْقَتْلُ وَلَمْ يَصِحَّ الْعَفْوُ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ، وَفُسُوقٌ دُونَ فُسُوقٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے ، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں ۔ اگر یہ قتل کفر ( حقیقی ) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا ، ¤ ۴- ابن عباس ، طاؤس ، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے ، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2635]
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو مكرر الحديث (2066)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1983 (صحیح)
|
|
|
16: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ رَمَى أَخَاهُ بِكُفْرٍ
باب: اپنے مسلمان بھائی کو کافر ٹھہرانے والا کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَاعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎ ، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل ، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا ، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2636]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ میرے مریض کو شفاء دیدے تو فلاں غلام آزاد ہے، حالانکہ اس غلام کا وہ مالک نہیں ہے، معلوم ہوا کہ جو چیز بندہ کے بس میں نہیں ہے اس کی نذر ماننا صحیح نہیں اور ایسی نذر کا کچھ بھی اعتبار نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2098)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363)، والأدب 44 (6047)، و73 (6105)، والأیمان والنذور 7 (6652)، صحیح مسلم/الأیمان 47 (110)، سنن ابی داود/ الأیمان 9 (3257)، سنن النسائی/الأیمان 7 (3801، 3802)، و31 (3844) (تحفة الأشراف: 2062)، و مسند احمد (4/33، 34) (وانظر ماتقدم عند المؤلف برقم 1527) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ بْنِ أَنَسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا " , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَاءَ يَعْنِي: أَقَرَّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے ( گویا کہ ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کر لیا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- «باء» ، «أقر» کے معنی میں ہے ، یعنی اقرار کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2637]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ کسی مومن کو کافر، کافر ہی کہہ سکتا ہے، ایک مومن دوسرے مومن کو کافر نہیں کہہ سکتا، اگر کہتا ہے تو جس کو کہا ہے وہ حقیقت میں اگر کافر کہلانے کا مستحق ہے تو وہ کافر ہے، ورنہ کہنے والا اس کے سزا میں کفر کے وبال میں مبتلا ہو گا۔ اس لیے کوئی بات سوچ سمجھ کر اور زبان کو قابو میں رکھ کر ہی کہنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 73 (6104)، صحیح مسلم/الإیمان 26 (60) (تحفة الأشراف: 7233)، وط/الکلام 1 (1)، و مسند احمد (2/18، 44، 60) (صحیح)
|
|
|
17: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَمُوتُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
باب: موت کے وقت لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا لِمَ تَبْكِي؟ فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " , وفي الباب عن أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ سَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنْ عُذِّبُوا بِالنَّارِ بِذُنُوبِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُخَلَّدُونَ فِي النَّارِ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " , هَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ: رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ سورة الحجر آية 2 قَالُوا: إِذَا أُخْرِجَ أَهْلُ التَّوْحِيدِ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ.
صنابحی سے روایت ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے ، میں ( انہیں دیکھ کر ) رو پڑا ، انہوں نے کہا : ٹھہرو ٹھہرو ، روتے کیوں ہو ؟ قسم اللہ کی ! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں ( آخرت میں ) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا ، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا ۔ پھر انہوں نے کہا : قسم اللہ کی ! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کر دیا ہو ، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آ چکی ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو گواہی دے کہ کوئی معبود ( برحق ) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون ( قابل اعتماد ) ہیں ، ¤ ۳- صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں ( ابوعبداللہ کنیت ہے ) ، ¤ ۴- اس باب میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، جابر ، ابن عمر ، اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۵- زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : «من قال لا إله إلا الله دخل الجنة» ” جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہو گا “ کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ ) تو انہوں نے کہا : یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے ، ¤ ۶- بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید ( ہر حال میں ) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے ، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ۱؎ ، ¤ ۷- عبداللہ بن مسعود ، ابوذر ، عمران بن حصین ، جابر بن عبداللہ ، ابن عباس ، ابو سعید خدری ، انس بن مالک رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی “ ۲؎ ، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے ، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين» ” وہ بھی وقت ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے “ ( الحجر : ۲ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش ! وہ بھی مسلمان ہوتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2638]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر لامحالہ جنت میں جائیں گے اور ان کی آخری آرام گاہ جنت ہی ہو گی۔
۲؎: غالباً یہی وہ موحد لوگ ہوں گے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم کی سزائیں کاٹ کر جنت میں جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 10 (29) (تحفة الأشراف: 5099) (صحیح)
|
|
|
n
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے ( اس کے گناہوں کے ) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے ، ہر دفتر حد نگاہ تک ہو گا ، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا : کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے ؟ وہ کہے گا : نہیں اے میرے رب ! پھر اللہ کہے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ تو وہ کہے گا : نہیں ، اے میرے رب ! اللہ کہے گا ( کوئی بات نہیں ) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے ۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم ( و زیادتی ) نہ ہو گی ، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ لکھا ہو گا ۔ اللہ فرمائے گا : جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر ( کانٹے پر ) موجود رہو ، وہ کہے گا : اے میرے رب ! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو گی ۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا : پھر وہ تمام دفتر ( رجسٹر ) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں ، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے ، اور پرچہ بھاری ہو گا ۔ ( اور سچی بات یہ ہے کہ ) اللہ کے نام کے ساتھ ( یعنی اس کے مقابلہ میں ) جب کوئی چیز تولی جائے گی ، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہو سکتی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2639]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4300)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
n
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2639M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4300)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
18: باب مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ
باب: امت محمدیہ کی فرقہ بندی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً " , وفي الباب عن سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد ، عبداللہ بن عمرو ، اور عوف بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2640]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے، صرف ایک فرقہ جنتی ہو گا، امت کے یہ فرقے کون ہیں؟ صاحب تحفہ الأحوذی نے اس کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ فرق مذمومہ سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جو اہل حق سے اصول میں اختلاف رکھتے ہیں، مثلاً توحید، تقدیر، نبوت کی شرطیں اور موالات صحابہ وغیرہ، کیونکہ یہ ایسے مسائل ہیں جن میں اختلاف کرنے والوں نے ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے جب کہ فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرتے، جنتی فرقہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کتاب وسنت پر قائم رہنے والے اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (3991)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفتن 17 (3991) (تحفة الأشراف: 15082) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ بْنِ أَنْعَمُ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مُفَسَّرٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آ چکی ہے ، ( یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے ) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہو گا ، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون سی جماعت ہو گی ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث جس میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کے حدیث کے مقابلہ میں کچھ زیادہ وضاحت ہے حسن غریب ہے ۔ ہم اسے اس طرح صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2641]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (171 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (1348)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2641) إسناده ضعيف ¤ ابن أنعم الإفريقي ضعيف (تقدم:54) وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8864) (حسن) (تراجع الالبانی 249، والصحیحہ 1348)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا ( یعنی اپنے نور کا پر تو ) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہو گیا اور جس پر نور نہ پڑا ( تجاوز کر گیا ) تو وہ گمراہ ہو گیا ، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر ( تقدیر کا ) قلم خشک ہو چکا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2642]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہدایت و گمراہی کی پیشگی تحریر اللہ کے علم کے مطابق ازل میں لکھی جا چکی ہے، اس میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (101)، الصحيحة (1076)، الظلال (241 - 244)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: لم یذکرہ المزي)، و مسند احمد (2/176، 197) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا "، قَالَ: " فَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلَوْا ذَلِكَ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں “ ۔ ( پھر ) آپ نے کہا : ” کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2643]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4296)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 46 (2856)، واللباس 101 (5967)، والاستئذان 30 (6267)، والرقاق 37 (6500)، والتوحید 1 (7373)، صحیح مسلم/الإیمان 10 (30)، سنن ابن ماجہ/الزہد 35 (4296) (تحفة الأشراف: 11351) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، وَالْأَعْمَشِ، كُلُّهُمْ سَمِعُوا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا “ ، میں نے کہا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، ( اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ) ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2644]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی صورت یہ ہو گی کہ وہ زنا اور چوری کی اپنی سزا کاٹ کر اپنے موحد ہونے کے صلہ میں لامحالہ جنت میں جائے گا، یا ممکن ہے رب العالمین اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (826)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستقراض 3 (2388)، و بدء الخلق 6 (3222)، والاستئذان 30 (6268)، والرقاق 13 (6443)، و 14 (6444)، والتوحید 33 (7487)، صحیح مسلم/الإیمان 40 (94)، والزکاة 9 (94/32) (تحفة الأشراف: 11915)، و مسند احمد (5/159) (صحیح)
|
|